غرب اردن: عید کے پہلے دن یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پرحملے

مقامی ذرائع نے بتایا کہ الخلیل کے پرانے شہر کے جابر محلے پر قابض فوج کی حفاظت میں "کریات اربع" کے آباد کاروں کی طرف سے مسلسل حملے کیے جاتے ہیں۔

فاران: کل ہفتے کو فلسطین میں عیدالاضحیٰ کے پہلے روز یہودی آباد کاروں اور قابض فوج کی جانب سے نہتے فلسطینی شہریوں پر جگہ جگہ حملے کیے گئے۔ بعض مقامات پر فلسطینی نوجوانوں نے بھی قابض فوج اور آباد کاروں پرجوابی سنگ باری کی۔

الخلیل شہرمیں آباد کاروں کے ایک گروپ نے جابر محلے میں شہریوں پر حملہ کیا۔ اس دوران قابض فوجیوں نے شہریوں پر صوتی بموں اور زہریلی گیس کے بم پھینکے، اور آباد کاروں کو تحفظ فراہم کیا۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ الخلیل کے پرانے شہر کے جابر محلے پر قابض فوج کی حفاظت میں “کریات اربع” کے آباد کاروں کی طرف سے مسلسل حملے کیے جاتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے 17 سالہ لڑکے عامر عارف جابر کو جابر کے محلے میں اس کے خاندان کے گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد حراست میں لے لیا۔ اس سے پوچھ گچھ کی اور  اس کی جامع تلاشی لی۔

الخلیل شہر کو 50 سے زیادہ چوکیوں کی موجودگی کا سامنا ہے جن میں تقریباً تیس ہزار آباد کار رہتے ہیں۔ جو شہر پر جامع گرفت مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

بیت لحم میں قابض اسرائیلی فوج نے شہر کے جنوب میں بیت فجار قصبے کے داخلی دروازے پر ایک بچے کو اس بہانے سے اس کی قمیض اتارنے پر مجبور کیا کہ اس پر اسلحے کی تصویریں ہیں اور فلسطینی پرچم ضبط کر لیا۔

نابلس میں قابض فوج نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں تیسری دراندازی میں نابلس کے شمال میں واقع سیبسطیا میں آثار قدیمہ کے علاقے پر دھاوا بولا۔

پریس ذرائع کے مطابق علاقے کا محاصرہ کرنے کے بعد قابض فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوئیں اس دوران قابض فورسز نے آس پاس کے شہریوں کے گھروں پر زہریلی گیس کے کنستر برسائے۔

قلقیلیہ کے مشرق میں واقع گاؤں کفر قدوم میں، آبادکاری مخالف ہفتہ وار مارچ کے بعد جھڑپیں شروع ہوئیں۔

کارکنوں نے عیدالاضحی کے پہلے دن کفر قدوم میں شہریوں نے یہودی آباد کاری کے خلاف مزاحمت شروع کرنے کے ویڈیو کلپ شیئر کئے۔

نوجوانوں نے ربڑ کے ٹائر جلائے اور قابض افواج پر پتھر پھینکے۔ جولائی 2011 کے آغاز سے کفر قدوم نے گاؤں کی گلی کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہر جمعہ اور ہفتہ کے احتجاج مارچ کا اعلان کیا ہے۔