عراق میں امریکہ کے خلاف منظم لہر

افغانستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کے خلاف آزادی پسند اور حق کے متلاشی گروہوں کی برسوں کی جدوجہد کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ فوجی، طاقت اور چالاکی کے ساتھ ممالک پر تسلط اور قبضہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ وہ لامحالہ قوموں کی مرضی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے اور اپنے اہداف و مقاصد سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

فاران: عراق کی قومی سلامتی کے مشیر قاسم العرجی نے تاکید کی ہے کہ “عراق کے تمام سیاسی دھڑے غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو ختم کرنے پر متفق ہیں۔” داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ کے خاتمے اور اس ملک کی پارلیمنٹ میں عراق سے تمام غیر ملکی فوجیوں کو نکالنے کے منصوبے کی منظوری کے بعد عراق میں امریکی فوجی موجودگی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے لیے بغداد اور واشنگٹن کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود، امریکی افواج اب بھی عراقی سرزمین میں اس قرارداد کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔

حالیہ برسوں میں عراقی عوام اور سیاسی جماعتوں نے بارہا اس ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلاء پر زور دیا ہے۔ اس وقت امریکی فوجی ایسے حالات میں عراق میں موجود ہیں کہ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان سابقہ ​​مذاکرات اور معاہدوں کے برعکس امریکی حکام اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے مکمل انکاری ہیں۔ ملک میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے بارے میں عراقی حکام کے تازہ ترین بیانات میں سے ایک اس ملک کے قومی سلامتی کے مشیر، قاسم الاعراجی ہیں، جنہوں نے ہفتے کے روز بغداد میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر کہا: “بین الاقوامی اتحاد کی افواج کی قیادت میں امریکہ مخصوص حالات میں ملک میں داخل ہوا تھا لیکن آج عوام اور سیاسی گروہ ان افواج کے انخلاء پر اصرار کر رہے ہیں۔

غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے خاتمے پر تمام عراقی سیاسی دھڑوں کا اتفاق
عراقی وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے کچھ عرصہ قبل میونخ سکیورٹی اجلاس کے موقع پر امریکی کانگریس کے چار اراکین سے ملاقات کے موقع پر اس بات پر زور دیا کہ عراق میں اتحادی افواج کی موجودگی خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے اور ان افواج کو جتنی جلدی ہوسکے، وہاں سے نکل جانا چاہیئے۔ گذشتہ ماہ عراق کی وزارت خارجہ نے عراق میں امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحادی افواج کی تعداد میں بتدریج کمی کے معاہدے کی تصدیق کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اس ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا تمام عراقی عوام اور گروہوں کی خواہش ہے۔

ایک عراقی تجزیہ کار “قاسم التمیمی” کا اس حوالے سے کہنا ہے: “عراقی مزاحمتی گروہوں کے مہلک حملوں کی وجہ سے امریکہ کو عراق سے انخلاء کے شیڈول کے بارے میں مجبوراً بات کرنا پڑی۔” اس تجزیہ نگار نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ 2011ء کے بعد داعش کے خلاف جنگ کے بہانے اور تکفیری دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے امریکی جارحیت پسند عراق میں واپس آئے تھے، اس تجزیہ نگار نے یہ بات زور دیکر کہی کہ عوام اور حکام کی چوکسی کی وجہ سے اب عراق میں امریکیوں کی واپسی کا اعادہ نہیں ہوگا۔”

اس عراقی تجزیہ کار نے مزید کہا: “ہم سب کو یقین ہو گیا ہے کہ داعش کو امریکہ نے عراق کو غیر محفوظ بنانے اور عراق میں امریکی افواج کے داخلے کی راہ ہموار کرنے کے لیے بنایا تھا اور عراق کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ امریکی قابض افواج دیگر غیر ملکی فوجی دستوں کے ہمراہ ایک نام نہاد بین الاقوامی اتحاد کے نام پر 2003ء سے عراق میں تعینات ہیں۔ ان کا سب سے بڑا اڈہ عین الاسد ہے، جو اس ملک کے مغرب میں واقع الانبار صوبے میں بنایا گیا ہے۔ صدام کی حکومت کا تختہ الٹنے اور داعش دہشت گرد گروہ کے خطرے کے خاتمے کو کئی سال گزر چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود تقریباً 2500 غیر ملکی فوجی اب بھی امریکہ کی قیادت میں عراق کے کچھ حصوں میں موجود ہیں اور اپنے جرائم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عراق میں امریکی افواج کے ایک تازہ ترین جرم میں، تقریباً دو ماہ قبل، ابوبکر السعدی کو مارا گیا، جو اس ملک میں مزاحمت کے کمانڈروں میں سے ایک تھے، اس دہشت گردانہ کارروائی کے بعد حالیہ ہفتوں میں عراق میں غیر ملکی افواج کی مسلسل موجودگی کے خلاف نفرت کی لہر مزید تیز ہوگئی ہے۔ اگرچہ عراق سے امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے انخلاء کے آغاز اور تکمیل کی تفصیلات ابھی تک شائع نہیں کی گئی ہیں، لیکن اس سلسلے میں بغداد کے ساتھ واشنگٹن کا حالیہ معاہدہ عراق میں قبضے کے مخالفین کے لیے ایک امید افزا خبر ہے۔

افغانستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کے خلاف آزادی پسند اور حق کے متلاشی گروہوں کی برسوں کی جدوجہد کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ امریکہ فوجی، طاقت اور چالاکی کے ساتھ ممالک پر تسلط اور قبضہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ وہ لامحالہ قوموں کی مرضی کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے اور اپنے اہداف و مقاصد سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ قوموں کا عزم اگر بالجزم ہو جائے اور وہ اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہوئے مسلسل ڈٹے رہیں تو سامراجی اور استکباری طاقتیں بالآخر پسپائی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ آج امت مسلمہ اگر اس راز کو جان لے تو غزہ سمیت جہاں کہیں بھی مظلوموں پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں، وہاں ظالم طاقتوں کے خلاف جدوجہد کامیاب ہوسکتی ہے۔ عراقی عوام بھی اگر غیر ملکی افواج کے سامنے ڈٹی رہی تو وہ دن دور نہیں، جب عراق سے بھی امریکیوں کو دم دبا کر بھاگنا پڑے۔