غاصب اسرائیل کے جرائم کا جواب ، ہمارا جائز حق ہے : فلسطینی استقامتی گروہوں کا اعلان

تحریک جہاد اسلامی فلسطین نے تل ابیب میں انجام پانے والے اس استقامتی کارروائی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن ان خونریزیوں اور قتل عام کا فطری جواب ہے جو غاصب صیہونی حکومت انجام دے رہی ہے۔

فاران: مشرقی تل ابیب کے بنی براک علاقے میں انجام پانے والی فلسطینی نوجوان کی استقامتی کارروائی پر فلسطینی گروہوں نے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کے جرائم کا جواب دینا فلسطینی عوام کا جائز حق ہے

فلسطین کے یوم الارض کے موقع پر فلسطینی نوجوان ضیا حمارشہ نے مشرقی تل ابیب کے بنی براک علاقے میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات استقامتی کارروائی انجام دے کر کم سے کم پانچ صیہونیوں کو ہلاک اور چھے دیگر کو زخمی کردیا۔ اس کارروائی پر سبھی فلسطینی گروہوں نے قابل مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائی فلسطینی عوام کا جائزاور قانونی حق ہے۔

تحریک جہاد اسلامی فلسطین نے تل ابیب میں انجام پانے والے اس استقامتی کارروائی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن ان خونریزیوں اور قتل عام کا فطری جواب ہے جو غاصب صیہونی حکومت انجام دے رہی ہے۔

فلسطینی استقامتی کمیٹی کے انفارمیشن سنٹر نے بھی تل ابیب کے علاقے بنی براک میں انجام پانے والی استقامتی کارروائی کی مبارکباد د پیش کرتے ہوئے اسے صیہونی حکومت کے سیکورٹی سسٹم کی تازہ ترین ناکامی قرار دیا۔

ڈیموکریٹک محاذ برائے آزادی فلسطین نے بھی ایک بیان میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غاصب صیہونی حکومت صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے کہا کہ یہ ملت فلسطین کا حق ہے کہ وہ اپنے حقوق، سرزمین اور مقدسات کا دفاع کرے۔

تحریک فتح کی فوجی ونگ شہدائے الاقصی بریگیڈ نے بھی ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ بنی براک میں شہادت پسندانہ کارروائی ملت فلسطین کے خلاف بیت المقدس کی غاصب حکومت کے جرائم کا فطری جواب ہے۔

فلسطینی استقامتی گروہوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ، فلسطین کے مظلوم عوام کے خلاف غاصبوں کے جرائم کا فطری جواب ہے۔ فلسطینی استقامتی گروہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ جب تک فلسطینی عوام کے خلاف صیہونیوں کے جرائم جاری رہیں گے اس وقت تک فلسطینی عوام کی صیہونیت مخالف کارروائیاں بھی جاری رہیں گی ۔

تل ابیب میں ایک فلسطینی نوجوان کی شہادت پسندانہ کارروائی کے بعد فلسطینی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور اس آپریشن کو بیت المقدس اور قیدیوں کی حمایت اور صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کے لئے عوامی تحریک کا آغاز قرار دیا۔

شمالی غرب اردن میں واقع شہر جنین کے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر اس کامیاب شہادت پسندانہ کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں ۔

شہادت پسندانہ کارروائی انجام دینے والے فلسطینی نوجوان کا تعلق شہر جنین سے ہے جنین کے قریب واقع یعبد دیہات کے باشندوں نے بھی ضیا حمارشہ کے مکان کے سامنے جمع ہوکراللہ اکبر کے نعرے لگائے اور ضیاء حمارشہ کے شہادت پسندانہ اقدام کو سراہا اور اس کی تعریف کی۔

میڈیا ذرائع نے بھی اعلان کیا ہے کہ تل ابیب میں شہادت پسندانہ کارروائی انجام پانے کے بعد غزہ پٹی کی مسجدوں سے بھی اللہ اکبر کے نعرے بلند کئے گئے اور پوری فضا نعرہ تکبیر سے گونجتا رہا۔

درایں اثنا صیہونی حکومت کے میڈیا ذرائع نے صیہونی حکام کے درمیان سخت خوف و ہراس اور تشویش پیدا ہونے کی خبردی ہے ۔ صیہونی میڈیا ذرائع کا کہنا ہےکہ تل ابیب کی سڑکوں پر خوف و ہراس اور بدامنی و افراتفری کا ماحول ہے۔