جہاد اسلامی تحریک کے راہنما؛

عرب حکومتوں نے نئی نسل کے شعور کو نشانہ بنا رکھا ہے

امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک عالم عرب کے بے انتہا وسائل اور سرمایوں پر قابض ہونے اور اس کی تاریخ اور ورثے پر تسلط پانے کے لئے کوشاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ عرب اور مسلم امت امریکی اور اسرائیلی ڈکٹیشن کے آگے گھٹنے ٹیک دے لیکن موجودہ مسلم اور عرب نسل امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں سرکش ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک (حرکۃ الجہاد الاسلامی فی فلسطین) کے ایک راہنما احمد المدلل کی العالم کے ساتھ بات چیت کا تیسرا حصہ:
بلاشبہ عالم عرب – بالخصوص عربوں کی موجودہ نسل – کو وسیع صہیو-امریکی سازشوں کا سامنا ہے، کچھ عرب نظام ہائے حکومت نے جدید نسل کی آگہی اور شعور کو نشانہ بنا رکھا ہے تا کہ یہ نسل ہتھیار ڈال دے اور ان کے عزائم کے سامنے سر تسلیم خم کریں اور مسئلۂ فلسطین کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔ عربی اور اسلامی شعور بہت بڑے حملے کا نشانہ بنا ہے تاکہ مسئلہ فلسطین کو فراموشی کے سپرد کیا جائے۔ لیکن اس کے باوجود ایسے دانا اور باشعور عربوں اور مسلمانوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اسلامی انقلاب کے عصر جدید کا انقلاب سمجھتے ہیں جس نے پورے علاقے میں عظیم تبدیلیوں کے اسباب فراہم کئے ہیں۔

۔خطے کی اگلی نسلوں پر اسلامی جمہوریہ کی طاقت اور محور مقاومت کی پیشرفت کے اثرات
امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک عالم عرب کے بے انتہا وسائل اور سرمایوں پر قابض ہونے اور اس کی تاریخ اور ورثے پر تسلط پانے کے لئے کوشاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ عرب اور مسلم امت امریکی اور اسرائیلی ڈکٹیشن کے آگے گھٹنے ٹیک دے لیکن موجودہ مسلم اور عرب نسل امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں سرکش ہے۔ اس نسل نے مسئلۂ فلسطین کے سلسلے میں عربی شعور و آگہی کی حفاظت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت اور محور مقاومت کی پیشرفت اور ترقی نے عالم عرب اور عالم اسلام کی اگلی نسل پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ یہ نسل ہرگز اجازت نہیں دے گی کہ ہماری دارالحکومتوں پر کوئی حملہ کرے اور ہمارے وسائل اور سرمایوں کو لوٹ کر لے جائے اور ہماری قوموں کو قتل کیا جائے، جیسا کہ یمن اور عرب دنیا کے دوسرے ممالک میں ہو رہا ہے۔ یہ نسل فلسطینی کاز اور محور مقاومت کی حمایت کے حوالے سے زبردست تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی، اور یہ ہماری اگلی نسل کی امید بھی ہے اور آرزو بھی۔

– تمام تر سازشوں کے باوجود ایران اب بھی مستحکم اور ثابت قدم ہے
اسلامی انقلاب کے اقدار کی تباہی کی غرض سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہونے والی سازشوں کے 43 سالہ عرصے کے بعد، ایران آج پہلے سے کہیں زیادہ ثابت قدمی اور مضبوطی کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایران اسی انداز سے جما رہے گا اور اس کے موقف میں کبھی بھی تبدیلی نہیں آئے گی؛ کیونکہ اسلامی جمہوریہ کے راہنما مسئلۂ فلسطین کی حمایت اور خطے کی مستضعف اقوام کو مدد پہنچانے پر تاکید کر رہے ہیں۔ ایران نہیں بدلے گا۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر ملت فلسطین یقین کامل رکھتی ہے۔ کیونکہ خدائے متعال ایران کی حفاظت فرماتا ہے، شہداء کا خون ایران کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایران نے شاہی استبدادیت سے چھٹکارا پانے کے لئے بےشمار شہیدوں کا نذرانہ دیا ہے، آج – عالم عرب اور اسلامی امت کے لئے روشن مستقبل کی فراہمی اور عرب اور اسلامی امت کے تمام طبقات اور گروہوں کے درمیان اتفاق اور یکجہتی پیدا کرنے کے لئے – ہماری امید اور ہمارا سہارا اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔

۔جوہری معاملے پر ایرانی مذاکرات کاروں کی عدیم المثال ثابت قدمی
ایران نے اپنے جوہری معاملے کے ذریعے تمام سازشی طاقتوں کو حیران و پریشان کرکے رکھا ہے۔ ایران نے جوہری معاملے میں اپنے حقوق کے حصول پر اپنا موقف کامیابی کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔ ایرانی رہنماؤں کا یہ اصرار اور یہ ثابت قدمی بلاشبہ مستقبل میں اس ملک کو ایک مختلف پوزیشن میں کھڑا کر دے گی اور مغرب اسی حقیقت سے خوفزدہ ہے۔ ایران امریکہ، مغربی ممالک اور عالمی استبدادیت کے سامنے طاقتور ترین ملک کے طور پر ابھرے گا۔ جوہری معاملے میں ایران کے مذاکرات کار بے مثل ثابت قدمی دکھائے ہوئے ہیں اور مغرب کبھی بھی ایران کے عزم اور ارادے کو نہیں توڑ سکا ہے۔