غزہ کے عوام کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا

دنیا کے مختلف ملکوں میں غزہ کے عوام کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں، اور اب اس کا دائرہ مزید پھیلتا جا رہا ہے

فاران: چلی کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے ہفتے کے روز فلسطینی عوام کی حمایت میں مظاہرے کئے اور غاصب صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی بند کئے جانے اور جعلی صیہونی حکومت کے ساتھ چلی کی یونیورسٹیوں اور اداروں کے روابط منقطع کئے جانے کا مطالبہ کیا-

جرمنی میں بھی فلسطین کےحامی طلبا نے غزہ کے باشندوں کی حمایت میں مظاہرہ کرکے غزہ میں غاصب صیہونی حکومت کی نسل کشی روکے جانے کا مطالبہ کیا-

فلسطین کے حامی طلبان نے پرتگال کی یونیورسٹی کویمبرا میں بھی مظاہرہ کرکے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا- مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھاکر فلسطین کے حق میں نعرے لگائے اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا-

یمن میں بھی مظاہرین نے فلسطینی مزاحمت کی کارروائیوں کو سراہتےہوئے، فلسطین اور علاقے کے مزاحمتی گروہوں سے فلسطینی قوم کی حمایت کی اپیل کی-

فلسطینیوں کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم پر دنیا بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں عوام، مختلف حکومتیں اور بین الاقوامی تنظیمیں، مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت میں سراپا احتجاج ہيں-

دنیا بھر میں فلسطینی عوام کے حامیوں نے حالیہ مہینوں میں مظاہرے کرکے، غزہ کی پٹی کے عوام کے خلاف صیہونی غاصب حکومت کے جرائم کی مذمت کی ہے۔

سات اکتوبر دوہزار تیئیس سے امریکہ اور مغربی ممالک کی مکمل حمایت سے صیہونی نسل کشی حکومت نے غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں فلسطین کے بے دفاع اور مظلوم عوام کے خلاف بڑے پیمانے پر قتل عام شروع کر رکھا ہے۔

فلسطین کی وزارت صحت کے اعلان کے مطابق سات اکتوبر دوہزار تیئیس سے غزہ کی پٹی پر غاصب صیہونی حکومت کے حملے کے آغاز سے اب تک پینتیس ہزار نوسوتین فلسطینی شہید ، اور اسّی ہزار چار سو بیس سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کی بھینٹ چڑھنے والوں میں زیادہ ترعورتیں اور بچے ہيں۔