عبرانی ذرائع ابلاغ: ہم نے حزب اللہ کے ڈرون سے شکست کھا لی

ایک عبرانی اخبار نے گزشتہ روز مقبوضہ علاقوں میں حزب اللہ کے ڈرون کو روکنے میں اسرائیلی فوج کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج سلامتی اور معیشت دونوں لحاظ سے ناکام ہو چکی ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: دی کالکالسٹ نے جمعہ کی شام کو اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج کی حزب اللہ لبنان کے ڈرون کو روکنے کی کوشش مہنگی پڑی ہے ۔
کالکالیسٹ اخبار نے اس بارے میں مزید لکھا: ” F-16 لڑاکا طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹر اور آئرن ڈوم میزائل لبنان سے اسرائیل میں دراندازی کرنے والے ڈرون کو روکنے میں ناکام رہے۔ کیلکالسٹ نے مزید کہا کہ یہ نااہلی، سیکورٹی کی ناکامی کے علاوہ، تل ابیب کی فوج کی اقتصادی ناکامی بھی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “حزب اللہ اور حماس میدان عمل میں بخوبی معروف ہیں، اور ان کا مقصد نہ صرف اسرائیل کی فضائی حدود کو پھاندنا ہے بلکہ وہ اسرائیل پر حملہ کرنے کا جائزہ لگا رہے ہیں۔
“اسرائیلی فضائیہ نے آئرن ڈوم فائر کو چالو کیا اور F-16s اور اپاچی ہیلی کاپٹروں سے فائر کئے لیکن وہ ڈرون کو لبنان واپس جانے سے نہیں روک سکے۔”
عبرانی اخبار نے مزید کہا: “یہ صرف نفسیاتی جنگ میں فتح نہیں ہے۔ گرچہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کو اس پر فخر ہے، اور اگر اس ڈرون کے پاس کیمرہ رہا ہو تو [سید حسن نصر اللہ] اس کی ویڈیو پر بھی فخر کریں گے۔” کالکالسٹ نے مزید کہا کہ یہ اسرائیل کی نئی جنگی معیشت میں ایک تشویشناک اقتصادی ناکامی بھی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے باضابطہ طور پر تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایک ڈرون مقبوضہ فلسطین کی حدود میں داخل ہوا ہے اور ساتھ ہی آئرن ڈوم کو فعال کر دیا گیا ہے۔ گھنٹوں بعد، فوج نے ایک دوسرے بیان میں باضابطہ طور پر اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام انٹرسیپٹرز (بشمول جنگجوؤں، ہیلی کاپٹروں اور آئرن ڈوم سمیت) استعمال کرنے کے باوجود ڈرون کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور یہ کہ ڈرون لبنان میں اپنے ٹھکانے میں بحفاظت واپس آ گیا ہے.

چند گھنٹوں کے بعد، حزب اللہ لبنان نے باضابطہ طور پر ایک بیان میں اس کارروائی کی ذمہ داری لیتے ہوئے اعلان کیا: “اسلامی مزاحمت نے آج بروز جمعہ، 02/18/2022، “حسان” نامی ڈرون کو مقبوضہ فلسطین کی سرزمین میں بھیجا۔ “حسان ڈرون نے 40 منٹ تک اپنے مشن کو انجام دیتے ہوئے معلومات اکٹھا کی اور اپنے ٹھکانے پر واپس آ گیا۔ ”
بیان میں مزید کہا گیا ہے: “طے شدہ مشن مقبوضہ فلسطین کے شمال میں 70 کلومیٹر تک کے فاصلے پر تھا۔ دشمن کی جانب سے اسے گرانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود حسان ڈرون مقبوضہ علاقوں سے بحفاظت واپس آگیا۔ ڈرون نے دشمن کی کارروائیوں سے متاثر ہوئے بغیر مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔”