غزہ کی مصیبت اور ہم کہاں ہیں؟

گرم کپڑے اور کمبل بھی نہیں ہے۔ جن علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہو، مسلسل کئی دن سے زہر آلود بنتا جا رہا ہے، اس کو نکالنے کا بندو بست بھی نہیں ہے۔ بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن ہم سب اپنی اپنی زندگی میں خوش ہیں اور ہر اس آسائش سے استفادہ کرنے میں مصروف ہیں

فاران: یہ تحریر خاص طور پر پاکستان کے عمومی حالات کے تناظر میں ہے۔ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جب طوفان الاقصیٰ آپریشن کا آغاز ہوا تو دنیا بھر کی طرح پاکستان کے عوام بھی پرجوش نظر آرہے تھے۔ جیسے ہی اگلے روز غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے غزہ پر سفاکیت شروع کی اور عام انسانوں کا قتل عام شروع کیا تو دنیا بھر کے عوام کی طرح پاکستان کے عوام کا جوش بھی ٹھاٹھیں مارنے لگا۔ کسی نے کہا کہ پاک فوج کو فوری طور پر جواب دینا چاہیئے، کسی نے کہا کہ ہمیں فلسطین بھیج دیا جائے اور ہم جہاد کریں گے، کسی نے مظاہرے کئے، بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بڑی بڑی احتجاجی ریلیاں کیں، جس میں ہزاروں افراد بھی شریک ہوئے۔ غرض یہ کہ ملک کے گوش و کنار میں جو جتنی سکت رکھتا تھا، اس نے غزہ کے لئے آواز اٹھائی۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سمیت شوبز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں اور وکلاء و ڈاکٹر کی تنظیموں نے بھی اپنے اپنے جذبات ک اظہار کیا۔

یقیناً یہ فلسطین کے مظلوموں کا ہماری گردن پر حق ہی تھا کہ جسے ہم نے ادا کیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں نے فلسطین میں ہونے والے صیہونی و امریکی مظالم کے خلاف اپنے اپنے انداز سے آواز بلند کی۔ پہلے روز سے یہ خطرہ موجود تھا کہ جس طرح سے غبارے میں ہوا بھری جا رہی ہے، کہیں اچانک اسی طرح سے نکل نہ جائے۔ یہ احساس بھی موجود تھا کہ کہیں سیاسی و مذہبی جماعتیں اور یہ تمام گروہ اور ادارے کچھ دنوں کے بعد اپنی اپنی معمول کی زندگی میں گم نہ ہو جائیں اور پھر فلسطین کا مسئلہ سات اکتوبر سے پہلے والی جگہ پر پہنچ جائے۔

بہرحال اب غزہ میں امریکی و صیہونی جارحییت کو ایک سو بیس دن یعنی پورے چار ماہ مکمل ہوچکے ہیں، پچیس ہزار سے زائد معصوم انسانی جانیں قتل ہوچکی ہیں، رپورٹس کے مطابق صیہونی جارحیت میں قتل ہونے والے سترہ ہزار معصوم بچے ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں خواتین قتل ہوئی ہیں، بزرگ اور نوجوان ہیں۔ گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ غزہ کا تمام انفرا اسٹرکچر چاہے وہ سرکاری ہو یا نجی، سب کا سب تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ بائیس لاکھ کی اس غزہ پٹی میں سے اب بتایا جا رہا ہے کہ اٹھارہ سے انیس لاکھ لوگ بے گھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسپتالوں کو بھی صیہونی بمباری میں تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ گویا امریکہ اور اسرائیل نے فلسطین کی غزہ پٹی میں منظم نسل کشی انجام دی ہے۔

آج فلسطین کی غزہ پٹی میں ایک اور انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ چار ماہ کے بعد بدلتے ہوئے موسم نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ موسم انتہائی سرد ہوچکا ہے۔ بارش اور طوفانی ہواؤں نے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے والے لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی میں مصیبت در مصیبت پیدا کر دی ہے۔ امداد کے تمام راستے امریکی حکم پر بند ہیں، غزہ کی رفح کراسنگ کو بھی مصر نے امریکی حکم نامہ پر بند کر رکھا ہے۔ کسی قسم کی مکمل امداد فلسطینیوں تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ جس طرح غزہ میں موسم شدید سرد ہوچکا ہے۔ ایسے ہی لگ رہا ہے کہ پاکستان میں بھی عوام کی فلسطین حمایت کا موسم سرد ہوتا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی ریلیوں کے بعد اب چھوٹے چھوٹے مظاہرے بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔

عوام نے تو جو کچھ کرنا تھا کر لیا، لیکن حکومت بھی یہاں سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ دو تین امدادی جہاز بھیج کر حکومت نے بھی سرد موسم کی طرح اپنے عمل کو سرد کر لیا ہے اور اب فلسطینی عوام کی حمایت کے لئے کوئی بیان بھی بڑی مشکل سے نظر آتا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے تو جنگ کے گرم موسم میں بھی فلسطین کی بات کرنے کو گناہ کبیرہ سمجھا تھا۔ جو آج سرد موسم میں تو سردی کا شکار ہوچکے ہیں۔ وہ کس طرح فلسطین کے لئے کچھ بات کریں گے۔؟ دوسری طرف فلسطین کے لئے کچھ نہ کرنے اور نہ بولنے والوں کے لئے عام انتخابات کی بہار کا موسم بھی آپہنچا ہے۔ کیونکہ جو کچھ ابھی بویا جائے گا، پھر اگلے پانچ سال اس کی وصولی بھی کرنی ہے، لیکن غزہ کے لئے جو کچھ بویا جائے گا، اس کا پھل فوری وصول ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔

بہرحال یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی حکومت اور اشرافیہ دونوں نے ہی عوام اور خاص طور پر فلسطین کے مظلوم عوام کو ناامید کرنے کی کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ حکومت نے تو آج کل فلسطین کے لئے بالکل ہی برعکس پالیسی اختیار کرنے کی ٹھان رکھی ہے کہ جس میں امریکہ اور سعودی عرب کو خوش کرنا اور اسرائیل کے لئے راستہ بنانا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا حال تو پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ عام انتخابات میں تن من دھن کی بازی لگا رکھی ہے تو ان کے لئے تو ان حالات میں فلسطین کے لئے بات کرنا محال ہی لگتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی پالیسی بھی لگتا ہے کہ حکومت کی ایماء پر تبدیل ہوچکی ہے۔ پہلی دوسری تو کیا اب پورے پورے نیوز بلیٹن میں بھی فلسطین کی خبروں کا ذکر نہیں ملتا ہے۔

بہت سے صحافی خواتین و حضرات فلسطین کے لئے سوشل میڈیا پر سرگرم عمل نظر آتے تھے، وہ بھی شاید سرد موسم میں اپنے جذبات کو سرد کر بیٹھے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ موسم سرما کا سب سے زیادہ اثر پاکستان میں فلسطین کاز کے لئے ہوا ہے، جبکہ باقی امور کے لئے تو بہار ہی بہار ہے۔ حالانکہ غزہ میں شدید سرد موسم ہے۔ شدید بارش بھی ہے۔ لاکھوں انسان بے یار و مدد گار بیٹھے ہوئے ہیں۔ خیموں اور پناہ گاہوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ غزہ سمیت پورے فلسطین میں مسلسل بمباری بھی ہو رہی ہے۔ قتل بھی ہو رہے ہیں اور زخمی بھی ہو رہے ہیں۔ اسپتالوں میں علاج بھی نہیں ہے۔ امداد بھی نہیں ہے۔ پینے کو پانی بھی نہیں ہے۔ کھانے کو ایک روٹی بھی میسر نہیں ہے۔

گرم کپڑے اور کمبل بھی نہیں ہے۔ جن علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہو، مسلسل کئی دن سے زہر آلود بنتا جا رہا ہے، اس کو نکالنے کا بندو بست بھی نہیں ہے۔ بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن ہم سب اپنی اپنی زندگی میں خوش ہیں اور ہر اس آسائش سے استفادہ کرنے میں مصروف ہیں، جو غزہ میں میسر نہیں ہے۔ کاش یہ تحریر ہمیں خود کو جھنجھوڑ دے اور ہم اپنی زندگیوں میں غزہ کے مصیبت زدہ عوام کا درد محسوس کریں اور موسم سرما کی سرما گیری کا شکار ہوئے بغیر اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے اسی گرم جوشی کا مظاہرہ کریں، جو سات اکتوبر کو تھی۔