شاباک کا موبائل فون کے ذریعے صحافیوں کی جاسوسی کا اعتراف

اسرائیلی امور کے لیے سبسطیا ویب سائٹ کی طرف سے شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق شن بیٹ نے اس ڈیٹا کو نہ صرف سکیورٹی تحقیقات میں بلکہ مجرمانہ واقعات کی تحقیقات میں استعمال کیا۔

فاران: اسرائیلی جنرل سکیورٹی سروس (شن بیٹ) نے اعتراف کیا کہ اس نے موبائل فون کمپنیوں کے پاس موجود مواصلاتی ڈیٹا کے ذریعے صحافیوں کی جاسوسی کی ہے۔

اسرائیلی امور کے لیے سبسطیا ویب سائٹ کی طرف سے شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق شن بیٹ نے اس ڈیٹا کو نہ صرف سکیورٹی تحقیقات میں بلکہ مجرمانہ واقعات کی تحقیقات میں استعمال کیا۔

اس خلاف ورزی کا انکشاف صہیونی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے “اسرائیل میں شہری حقوق کی تنظیم” کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک درخواست کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

موبائل فون کا ڈیٹا ایک ذخیرہ میں محفوظ کیا جاتا ہے، جسے وہ “ٹول” کہتے ہیں۔ اس میں موجود معلومات میں وہ جگہیں شامل ہوتی ہیں جہاں صحافی رہا ہوتا ہے، اس کی گفتگو، ان کا دورانیہ اور دیگر معلومات ہوتی ہیں۔

درخواست کے ذریعے ایسوسی ایشن فار سول رائٹس نے شن بیٹ قانون کی ایک شق کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جو اسرائیلی موبائل فون کمپنیوں کو فون پر ہونے والی کسی بھی گفتگو یا پیغام کے بارے میں معلومات شن بیٹ کو دینے کا پابند کرتی ہے۔

شن بیٹ قانون 2002 میں نافذ کیا گیا تھا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے مشنز (جرائم) کو کنٹرول کرنے کے لیے موبائل فون سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہیں۔

’ایسوسی ایشن فار سول رائٹس کی پٹیشن‘ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شق میں آئینی خامیاں ہیں جس کی وجہ پرائیویسی کو نشانہ بنانے کے حوالے سے اس میں وضاحت نہیں کی گئی۔ یہ کہ یہ شق شن بیٹ کو جو اختیارات دیتی ہے وہ اسرائیل کی سلامتی کی ضروریات سے زیادہ ہے۔