غزہ میں ہونے والے قتل عام اور خون خرابے کا امریکہ ذمہ دار ہے: روس

لاوروف نے کہا کہ مصر اور الجزائر سمیت روس اور عرب ممالک نے فلسطینیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، ان کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے اور اتحاد کی بحالی کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کی۔

فاران: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائی غزہ کی پٹی میں ہونے والی کارروائیوں سے کم خطرناک اور خوفناک نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ثالثی پر امریکہ کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں موجود صورت حال ہے۔

 

یہ بات لاوروف کی جانب سے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ فلسطینی دھڑوں کے اجلاس کے دوران کہی۔اس ملاقات میں قومی مفاہمت کے حصول کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

لاوروف نے کہا کہ مصر اور الجزائر سمیت روس اور عرب ممالک نے فلسطینیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، ان کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے اور اتحاد کی بحالی کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کی۔

 

روسی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ “غزہ کی پٹی میں تشدد کی بے مثال لہر امریکہ کی ثالثی کی کوششوں کی اجارہ داری کی وجہ سے تنازعے کے عمل میں طویل جمود کا نتیجہ ہے”۔

 

انہوں نے مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاں اسرائیلی فوجی آپریشن غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کم خطرناک اور خوفناک نہیں ہے‘‘۔