گرتی ہوئی یہودی ریاست؛

صہیونیوں کی نصف آبادی اسرائیل کے مستقبل سے نا امید ہے

تازہ ترین سروے رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں بسنے والے صہیونی یہودی ریاست "اسرائیل" کے مستقبل سے نا امید اور اپنے مستقبل سے خوفزدہ ہیں۔

فاران: تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، صرف 49 فیصد صہیونی ایسے ہیں جو غاصب ریاست کے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں جبکہ 2012ع‍ میں انجام پانے والی رائے شماری کے مطابق غصب شدہ سرزمین میں رہنے والے 76 فیصد صہیونی اس ریاست کے مستقبل کے بارے میں پرامید تھے۔
“اسرائیلی ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ” کے زیر اہتمام ہونے والی اس رائے شماری سے معلوم ہوتا ہے کہ نصف سے زیادہ (51 فیصد) صہیونی آبادی اس ریاست کے مستقبل کے بارے میں خوف و تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دہائی کے دوران مقبوضہ اراضی میں آ بسنے والے غاصب صہیونی اپنی جعلی ریاست کے مستقبل سے ناامید ہو چکے ہیں۔
اس سروے رپورٹ کے نتائج اتوار (15 جنوری 2023ع‍) کو شائع ہوئے ہیں اور اس کے اعداد و شمار سے ماخوذہ عوامی اطلاعات میں 2003ع‍ سے لے کر 2022ع‍ تک کے حقائق کا جائزہ لیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، اس تحقیق میں غاصب ریاست کے آٹھ بنیادی اداروں پر عوامی عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے: فوج، پولیس، صدر، کابینہ، کنیسٹ (پارلیمان)، سیاسی جماعتیں، صہیونی ریاست کی عدالت عالیہ۔ یہ وہ آٹھ ادارے ہیں جن پر مقبوضہ فلسطین کے یہودی باشندوں کا اعتماد شدت سے گھٹ گیا ہے۔
صہیونی اداروں پر صہیونیوں کے اعتماد میں کمی آنے کا ایک بڑا سبب تل ابیب کی نئی کابینہ کے وزیر قانون کا پیش کردہ “بل برائے عدالتی اصلاحات”، ہے۔
نیز جعلی صہیونی ریاست کے صدر اسحاق ہرزوگ نے اتوار (15 جنوری) کو مقبوضہ فلسطین میں رہائش پذیر ایک لاکھ صہیونیوں کے احتجاجی مظاہرے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تباہ کن نتائج کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
آئی 24 چینل کے مطابق، اسحاق ہرزوگ نے “عدالتی اصلاحات” کے حوالے سے نئی کابینہ کے موقف اور اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اختلافات، ہماری قوم! کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرے گی”۔
ہرزوگ نے مقبوضہ قدس شریف میں واقع اپنی رہائش گاہ میں بات چیت کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطین کی سڑکوں پر رونما ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “ہم ایک عظیم اختلاف رائے کے چنگل میں گرفتار ہیں، یہ تنازعہ میری تشویش اور فکرمندی کا باعث بنی ہوئی ہے جیسا کہ پورے اسرائیل میں بہت سارے لوگ فکرمند ہیں”۔
صہیونی ریاست کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات میں شدت اس وقت آئی جب بنیامین نیتن یاہو کی سرکردگی میں نئی صہیونی کابینہ نے جنوری کے ابتدائی دنوں میں “عدالتی نظام کی اصلاح” کے عنوان سے ایک بل پیش کیا اور اب مخالف جماعتوں نے مقبوضہ فلسطین کے رہائشی صہیونیوں سے اپیل کی ہے کہ نیتن یاہود کی کابینہ گرانے کے لئے سڑکوں پر آکر احتجاج کریں۔
نیتن یاہو پر کئی برسوں سے بدعنوانی، رشوت ستانی اور امانت میں خیانت کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور اس کی نئی کابینہ کے تشدد پسند شرکاء کو بھی بدعنوانی اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے اور اب یہ سب مل کر اپنے مقرر کردہ وزیر قانون کی مدد سے عدالتی نظام کو بدلنا، اپنے اوپر لگے الزامات کو کالعدم کرانا اور عدلیہ کو مقننہ اور انتظامیہ کے تابع بنانا چاہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔