صہیونی ریاست صحافیوں کا قتل کرنے میں پہلے نمبر پر

قابض اسرائیلی ریاست صحافیوں کو قتل کرنے، ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

فاران: امریکا میں کاؤنٹر کرینٹس آرگنائزیشن نے ایک تفصیلی مطالعہ شائع کیا ہے جس میں اس نے واضح کیا ہے کہ قابض اسرائیلی ریاست صحافیوں کو قتل کرنے، ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

اس انتظام کے اندر اسرائیل صحافیوں کو قتل کرنے کے پیمانے پر پہلے نمبر پر آتا ہے۔ دوسرے عالمی ممالک کے مقابلے میں جو مسلسل جنگیں دیکھ رہے ہیں یا جن میں منشیات اور جرائم پیشہ گروہ سرگرم ہیں۔

اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ سالانہ 10 ملین باشندوں میں صحافیوں کی ہلاکت کی اوسط تعداد کی بنیاد پرمقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی نسل پرست حکومت کے ہاتھوں صحافیوں کا قتل دنیا میں سب سے زیادہ  اوریہ پوری دنیا کے مقابلے میں 73.4 گنا زیادہ ہے۔

سنہ 2000 سے لے کر اب تک غاصب صہیونی ریاست کئی صحافیوں کوان کے صحافتی کام کے دوران شہید کر چکی ہے۔ جن میں سے آخری صحافی غفران وراسنہ ہیں، جنہیں یکم جون کو العروب پناہ گزین کے قریب قابض فوجیوں نے گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔  قبل ازیں گیارہ مئی کو غرب اردن کے شمالی شہر جنین میں اسرائیلی فوج نے صحافی شیریں ابو عاقلہ کو پریس کوریج کے دوران گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔