غزہ پر اسرائیلی یلغار اور ہمارا فریضہ ایمانی و انسانی

پچھلے تقریبا ۴۷ دنوں سے غزہ کے اوپر جس طرح ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اسے دیکھ کر ہر صاحب انسان خود سے سوال کر رہا ہے کیا یہ دنیا بے حس ہو چکی ہے کیا لوگوں کے پہلو میں دل کی جگہ پتھر ہے ؟ مسلسل چند ہفتوں سے شب و روز غزہ کے باشندوں پر موت برس رہی ہے ، ہر منٹ میں غزہ کے مظلوموں پر بم گرائے جا رہے ہیں ہر آن وہاں کے لوگ لاشیں اٹھا رہے ہیں ، اتنی لاشیں کہ کفن کی قلت ہے۔

فاران: اس نیلے آسمان کے نیچے جینے والے ہر انسان کی زندگی محترم ہے چاہے وہ کسی دین و مذہب سے متعلق کیوں نہ ہو ؟ ہر ایک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے یہ بھی مسلم ہے ، اب اگر کسی کی سرزمین پر کوئی قبضہ کر لے تو مظلوم و مقہور کو حق حاصل ہے اپنے حق کو واپس لینے کے لئے جو بن پڑے انجام دے ظاہر ہے دینی اصولوں میں بہمییت و حیوانیت کی جگہ نہیں ہے بچوں اور عورتوں کو مارنا دین کی نظر میں کسی بھی حیثیت سے کبھی درست نہیں رہا ، حالیہ مزاحمتی محاذ و اسرائیل کی جنگ میں ایسے الزامات تو مزاحمتی محاذ پربہت لگے کہ ان کی طرف سے سفاکانہ کاروائی ہوئی جس کی اسرائیل نواز میڈیانے خوب تشہیر بھی کی لیکن کوئی بھی پختہ ثبوت نہیں پیش کر سکا کہ عام شہریوں اور بچوں کی ہلاکت میں مزاحمتی محاذ کا ہاتھ تھا اس کے الٹ یہ خبریں ضرور کئی ہفتوں جنگ کے بعد لوگوں نے معتبر اخبارات کے ذریعہ پڑھیں کہ اسرائیل میں جاری فیسٹیول میں جو ہلاکتیں ہوئیں وہ ہیلی کاپٹر سے مزاحمتی محاذ کے جنگجووں کے بجائے عام شہریوں کو غلطی سے نشانہ بنانے کی بنیاد پر خود اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ہوئیں
جبکہ دوسری طرف ۱۴ ہزار سے زیادہ فلسطینی اسرائیلی کی سفاکانہ یلغار میں جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے روز ہی ایسی دلخراش تصاویر سامنے آ رہی ہیں جس میں ایک ہی دن میں کئی کئی بچوں کو اجتماعی قبور میں دفن کیا جا رہا ہے زخمی بچے زخموں کی تاب نہ لا کر تڑپ تڑپ کر اپنے ماں باپ کے ہاتھوں پر دم توڑ رہے ہیں لیکن اس سلسلہ سے اسرائیلی نواز میڈیا کچھ نہیں بول رہا ہے ایسے میں ہم سب پر لازم ہے کہ اپنے ایمانی فریضہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے ان بھائیوں حق میں آواز بلند کریں جو مظلوم و بے کس ہے جن کی آواز استعماری ڈھول تاشوں کے شور شرابے میں کہیں نہیں سنی جا رہی ہے ۔
پچھلے تقریبا ۴۷ دنوں سے غزہ کے اوپر جس طرح ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اسے دیکھ کر ہر صاحب انسان خود سے سوال کر رہا ہے کیا یہ دنیا بے حس ہو چکی ہے کیا لوگوں کے پہلو میں دل کی جگہ پتھر ہے ؟ مسلسل چند ہفتوں سے شب و روز غزہ کے باشندوں پر موت برس رہی ہے ، ہر منٹ میں غزہ کے مظلوموں پر بم گرائے جا رہے ہیں ہر آن وہاں کے لوگ لاشیں اٹھا رہے ہیں ، اتنی لاشیں کہ کفن کی قلت ہے ، روز اسپتال اور اسکول ویران ہو رہے ہیں حتی اب تو کلیسا بھی محفوظ نہیں ، قدیمی کلیسا تک کو ویران کر دیا گیا اسرائیل کی طرف سے روز ہی اسپتالوں کو خالی کرنے کی وارننگ دی جا رہی ہے ، الشفا اسپتال تو قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ ایک انسانی آبادی کو چاروں طرف سے گھیر کر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسلامی ممالک اپنے تعلقات بھنانے میں لگے ہیں ہر ایک کو فکر ہے دنیا کی سپر پاور سے معاملات نہ بگڑیں غزہ ویران ہوتا ہے تو ہو جائے ، ماوں کی کو کھ اجڑتی ہے تو اجڑ جائے بچوں کے لاشوں کو دفنانے کے بعد کوئی زیر آسان ان ہاتھوں کی لرزش کو نہیں دیکھتا جو سب کچھ چھن جانے کے بعد بھی اپنے رب کے حضور اٹھتے ہیں کبھی دشمنوں کے سامنے جان و مال کی بھیک مانگنے کے لئے نہیں اٹھتے کاش مغربی طاقتوں کے سامنے کاسہ گدائی لئیے یہ عرب کے شیوخ کچھ غزہ کے مظلوموں اور محروموں سے ہی سیکھ لیتے ، اللہ پر بھروسہ کرتے اور اپنی غیرت کا سودا نہ کرتے ، کتنی عجیب بات ہے یہ لوگ اتنا مادیت میں غرق ہیں کہ اپنے خون میں غلطاں فلسطین کے انہیں نظر نہیں آ رہے ہیں ، یہ اتنا اپنے محلوں میں محو استراحت ہیں کہ انہیں غزہ کے ویرانوں میں زندگی کی امید پر اپنوں کے تلاش کرنے والوں کی مظلومیت نظر نہیں آتی ۔ اگر ان ۵۷ ملکوں میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو کبھی ایسا نہ ہوتا کہ غزہ کے مظلوموں کو امریکہ و اسرائیل گھیر کر مارتے مساجد کو ویران کرتے ، اسکولوں کو تباہ کرتے اسپتالوں کو ملبوں کے ڈھیر میں بدل کر لاشوں پہ لاشے بچھانے کی جرات رکھتے ، افسوس یہ مسلمان اپنے تعلقات کو بچانے کے لئے سپر پاور سے اپنے مراسم کو بچانے کے لئے فلسطین کے بچوں کی لاشوں پر سے گزرنے میں عار محسوس نہیں کرتے ۔ آخر ان مسلمانوں کی قومی غیرت کو کیا ہو گیا ہے جن کے تعلیمات میں کسی بھائی کا زخم دیکھ کر فریاد نہ کرنے کا مطلب اسلام سے دست برداری ہے ، جنکی تعلیمات میں مظلوموں اور ضعیفوں اور کمزوروں کی مدد ہے ۔ کتنی عجیب بات ہے پورے مسلمانوں سے گھرا ایک ملک ایک مسلمان خطے کو گھیر کر اس کے باشندوں کو مار رہا ہے اور مسلمان خاموش ہیں اگر کوئی بول رہا ہے تو بس وہی جسکا تعلق اسلامی انقلاب اور اس کے برکات و آثار سے ہے اس کے علاوہ ہر طرف ایک ہوکا عالم ہے لیکن کیا عرب رسیاستوں کا یہ سکوت ہمارے لئے خاموشی کا جواز ہے ؟
یہاں پر سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے کیا ہم یہ کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے دامن چھڑا سکتے ہیں کہ جب عرب ریاستیں کچھ نہیں کر رہی ہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں ، جب ایک ہی خطے و ایک ہی زبان کے حامل لوگ ایک دوسرے کے درد کو نہیں سمجھ رہے تو ہم تو خیر دور کے ٹہرے ۔ یقینا اگر ہمارے وجود کے اندر اسلامی تعلیمات رچی بسی ہیں تو ہم اپنا دامن اپنی ذمہ داریوں کو دوسرے کی گردن پر ڈال کر خود کو نہیں بچا سکتے اب سوال یہی ہے کہ پھر ہم کیا کریں۔
ہمارا ایمانی فریضہ :
جو کچھ گزشتہ چند دنوں سے غزہ و فلسطین میں ہورہا ہے غزہ میں بمباری کے ساتھ فلسطین کے مختلف علاقوں میں جس طرح اسرائیل بے گناہوں کو راست فائرنگ کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار رہا ہے ، اس سے ہر ایک صاحب احساس بے چین و پریشان ہے؟ کہیں جغرافیائی حدود مانع ہیں تو کہیں حکومتوں کی پالسییاں آڑے آتی ہیں, کہیں نوکر پیشہ افراد ہیں تو کہیں بزنس و تجارت کی مصروفیتوں میں گھرے لوگ۔ ایسے میں بہت سے دردمند لوگ بس اسرائیل کے مظالم کے سامنے پیچ و تاب کھا کر اپنا دل مسوس کر دہ جاتے ہیں اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں, البتہ اتنا تو طے ہے کہ ہم دنیا میں رہنے والے ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھ سکتے کہ یہ بات ہماری تعلیمات کے خلاف ہے۔ اب ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا کر سکتےہیں؟ ہم کیا کریں اسکے لئے یوں تو سوچ بچار کے ذریعہ بہت سی راہوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن سر دست ہم محض دو اہم نکتوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو شاید موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مناسب ہیں اور ہم سب
انکو انجام دینے کی پوزیشن میں ہیں:

1۔ فلسطینی مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار اور کھل کر انکی حمایت کا اعلان:
یہ ہمارا ایمانی اور انسانی فریضہ ہے کہ ہم فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں ، اپنی حمایت کا اعلان کریں ، دشمن ہمیں ڈرانا چاہتا ہے اگر ہم ڈر کر خاموش بیٹھ گئے اور لبوں پر مہر سکوت لگا کر دوسروں کی طرح تماشائی بن گئے تو یہ وہی چیز ہے جو دشمن کے منصوبے کو آگے بڑھائے گی ہم اسی کے پالے میں کھیلنے لگ جائیں گے ، ہمارا ایمانی اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے کہ ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں
اِس سلسلے میں مسلمان اقوام کی ذمہ داری بہت سنگین ہے، اِسی طرح مسلمان حکومتوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کھل کر سامنے آئیں اور فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان فلسطین کے خاص علاقے کے رہائشی کی صورت نہیں بلکہ ایک مسلمان ہونے کی بنیاد پر کریں اور یہ وہ چیز ہے جو واجب و ضروری ہے، چنانچہ رہبر انقلاب ایک بیان میں فرماتے ہیں: “ہماری قوم فلسطین کے دفاع کو ایک دینی واجب جانتی ہے اور راہ خدا میں کوئی ایسا ہدف جسے حاصل نہ کیا جا سکے ، حضرت امام خمینی کی وصیت اور اسلام کا دستور ہے اور ہم اِسی طرح وفا دار بن کر اُن کا دفاع کرتے رہیں گے” ۔

2۔ فلسطینی عوام و مجاہدین کی ممکنہ مدد و نصرت:
فلسطینیوں کی حمایت کے ساتھ دوسری چیز انکی عملی طور پر مدد کرنا ہے، مدد کے مختلف انداز ہو سکتے ہیں، مثلا تمام مسلمان اپنے ملکوں میں قائم فلسطین کے سفارت خانہ جا کر انکی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان سے معلوم کر سکتے ہیں کہ ٓآپ کو کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ امام خمینی (رح) ایک مقام پر اس سلسلہ سے فرماتے ہیں، “اسلامی امت اپنے انسانی وظیفہ، اُخوت و بھائی چارے کے حکم اور اپنے اسلامی اور عقلی معیاروں کے مطابق اِس بات کی پابند ہے کہ وہ استعمار کے اِس گماشتے (اسرائیل) کی جڑوں کو اکھاڑنے کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرے اور محاذ جنگ پر نبرد آزما اپنے فلسطینی مجاہدوں کو اپنی مادی اور روحانی مدد و رسد اور خون کے عطیات، دوائیں، اسلحہ اور اشیائے خورد و نوش بھیجتے ہوئے اُن کی مدد کرے “۔ البتہ بعض سیاسی مجبوریوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے لئے اسلحوں کی فراہمی شاید مشکلات کا سبب بھی بنے اپنے اور اس طرح اپنے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی بھی ہو تو ہم قانون کے تابع ہیں اور کوئی ایسا کام ہرگز نہیں کر سکتے جس سے قانون شکنی لازم آئے لیکن شک نہیں کہ دواوں کے ذریعہ اور مالی اعانت کے ذریعہ انکی مدد کی جا سکتی ہے یہاں پر ہم اپنے ملک کی مقتدرہ کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس نازک اور آڑے وقت میں فلسطین کی مدد کی جب انہیں ہر طرف سے گھیرا جا رہا تھا ، ہندوستان کی جانب سے فلسطین کے لئے امداد وتعاون کا اعلان اور دواوں کی فراہمی ایک بہت بڑا قدم ہے ہم سب کے لئے لازم ہے کہ اس کے شکر گزار رہے ہیں ۔ ساتھ ہی ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے جو ہندوستان جیسے طاقت ور ملک کے استقلال و اس کی خود مختاری کا سودا ذاتی مفادات کے لئے کرنے پر آمادہ ہیں جبکہ ہندوستان کی تاریخ ہمیشہ یہ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ فلسطینیوں کےحق کی حمایت کی ہے۔
یہ ہمارے لئے اور ہمارے ملک کے لئے فخر کا مقام ہے کہ ہم ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہے اور ملک بھی ہمیشہ مظلوموں کا حامل رہا ، گاندھی جی سے نہرو و اندرا گاندھی سے اٹل بہاری واجپئی تک سب نے فلسطین کے سلسلہ سے ہمیشہ ایسا موقف اختیار کیا جو صلح پسندانہ و فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کا ترجمان تھا اس دوران بہت سے سیاسی بیان بازی کرنے والے شعبدہ باز آئے اور گئے لیکن ملک کا موقف ہمیشہ واضح رہا اور فلسطینیوں کے حق میں رہا یہی ہمارے ملک کی دنیا میں شناخت ہے کہ ہم نے کبھی مظلوم کو دھتکارا نہیں کبھی مظلوم کی حمایت سے منھ نہیں موڑا اور انشاء اللہ آگے بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا سیاسی بیان بازیوں کا معاملہ الگ ہے لیکن ملک کی پالیسی الگ ہے عرب ملکوں کو ہندوستان سے سبق لینا چاہیے کہ کس طرح یہ ملک ہر مشکل گھڑی میں فلسطین کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ، ایک وہ ملک ہے جو اسلامی ہوتے ہوئے فلسطین میں کفن بھیج رہا ہے اور ایک وہ ہے جو دواوں کی کھیپ بھیج رہا ہے ، ہندوستان سے جو اعانت غزہ و فلسطین کے لوگوں کی ہوئی ہے اس نے ہمارا سر دنیا میں فخر سے اونچا کر دیا ہے انشاءاللہ ہم بھی اپنے اپنے تئیں جو کچھ ممکن ہوگا کریں گے یہ بیداری ضمیر کا تقاضہ ہے کہ غزہ کے لوگوں کی مدد ہو ، انسانیت کا تقاضا ہے سچائی کی راہ پر چلنے والوں کا ہم سے مطالبہ ہے امید کہ ایک دن غزہ کے عوا کو اسرائیلی مظالم سے نجات ملے گی اور فلسطین کے باشندے اپنی سرزمین پر اپنی زندگی جئیں گے اور غاصبوں کو قبضائی ہوئی زمیں چھوڑنا پڑے گی۔