غاصب صہیونی رژیم کو درپیش چار سنگین خطرے

ممکن ہے غاصب صہیونی رژیم کے علاوہ کسی اور ملک میں یہ کوئی بڑا مسئلہ تصور نہ کیا جائے لیکن مقبوضہ فلسطین پر قابض اس رژیم کی بنیاد ہی فوجی طاقت کے زور پر رکھی گئی تھی اور اس کے بانیان نے درپیش خطرات میں سے سکیورٹی خطرات کو اہم ترین قرار دیا تھا۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: صہیونی اخبار ہارٹز نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں فلسطینی معاشرے کی جانب سے صہیونی رژیم کو درپیش سنگین خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے آغاز میں بحیرہ قلزم سے دریائے اردن تک کے مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں فلسطینیوں اور یہودیوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار بیان کئے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار گذشتہ دو برس کے دوران حاصل کئے گئے ہیں۔ اخبار اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ غاصب صہیونی رژیم کے دو حساس اداروں نے گذشتہ دو سالوں کے دوران مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں اور فلسطینیوں کی آبادی کے بارے میں دو غیر سرکاری رپورٹس شائع کی ہیں۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 2020ء میں مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں اور فلسطینیوں کی آبادی کے تناسب میں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

اخبار ہارٹز کے مطابق یہ تبدیلی انتہائی اہم اور اسٹریٹجک نوعیت کی ہے کیونکہ یوں دکھائی دیتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس تبدیلی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ فلسطینیوں میں بھی آبادی بڑھنے کی شرح کچھ کم ہوئی ہے لیکن مستقبل میں فلسطینیوں اور یہودیوں کی آبادی کے تناسب میں موجود فرق بڑھتا چلا جائے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طویل عرصے کے بعد عالمی برادری بھی اس فرق کو محسوس کر لے گی اور ایسی صورتحال میں غاصب صہیونی رژیم کیلئے مغربی کنارے کے وسیع علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ یاد رہے مغربی کنارے کا ایک حصہ غاصب صہیونی رژیم کے کنٹرول میں ہے جبکہ دوسرے حصے پر بھی صہیونی رژیم کا محدود تسلط پایا جاتا ہے۔

صہیونی اخبار ہارٹز اپنی رپورٹ میں مزید لکھتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں مقیم فلسطینیوں سے حاصل ہونے والی سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی شہریوں خاص طور پر جوانوں میں ایک ریاستی نظریہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جبکہ دو ریاستی نظریے کی مقبولیت اسی تیزی سے گرتی جا رہی ہے۔ فلسطینی جوان سمجھتے ہیں کہ دو ریاستی راہ حل آخرکار ناکامی کا شکار ہو کر متروک قرار پائے گا اور فلسطینیوں کو مکمل فتح حاصل ہو جائے گی۔ اسی طرح ان کی نظر میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی کے تناسب میں فرق غاصب صہیونی رژیم پر انتہائی شدید دباو کا باعث بنے گا اور یہ رژیم پیچھے ہٹنے اور عرب شہریوں کی اکثریت کے ساتھ سازباز کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

غاصب صہیونی رژیم کی مسلح افواج سے وابستہ تھنک ٹینک کے دو سابق سربراہوں نے مغربی کنارے میں ایک وسیع تحقیق انجام دی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ “حالیہ چند سالوں میں طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت یہودی بستیوں کی تعمیر، کھیتوں اور زراعتی زمینیں تیار کرنے اور موجودہ یہودی بستیوں کو وسعت دینے نے بعض نئے حقائق جنم دیے ہیں جن کے نتیجے میں آبادی کے دو حصوں کو ایکدوسرے سے علیحدہ کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔” صہیونی اخبار ہارٹز کے فوجی تجزیہ نگار عاموس ایریل کے بقول گذشتہ چند سالوں سے جاری اس صورتحال میں کوئی بھی میدان میں حاضر فوجی افسران کی رہنمائی نہیں کرتا۔ ایریل شیرون کی وزارت عظمی کے دور میں بنجمن نیتن یاہو اور نیفتلی بینت فلسطینیوں کے مقابلے میں سیاسی بحران کی صورتحال برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف تھے۔

غاصب صہیونی رژیم کو درپیش دوسرا سنگین خطرہ صہیونی کابینہ کی جانب سے عرب نشین علاقوں میں کسی قسم کی کوئی سرگرمی انجام نہ دینا ہے۔ صہیونی حکمران ایسے علاقوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے جہاں عرب فلسطینیوں کی اکثریت ہے اور اس پالیسی کے نتیجے میں گذشتہ ایک برس کے دوران شدید تناو کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ صہیونی اخبار ہارٹز کی نظر میں صہیونی رژیم کو درپیش تیسرا سنگین خطرہ فوج میں بھرتی کی خواہش رکھنے والے افراد کی تعداد میں کمی ہو جانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ صہیونی فوج کی طاقت بڑھانے کیلئے بھاری مقدار میں اخراجات انجام پاتے ہیں اور بہت بڑا بجٹ مخصوص کیا جاتا ہے لیکن جوانوں میں فوج میں بھرتی ہونے کا شوق پیدا نہیں ہو سکا۔ گذشتہ بیس برس کے دوران جوانوں میں فوج میں بھرتی ہونے کے شوق میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

ممکن ہے غاصب صہیونی رژیم کے علاوہ کسی اور ملک میں یہ کوئی بڑا مسئلہ تصور نہ کیا جائے لیکن مقبوضہ فلسطین پر قابض اس رژیم کی بنیاد ہی فوجی طاقت کے زور پر رکھی گئی تھی اور اس کے بانیان نے درپیش خطرات میں سے سکیورٹی خطرات کو اہم ترین قرار دیا تھا۔ لہذا ایسی صورتحال میں معاشرے میں موجود جوانوں میں فوج میں شامل ہونے کی رغبت کا نہ ہونا ایک حساس اور اسٹریٹجک مسئلہ بن سکتا ہے۔ ہارٹز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں 18 سالہ صہیونی جوانوں میں سے صرف 50 فیصد ہی اس ملٹری سروس کیلئے جاتے ہیں جو سب کیلئے لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں غاصب صہیونی رژیم کو درپیش چوتھا سنگین خطرہ “سائبر حملوں” کا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔