غیر عرب اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کا قیام؛ صہیونیوں کی تزویراتی حکمت عملی
فاران تجزیاتی ویب سائٹ: مورخہ 17 اگست 2022ع کو علامہ طباطبائی یونیورسٹی اور ابرار بین الاقوامی مطالعہ و تحقیقات انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے “جمہوریہ آذربائیجان اور یہودی ریاست کے تعلقات” کا ماہرانہ جائزہ لینے کی غرض سے “تہران انٹرنیشنل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ” کے مرکز دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہؤا جس میں ڈاکٹر احسان موحدیان، محسن پاک آئین، ڈاکٹر سیدرضا میرمحمدی، ڈاکٹر رسول اسماعیل زاده دوزال اور ڈاکٹر شیخ اورخان محمدوف نے شرکت کی۔
آذری دارالحکومت باکو میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق سفیر محسن پاک آئین نے کہا:
“ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل، صہیونی ریاست غیر عرب اسلامی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے کوشاں تھی؛ اور دنیا کو جتانا چاہتی تھی کہ فلسطین کا مسئلہ ایک اسلامی مسئلہ نہیں بلکہ عربی اسرائیلی مسئلہ ہے۔ جنگ کا عنوان بھی “عربی اسرائیلی جنگ” تھا اور اسلام کا نام بیچ میں نہیں لایا جاتا تھا۔ صہیونی ریاست کے نظریہ ساز بن گوریون کا خیال تھا کہ ایران، ترکی اور ایتھوپیا اسرائیل کے بنیادی شرکاء، ہو سکتے ہیں۔ لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد یہ صورت حال بدل گئی اور اسلامی جمہوریہ ایران یہودی ریاست کا دشمن ٹہرا؛ اس نے یہودی ریاست کو تسلیم نہیں کیا، اور صہیونیوں کے نظریات کو شکست سے دوچار کیا [اور صہیونی سفارت خانہ فلسطینیوں کے سپرد کیا]۔
سنہ 1991ع میں سوویت اتحاد ٹوٹنے کی وجہ سے صہیونی ریاست کو مناسب ماحول مل گیا، کیونکہ اگرچہ روس سے الگ ہونے والی جمہوریائیں لادین تھیں، لیکن ان کی اکثریتی آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور یہ جمہوریائیں بہت تیزی سے اسلامی تعاون کی تنظیموں میں شامل ہوئیں۔ یہودی ریاست نے ان جمہوریاؤں کے ساتھ تعلقات قائم کرکے یہ جتانے کی کوشش کی کہ اس کا اسلامی دنیا سے کوئی اختلاف نہیں ہے اور اگر کوئی اختلاف ہے تو گنتی کے ان مسلم ممالک کے ساتھ ہے جو فلسطین کے مسئلے پر اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ چنانچہ جعلی ریاست ان ریاستوں میں سے ایک تھی جنہوں نے سب سے پہلے ان جمہوریاؤں کو تسلیم کیا۔ صہیونیوں کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا رابطہ قازقستان کے ساتھ تھا جس کے بعد اس نے آذربائیجان کے ساتھ تعلق استوار کیا۔
آذربائیجان کا خطے سے فرار امریکہ، یورپ اور صہیونیوں کا سہارا لینے کے لئے
اسرائیلیوں نے ابتداء میں اپنے تزویراتی عزائم کو ظاہر نہیں ہونے دیا، بلکہ زراعت کے شعبے میں اپنے تجربے سے کام لے کر آذربائیجان سمیت ان جمہوریاؤں کی زرعی ضروریات کے پیش نظر، ان کے زرعی شعبوں میں تعاون کے لئے داخل ہوئے اور رفتہ رفتہ دوسرے شعبوں میں بھی ریشہ دوانی کر لی۔ اس زمانے میں آذربائیجان ایران اور روس کے ساتھ تھا۔ قرہ باغ کی پہلی جنگ میں روس نے ارمینیا کی حمایت کی اور ایران پر الزام لگا کہ گویا وہ جمہوریہ آذربائیجان میں تشیّع اور انقلابی اسلام کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس الزام کو صہیونی ذرائع نے اچھالا چنانچہ جمہوریہ آذربائیجان اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے سلسلے میں تحفظات کا شکار ہوئی۔ صہیونی ریاست اور ترکیہ نے آذربائیجان میں “پان آذریت” (اور پان ترکزم) کو تقویت پہنچائی، چنانچہ ایران میں بھی ایسے ہی تحفظات معرض وجود میں آئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے اپنے لئے خطرہ سمجھ لیا۔
آذربائیجان دو علاقائی طاقتوں “ایران اور روس” کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنے سے قاصر رہا چنانچہ اس نے علاقہ گریزی سے دوچار ہوکر امریکہ، یورپ اور یہودی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر لئے۔ اس نے قرہ باغ کے تنازعے میں شدت آنے کے بعد 30 ملکوں سے اسلحہ خریدا اور امریکہ کے ساتھ بھی اس سلسلے میں مذاکرات کا آغاز کیا اور واشنگٹن سے بھی اسلحہ مانگا۔ امریکہ نے اسلحے کی فراہمی کا کام اسرائیل کے سپرد کیا چنانچہ آذربائیجان نے صہیونیوں کے ساتھ فوجی تعلقات قائم کئے۔ سنہ 2007ع میں آذربائیجان کو بحیرہ کیسپیئن میں گیس اور تیل کے ذخائر سے آمدنی ملنا شروع ہوئی اور اسرائیل آذربائیجانی گیس اور تیل کا خریدار بنا؛ اور آج غاصب ریاست کی توانائی کی ضروریات کا چھٹا حصہ آذربائیجان سے مل رہا ہے۔ یوں فلسطینیوں کے قلب کی طرف داغے جانے والے گولے آذربائیجان کی طرف سے جا رہے ہیں۔
ان واقعات کے بعد آذربائیجان کے سلامتی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے مسائل میں صہیونیوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا اور صہیونی آذربائیجان میں سرگرم مؤثر طاقت میں بدل گیا۔ آذربائیجان سمیت مختلف ممالک میں صہیونیوں کی موجودگی کا بڑا ہدف ایران کے ساتھ ان کا تعلق توڑنا ہے۔ ادھر صہیونیوں کے ذرائع ابلاغ نے تشہیری مہم اور جعلی خبریں نشر کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ اور اس صورت حال نے حتی کہ ایران کے بعض غیر پیشہ ور ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی بچھائی ہوئی بساط پر کھیلنے پر آمادہ کیا۔
اسرائیلی ڈرونز کی ایران کی طرف پرواز؛ آذربائیجان کے سیکورٹی نظام کی خیانت / صہیونیوں کا منافقانہ رویہ
جعلی اسرائیلی ریاست کا آذربائیجان کا تعلق باکو-واشنگٹن تعلقات کے تابع ہے اور جس قدر کہ امریکہ اور آذربائیجان کے تعلقات بہتر ہونگے، اسی نسبت سے اسرائیل اور آذربائیجان کے تعلقات کو بھی فروغ ملے گا؛ جیسا کہ امریکہ اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی صورت میں تل ابیب-باکو تعلقات بھی متاثر ہونگے۔ مثال کے طور پر سنہ 1991ع میں انسانی حقوق کے بہانے واشنگٹن اور باکو کے درمیان تعلقات خراب ہوئے تو اسرائیلی اخبارات نے بھی آذربائیجان کو مورد تنقید بنایا اور کہا کہ آذربائیجان میں جمہوریت نہیں ہے اور یہ یہودیوں کے لئے غیر محفوظ ہے۔ سنہ 2013ع میں ایران میں حسن روحانی اور روس میں ولادیمیر پیوٹن بر سر اقتدار آئے۔ دونوں نے آذربائیجان کی سلامتی کی اہمیت کو سمجھ لیا اور آذربائیجان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے اور اسے خطے میں پلٹانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دونوں نے باکو کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے۔ دوسری بات یہ کہ آذربائیجان کے ساتھ ایران اور اسلامی ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے تو اس ملک میں صہیونی اثر و رسوخ کمزور پڑ جائے گا۔
اسی دور میں شام میں تکفیریوں نے خروج کیا۔ امریکہ نے ان کی حمایت کی اور وہ دہشت گرد بن گئے۔ وہ سابق سوویت اتحاد اور آذربائیجان میں واپسی کا ارادہ رکھتے تھے۔ آذربائیجان نے خطرہ بھانپ لیا اور تکفیریوں سے نمٹنے کے لئے ایران اور روس کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ آذری حکومت نے سعودیوں کی مسجد ابوبکر، ترکیہ کی ایک مسجد اور اہل سنت کی چھ مساجد کو بند کردیا اور وہابیت مخالف رویہ اپنایا۔ گوکہ بیرونی دنیا میں تشہیر ہوئی کہ آذری حکومت تمام مساجد کو بند کر رہی ہے! اس زمانے میں آذری صدر الہام علی اوف کے دورہ ایران کے فورا بعد صہیونی وزیر خارجہ اویگدر لیبرمین نے آذربائیجان کا دورہ کیا تو آذری وزارت خارجہ کی ویب سائٹ میں اس دورے کا تذکرہ تک نہیں ہؤا کیونکہ تعلقات کا سلسلہ بالکل سرد پڑ گیا تھا۔ سنہ 2014ع میں – جبکہ ایران، روس اور آذربائیجان کے تین اجلاس تہران، ماسکو اور باکو میں منعقد ہوئے تھے، لیبر مین اس بار صہیونی وزیر دفاع کے طور پر آذربائیجان کے ایک فوجی میلے میں شرکت کے بہانے باکو پہنچا تو ٹی وی اینکر نے اس کے لئے خیر مقدم کے الفاظ تک ادا نہیں کئے۔ [یعنی یہ کہ آذربائیجانی قوم صہیونیت نواز لابی کے ساتھ اتفاق رائے نہیں رکھتی]۔
جعلی ریاست کے تشہیری ادارے جتانا چاہتے ہیں کہ اسرائیل اور قازقستان اور آذربائیجان کے تعلقات عنقریب تزویراتی شراکت میں بدل جائیں گے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلامی ممالک کے حکمران غاصب ریاست کے ساتھ تزویراتی شراکت داری تک جانا بھی چاہیں، تو یہ ان ممالک کی مسلم آبادی کے ہوتے ہوئے، ممکن نہیں ہے کیونکہ غاصب ریاست عالم اسلام کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، جس نے مسلمانوں کا قبلۂ اول غصب کر لیا ہے اور ہر روز، مسلمانوں کے خلاف نت نئے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے چنانچہ میرا خیال نہیں ہے کہ قازقستان اور آذربائیجان کے تعلقات جعلی اسرائیل کے ساتھ ہرگز تزویراتی شراکت پر منتج ہونگے!
ایک اہم نکتہ آذربائیجان اور ارمینیا کے حوالے سے یہودی ریاست کے منافقانہ رجحان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسرائیل ارمینیا کے خلاف آذربائیجان کی جنگ میں آذربائیجان کے ساتھ تعاون کر رہا تھا لیکن جنگ کی شدت کے وقت اس نے ارمینیا کے ساتھ معلومات اور سلامتی کے شعبوں میں رابطہ قائم کیا اور ارمینیا نے اسرائیل کو آذربائیجان سے دور کرنے کی غرض سے تل ابیب میں اپنے سفارتخانے کا افتتاح کیا، حالانکہ تل ابیب میں ہنوز آذربائیجان کا سفارت خانہ نہیں ہے۔
قرہ باغ آذربائیجان کے لئے اہم ہے، جو بھی قرہ باغ کی آزادی میں آذربائیجان کی مدد کرے گا وہ اس ملک کا دوست کہلائے گا؛ اسرائیل نے اس عرصے میں آذربائیجان کو اسلحہ فراہم کیا ہے اور اس کے حوالے سے تشہیری مہم بھی چلائی ہے گوکہ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار حقیقت سے عاری ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کے ساتھ اس کا فوجی تعاون چھ ارب ڈالر تک پہنچا ہے حالانکہ فریقین کے درمیان تیل اور گیس سمیت تمام تر شعبوں میں تعاون کا حجم چھ ارب ڈالر ہے۔ ادھر آذربائیجان جانتا ہے کہ یہودی ریاست انہیں اعلیٰ درجے کا اسلحہ نہیں دے رہی ہے اور اس حوالے سے اٹھنے والی باتیں غیر حقیقی ہیں۔
آخری بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے آس پاس کی اسرائیلی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔ ڈرون طیاروں کے حوالے سے یہ نکتہ اہم ہے کہ آذربائیجانی حکومت اور فوجی کمان کو بہت سے ڈرون طیاروں کی آذربائیجان سے اڑ کر ایران کی طرف آنے کی خبر تک نہیں تھی اور صہیونی اس سلسلے میں آذربائیجان کے خفیہ ادارے میں اپنے آذری گماشتوں سے ہم آہنگ تھے اور ہم نے بھی باکو جا کر وہاں کی حکومت کو ثبوت پیش کرکے کہا کہ یہ ادارہ اپنی حکومت سے غداری کر رہا ہے اور آذری حکومت نے خفیہ ادارے کے سربراہ محمود اف کو برخاست کر دیا۔ ہم اپنی سرحدوں کی نگرانی بھی کرتے ہیں اور آذربائیجان کے ساتھ اچھے تعلقات نیز صہیونی ریاست کے خلاف علاقائی مزاحمت کے خواہاں ہیں؛ جبکہ یہودی ریاست اپنے مقصد کے حصول کے لئے آذربائیجان کے ساتھ ایران کے تعلقات کو مخدوش کرنا چاہتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Tehran International Studies & Research Institute
https://tisri.org/?id=8zqrrpv9













تبصرہ کریں