طرطوس پر حملہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے ذریعے کیا گیا، ماسکو ذرائع

شامی حکومت نے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت اور اس کے علاقائی و مغربی اتحادی اُن دہشت گرد تکفیری گروہوں کی حمایت کرتے ہیں، جو شام میں حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

فاران: جمہوری عربی شام میں روسی مصالحتی مرکز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ روز ہفتے کی صبح صیہونی لڑاکا طیاروں نے شام کے بندرگاہی شہر طرطوس میں اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ روس کی وزارت دفاع نے اتوار کی صبح اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کے F-16 لڑاکا طیارے گذشتہ روز شام پر حملے کے ذمہ دار ہیں۔ اسی حوالے سے شام میں روس کے مصالحتی مرکز کے نائب نے کہا کہ ہفتے کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے بندرگاہی شہر طرطوس میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ بیان میں حملے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دو جولائی کو 06:30 سے ​​06:36 تک دریائے میڈیٹرانہ سے اسرائیل کے چار F-16 لڑاکا طیاروں نے چار گائیڈڈ میزائلوں کے ساتھ شام کے صوبہ طرطوس میں اپنے اہداف کو ٹارگٹ کیا۔ اس کے علاوہ شام کے سرکاری نیوز ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں دو شہری زخمی اور ایک خاتوں جاں بحق ہوگئی ہے جبکہ مالی نقصان کی بھی اطلاع ہے۔

شامی حکومت نے متعدد بار اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت اور اس کے علاقائی و مغربی اتحادی اُن دہشت گرد تکفیری گروہوں کی حمایت کرتے ہیں، جو شام میں حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ اب تک شامی فوج نے کئی مرتبہ شام میں مقیم دہشت گرد گروہوں سے اسرائیلی ساختہ اسلحہ اور گولہ و بارود کی کھیپ برآمد کی ہے۔ یاد رہے کہ صیہونی لڑاکا طیارے مسلسل لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یا مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے شام کے مشرق اور شمال مغرب میں اپنے اہداف پر میزائل حملے کرتے رہتے ہیں۔ لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) نے اس حوالے سے بارہا رپورٹ دی ہے کہ صیہونی حکومت روزانہ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پاوں تلے روندتی اور لبنان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتی ہے۔