غزہ پر بمباری کے دوران مغویہ اسرائیلی فوجیوں کی جگہ بھی نشانہ بنی

القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے یہ بات 2014 میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جارحانہ جنگ کے واقعے  کو آٹھ سال مکمل ہونے پر کہی ہے۔

فاران: حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 2021  میں غزہ پر کی گئی بمباری میں  اسرائیلی بمبار طیاروں نے اس جگہ کو بھی نشانہ بنایا تھا جہاں اسرائیلی مغویان کو رکھا گیا تھا۔

القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے یہ بات 2014 میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جارحانہ جنگ کے واقعے  کو آٹھ سال مکمل ہونے پر کہی ہے۔

ابو عبیدہ نے کہا ‘ اسرائیلی حملے کے دوران القسام شیڈو یونٹ کے ایک رکن شہید  اور تین ارکان زخمی ہو گئے تھے۔ القسام کے یہ ارکان اسرائیلی حملے کے بعد مغویوں میں سے ایک کی حفاظت پر مامور تھے کہ اسرائیلی بمبار طیاروں مغویوں کے لیے بنائی گئی جگہ کو بھی نشانہ بنا دیا تھا۔’

ترجمان حماس نے کہا یٓہم اپنے اس شہید ہونے والے  القسام رکن کا نام ظاہر نہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ یہ سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ضروری ہے۔ ہم جب مناسب سمجھیں گے اس شہید کا نام طاہر کر دیں گے۔’

ترجمان ابو عبیدہ نے انہی سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اسرائیلی مغوی کی شناخت اور موجودہ حالت کو ظاہر نہ کرنے کا حق استعمال کیا۔ اس سے قبل 2020 میں القسام بریگیڈ نے  یہ اعلان بھی  کیا تھا کہ 2019 کی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اسرائیلی مغوی بھی غزہ میں زخمی ہو گئے تھے۔ تاہم القسام نے ان مغویوں کی تعداد ظاہر نہیں کی تھی۔

البتہ ایک اور موقع پر القسام بریگیڈ یہ اعلان کر چکا ہے کہ اس کے پاس  چار اسرائیلی فوجی مغویوں کی صورت میں موجود ہیں۔ جن کے نام اورون شاوول ، ھادار گلدین ، افیرہ منغیستو اور ھشام السید شامل ہیں۔ تاہم القسام نے چار مغوی اسرائیلی فوجیوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کس حال میں ہیں۔