فاطمی طرز حیات  اور حیات طیبہ کا باہمی ربط اور ہم

قرآن نے انسانی زندگی کے لئے ایک خاص طرز و روش کو پیش کیا ہے جسے حیات طیبہ کہہ کر یاد کیا ہے  تاکہ انسان اس پاکیزہ حیات کے ذریعہ  اپنے رب سے نزدیک ہو سکے اور اسکے صفات کا مظہر قرار پا سکے ۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: عام طور پر انسان کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں تناو و دباو  جھیلنا پڑتا ہے ،دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ معمول کی زندگی  پریشر کے اور تناو کے ساتھ گزر رہی ہے یہ پریشر و دباو وہ ہے جس کی وجہ بھی خود انسان ہی ہے ، اس لئے کہ ہر انسان جس مقام و جگہ پر کیوں نہ ہو آسائیش کو چاہتا ہے  ہر ایک کی آرزو یہی ہے کہ کہ ایسی  زندگی گزارے جس میں کوئی ٹینشن نہ ہو کوئی فکر مندی نہ ہو، دوسری طرف انسان کی زندگی کے ساتھ اضطراب  پرشانیاں ، افسردگیاں  و رنجیدگیاں  اس طرح شامل ہیں کہ ان الجھنوں نے انسان کو مقصد حیات سے دور کر دیا ہے زندگی  اپنے آپ میں ایک ایسا  سخت و پیچیدہ پزل بن کر رہ گئی ہے کہ اگر انسان خود بھی اپنے طرز عمل سے جانے انجانے  اس کی پیچیدگی میں کچھ اضافہ کرے تو اس میں کچھ بھی نہیں بچے گا ، عام طور پر انسان اپنی زندگی میں ہمیشہ  گزرے ہوئے کل کے بارے میں یا ان غلطیوں کے بارے میں سوچتا ہے جو اس نے ماضی میں انجام دی ہیں یہ اسکی مشکل ہے کہ گزرے ہوئے کل کے بارے میں سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کیے رہتا ہے اور اس  بات کی کوشش نہیں کرتا کہ آج کے دور میں جئیے یہی مسئلہ  انسان کی زندگی میں افسردگی و فکر مندی کا مقدمہ بنتا ہے۔

اب انسان کیا کرے کہ ان چیزوں سے اسے چھٹکارا مل سکے اور وہ  سکون کی زندگی کر سکے اس کے لئے ضروری ہے کہ حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی مختصر  لیکن با معنی  و جاوداں زندگی کو پیش نظر رکھے اور دیکھے کہ حضرت  فاطمہ زہرا  سلام اللہ علیہا نے کس روش پر زندگی گزاری ہے ،آپ کی زندگی میں کن چیزوں کی اہمیت  تھی؟ ولادت حضرت زہرال سلام اللہ  علیہا  کے  موقع پر جشن و سرور کی سجی محفلوں  میں بھی اگر  ہم  اس  زندگی کو فراموش کر دیں  جسے عام مسلمانوں  نے فراموش کر دیا  تو ہم میں اور ان میں کیا فرق رہ جاے گا۔

ہم جب حضرت فاطمہ زہرا سلام  اللہ علیہا کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ملتا ہے کہ آپکی زندگی  مجسم  قرآن تھی ۔ جہاں آپ نے قرآن کو اپنی محبوب ترین چیزوں میں بیان کیا [1] وہیں جاتے جاتے وصیت کی علی ع میری قبر پر قرآن پڑھتے رہنا  [2]  آج اگر یہی قرآن ہماری زندگی میں آ جائے تو  ہماری زندگی بدل جائے  اس لئے کہ قرآن کتاب  انقلاب ہے  یہ دلوں کو زندہ کرنے والی کتاب  ہے۔

حضور سرور کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  فرماتےہیں :  جب اندھیر و گھٹا ٹوپ راتوں کی صورت فتنے  تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیں تو تم پر لازم ہے کہ تم قرآن  کی پناہ میں آو [3]

پیغمبر ص کی یہ روایت انسانوں کو اس بات کی طرف دعوت دیتی ہے کہ جب وہ فتنوں اور سختیوں کا سامنا کریں تو قرآن کی پناہ میں آئیں قرآن بہترین کلام ہے  چونکہ کلام خدا ہے  اور ذات حق کے لا متناہی علم  اسکی بے پایاں قدرت کے سرچشمے سے  جاری ہو رہا ہے ، لہذا دیکھنے کی ضرروت ہے کہ کہ قرآن کریم انسانی زندگی کی مشکلات سے نکلنے  اور قرآنی اسلوب حیات تک پہنچنے کا کیا راستہ بیان کر رہا ہے ۔ قرآن کریم مولائے کائنات امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام  کے فرمان کے مطابق  ایسا خیر خواہ ہے جو ہرگز خیانت نہیں کرتا[4]

قرآن نے انسانی زندگی کے لئے ایک خاص طرز و روش کو پیش کیا ہے جسے حیات طیبہ کہہ کر یاد کیا ہے  تاکہ انسان اس پاکیزہ حیات کے ذریعہ  اپنے رب سے نزدیک ہو سکے اور اسکے صفات کا مظہر قرار پا سکے ۔

قرآن کی  نظر میں جو حیات طیبہ ہے اسی حیات کو ہم حیات فاطمی کے طور پر جانتے ہیں  حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا نے اپنی  ۱۸ سال کی  مختصر زندگی  میں جس حیات  کے  تصور کو پیش کیا ہے  وہی مطلوب قرآن ہے  آپ کی زندگی کی جو ڈگر ہے وہ توحید ہے  اور  قرآن کی روشنی میں صحیح طرز زندگی توحید  ہی کی مرکزیت پر منحصر ہے ،

عصر حاضر میں فاطمی و توحیدی زندگی کی ضرورت :

فاطمی و توحیدی زندگی وہ ہے جہاں  تمام تر دشواریوں کے  باوجود انسان اپنے مقصد حیات سے غافل نہیں رہتا  توحیدی زندگی میں خلق کو نہیں خالق کو دیکھا جاتا ہے    وہ زندگی جس کا محور خدا ہو وہ زندگی جو امنیت و سکون کے ساتھ اضطراب و بے چینی سے ماورا ہو  عصر حاضر میں علم و ٹکلنالوجی کی پیشرفت کے برخلاف خود انسان انواع و اقسام  کی  دینی و ثقافتی یلغار سے رو برو ہے ،ایسی یلغار جو اسے شناخت و خود اس کی اپنی پہچان کے بحران سے دوچار کر رہی ہے نتیجہ میں  انسان کے سامنے ایک ایسی زندگی ہے جس میں سرگردانی و حیرانی ہے ، لہذا دور حاضر کی اہم ضرورت میں سے ایک  حقیقی زندگی کی پہچان ہے ، یہ کائنات  اللہ کی رحمت رحما نیہ کی تجلی ہے ایک ایسا راستہ ہے کہ جس  پر چل کر ہر انسان  اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے وہ کمال مطلوب  جس کا ثمرہ  مقام خلیفۃ اللہی و قرب معبود تک پہنچنا ہے ۔ وہ زندگی  جس کی طرف خدا انسان کی رہنمائی کر رہا ہے ایسی پاکیزہ زندگی ہے جس میں حقیقی حیات کا پرتو چھلکتا ہے ، حیات طیبہ  میں انسانی کی خواہشوں کو قرب الہی کی راہ میں گامزن کیا جاتا ہے اور انسان کا مطمع نظر اس حیات میں محض مادی زندگی کی لذتوں کا حصول نہیں رہ جاتا بلکہ دنیاوی زندگی کو بھی قرب الہی کے حصول کا ذریعہ بنایا جاتا ہے یہ وہ نظریہ    حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عالمی منظر نامے سے دور نہیں کرتا بلکہ معاشرہ کو ایمان ، عمل صا لح اور قرب الہی کے  سایے میں زندگی گزارنے اور ترقی کرنے کی دعوت دیتا ہے ، اس دور میں جو کہ عصر غیبت ہے صحیح اسلوب حیات کی پہچان  ان گھرانوں کی تربیتی ذمہ داریوں میں سے ہے جو کہ منجی بشریت کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں  اس لئے کہ  ان کی اہم ذمہ داری  امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف  کے مقاصد کی تکمیل کے لئے اور آپکی تمناوں کو پیکر عمل میں ڈھالنے کے لئے  ایک با صلاحیت و با استعداد نسل کی تربیت ہے۔

  عصر حاضر میں قرآنی اسلوب حیات کی شناخت : 

عصر حاضر میں جو کہ عصر غیبت ہے  قرآنی اسلوب حیات کی شناخت کیسے ہو یہ  اہم سوالات میں سے ایک ہے اس لئے کہ ہمارا اہم فرض اس عصر میں یہی ہے کہ ایسی نسل کی  عصر ظہور کے تقاضوں کے مطابق تربیت کر کے پروان چڑھائیں جو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی نصرت کر سکے ، اس لئے کہ   حضرت ولی عصر  عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دور کی حکومت وہ حکومت ہے جو صالحین کی ہوگی اور حیات طیبہ وہ زندگی ہے جو آپ کی ولایت کےسایے  وقوع پذیر ہوگی ، قرآن کریم حیات طیبہ کو خاص قرآنی اسلوب حیات کے طور پر پیش کر کے یہ چاہتا ہے کہ  انسانی زندگی کی کیفیت کو بہتر بنائے اسے بھبودگی عطا کرے ہرگز قرآن مطلق طور پر روش حیات کو یکساں طور پر ایک جیسا نہیں بنانا چاہتا[5] یعنی  ایسا نہیں ہے کہ قرآن ایک جیسی زندگی سب کے سر تھوپنا چاہتا ہو بلکہ دیکھا جائے تو مختلف  معاشروں میں  پاکیزہ ، طیب وصحیح  زندگی ہر علاقے کی آب و ہوا وہاں کی فضا اور ہر سماج میں پائی جانے والی قدروں کے مطابق ڈھل کر سامنے آتی ہے اور ہر معاشرے     کے اقدار آداب و رسوم  اس کے کلچر و تہذیب کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں

اسلوب حیات  کے مفہوم کی وضاحت :

اسلوب حیات ایسے طرز عمل اور اور انسان کی زندگی میں پائے جانے والے ایسے عمل و کردار کے ایک ایسے مجموعے سے متعلق ہے  جس میں اجتماعی زندگی کے معیاروں پر توجہ کی گئی ہو ۔یہ  مجموعہ ایسے مجزا وایک دوسرے سے مختلف  و اصولوں کو وجود میں لا سکتا ہےجوجو مختلف لوگوں کے کردار و عمل اور ان کے طرز سلوک سے پردہ برداری کے ساتھ  لوگوں کے عقائد و یقین کے کم و کیف و سلسلہ اقدار کی ترجمانی کربھی کرے [6]   ۔

اسلوب حیات کا  دائرہ انسان کے خدا کے ساتھ، اپنی ذات کے ساتھ ، گھر اور معاشرے حتی فطرت کے ساتھ رابطہ کے وسیع افق کو شامل ہے ۔اسلامی اسلوب حیات کا مطلب  انسان کی زندگی کے تمام شعبوں میں  اسلامی تعلیمات کے تمام پہلووں کے  نفاذ پرتوجہ دینا ہے اور ایک معین تقسیم بندی کے ذریعہ  انسان کے خدا اپنے آپ اور خلق خدا کے درمیان سہ طرفہ رابطہ کے پیش نظرایک پرہیز گارانہ زندگی کا تصور پیش کیا جا سکتا ہے ایسی زندگی جس میں ائمہ معصومین علیھم السلام کے فرمودات و انکی سیرت پر تکیہ کرتے ہوئے  جینے  کی مشق کی جائے [7]   اسلوب حیات یا طرز زندگی ایک ایسی جدید اصطلاح ہے کہ انگریزی          میں  اسے  life style life کہا جاتا ہے ، معاشرتی علوم میں اسلوب حیات کو شیوہ زندگی سے ہٹ کر دیکھا گیا ہے انگریزی میں اسے way of life  کہا جاتا ہے ، اس لئے کہ شیوہ زندگی ایک عام و کلی مفہوم ہے جس میں ہر شیوہ اور ہر طرز داخل ہے  اور یہ ہر تمدن و ہر دور کی تاریخ کو شامل ہے چاہے جدید دور سے قبل کا زمانہ ہو یا دوران جدید  حتی مارڈرن دور کے بعد تک کے عرصہ حیات  پر بھی شیوہ حیات کا اطلاق ہوتا ہے ۔

شیوہ حیات و طرز زندگی کے درمیان جو نسبت پائی جا رہی ہے وہ عموم خصوص من وجہ کی ہے اس لئے کہ طرز زندگی شیوہ حیات کے بطن سے ہی نکلتی ہے وہیں سے اسکا وجود سامنے آتا ہے  طرز زندگی در حقیقت وہی شیوہ  حیات ہی کا ایک نمونہ  ہے اور اسے خاص انداز اور مخصوص قالب میں سمو دیا گیا ہے نمونے کے طور پر شیوہ زندگی میں  مغرب والے  مختلف طرز زندگی کو پیش کر سکتے ہیں جیسے فرانسوی  طرز ، برطانوی طرز  امریکی طرز یہ سبھی طرز ایک شیوہ زندگی کے اندر پائے جاتے ہیں۔

 اسلوب حیات کے اہم عناصر : 

اسلوب حیات یا طرز زندگی کے سامنے آنے میں خاص عناصر کارفرما ہیں ان میں سب سے اہم عناصر میں جدید معاشرتی طبقے ، جدید سوسائٹی کی اقتصادی پشت پناہی، روز مرہ کی زندگی ، جدید ٹکنالوجی ، بغیر ضرورت کے مصرف ، سرمایہ دارانہ سماج کا سامنے آنا ، سرمایہ داری کے جڑے رشتوں کی معاشرے پر مطلق حاکمیت ، فراغت و فرصت کے مفاہیم کا دور جدید میں ظہور و بروز ذرائع ابلاغ وغیرہ یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں ہم طرز زندگی کے عناصر کے طور پر پیش کر سکتے یں ۔ امریکی طرز زندگی میں انفرادیت  ، فردی آزادی ، گھر و خاندان سے گریز ، یہاں تک کے گھر گرہستی سے بیر و سیتز شدید طور پر بے ضرورت خرچ consumerism ہذیان آمیز تیزی ، وقت کا اضطراب ، تیار شدہ غذائیں جیسے جنک فوڈ و فاسٹ فوڈ  شدید طور پر تنوعیت و رنگین مزاجی اور اسی قسم  کے دوسری چیزوں  کو دیکھا جا سکتا ہے ۔

اسلوب حیات کے موضوع پر گفتگو کی اہمیت :

طول تاریخ  میں انسان کی سب سے اہم ضرورت یہ رہی کہ اس کی زندگی سکون سے گزرے ، نشیب و فراز و الجھنوں سے خالی ہو  حتی طول تاریخ میں جن انبیاء کو لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ان کی من جملہ ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہی تھی  کہ ایسے اسلوب حیات کو پیش کیا جائے جس میں چین و سکون ہو ، حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے بھی بہت سے انبیاء کی طرح اس بات کی کوشش کی کہ دینی اسلوب حیات کو  اسلامی شیوہ حیات کے وسیع دائرہ میں پیش کریں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  شدید طور پر جاہلانہ طرز زندگی و جاہلانہ فکر سے مقابلہ کیا اور  جاہلیت کے کلچر کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اس دور کے کلچر کی بعض چیزوں کو ناقابل قبول قرار دیا اور بعض چیزوں  درست قرار دیتے ہوئے ان پر اپنا صاد بنایا اور انکے جواز پر دستخط کئے

بعثت حقیقت میں ایک انقلاب کی نوید تھی، ایکی تبدیلی کا آغاز تھا ایسی تبدیلی جو سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کے وجود میں رونما ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس  نے  غیب سے دائمی طور پر متصل کر دیا اگرچہ آ پ کی ذات پہلے سے متصل بہ غیب تھی لیکن سلسلہ وحی نے اس اتصال کو اور بھی عمیق  بنا دیا بعثت نے پہلے روح پیغمبر میں انقلاب بپا کیا پھر اس کے اثرات معاشرے میں رونما ہوئے اس لئے کہ بعثت سے پہلے کا معاشرہ ظلم و شرک و فساد میں مبتلا تھا یہی معاشرہ اتنا تبدیل ہوا کہ توحید و عدالت و صلح کی طرف گامزن ہو گیا ایمان کی روشنی کے پھیلنے کے ساتھ ہی یہ تبدیلی اور عمیق و وسیع ہو گئی  اسلامی مآخذ میں اس شروعاتی دور کو جس میں بعثت کا آغاز ہوا ہے دور جاہلیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

در حقیقت زندگی کا سلیقہ جسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے لئے لیکر آئے تھے اس طرز حیات کا حامل تھا جو توحیدی بنیاد پر قائم تھا یہ وہ طرز ہے جو اپنے ساتھ سکون و امنیت بھی رکھتا ہے ۔ لیکن عصر حاضر میں ٹکلنالوجی کی پیشرفت کے باوجود بشر کو انواع و اقسام کی یلغاروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے انجام کار انسان کی زندگی میں ایسے نشیب و فراز ہیں جن کی بنا پر اسے سکون نصیب نہیں اور وہ بے چینی و افسردگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یوں  حقیقی زندگی سے بہت دور ہو جاتا ہے ۔ وہ زندگی ہی کیا جس میں انسان کو سکون نصیب نہ ہو سکے ۔ خداوند متعال کے منشاء کے مطابق زندگی کے طرز کی شناخت اور اسی کی راہ میں حرکت انسان کی  ضرورتوں میں اسے ایک ہے اسی بنیاد پر قرآنی طرز حیات کو حیات طیبہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے در حقیقت انسانی اخلاق تک پہنچنا حیات طیبہ تک پہنچنا ہے وہ حیات طیبہ جسے قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ صرف ایک بار بیان کیا ہے اور ایک ہی بار اس سے گفتگو کی ہے اس حیات کی پاکیزگی کے ساتھ توصیف اس بات کی ترجمان ہے کہ یہ وہ حیات ہے جو ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک ہے اور اس حیات کا نتیجہ   دنیا و آخرت کی تعمیر و فلاح ہے۔

قرآنی اسلوب حیات اور حیات طیبہ :

قرآن کریم نے انسان کے لئے ان تمام چیزوں کو بیان کیا ہے جو ہونا چاہیے اور ان باتوں کو بھی پیش کیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے  بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں قرآن کریم نے بیان کیا ہے زندگی میں کیا ہونا چاہیے اور بہت سی ایسی جگہیں  ہیں جہاں قرآن نے واضح کیا ہے کیا نہیں ہونا چاہیے  قرآنی دستور کے مطابق  زندگی میں وہ چیزیں جنکا ہونا ضروری ہے اور وہ چیزیں جن سے پرہیز ضروری ہے اگر ہم انکا لحاظ کریں اور اس بات کی رعایت کریں کہ زندگی میں وہی ہو جسے قرآن نے چاہا ہے اور اس سے پرہیز ہو جس سے قرآن نے روکا ہے تو یہی چیز طرز زندگی کو تشکیل دینے والے عوامل میں سے ایک ٹہرے گی پیش نظر تحریر میں ہم ان چیزوں کا ایک ایک کر کے جائزہ نہیں لیں گے  جو قرآن کی نظر میں ہونا چاہیے یا جن سے پرہیز ضروری ہے بلکہ یہاں پر ہم صرف اس بات پر اکتفا کریں گے کہ قرآن نے طرز زندگی کے لئے ایک خاص نمونہ حیات کو ایک خاص شیوہ زندگی کو مد نظر رکھا ہے  جسے قرآن میں ہم اعتقادی  و کلامی مباحث ، اخلاقی و تاریخی اور عبادی و احکامی مفاہیم کے مجموعے پر غور کر کے حاصل کر سکتے ہیں اور قرآن  کی آیات میں تدبر کے  ذریعہ قرآن کے خاص اسلوب حیات تک پہنچ سکتے ہیں  ۔

قرآن کریم نے کی روشنی میں زندگی محض ولادت سے موت تک میں نہیں سمٹی ہوئی ہے بلکہ زندگی موت کے بعد بھی روان دواں ہے [8] یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے کہ  موت کو قرآن نے ایک تبدیلی کے مرحلہ کے طور پر پیش کیا ہے نہ اختتام زندگی ۔ ولادت سے پہلے کا مرحلہ جہاں انسان شکم مادر میں ہے اور ابھی اس نے دنیا میں قدم نہیں رکھا ہے اور ولادت کے بعد کا مرحلہ انسان کی زندگی کے  ایک بہت ہی حیاتی پہلو کا حامل ہے اور وہ ہے انسان کی تربیت کہ جس کے سایے میں انسان مطلوبہ کمال و سعادت تک پہنچتا ہے ، زندگی کا طریقہ ، کردار اخلاق حتی دوران حمل ماں کی غذا اس مرحلہ میں بہت اہم ہے اور انسان کی روش زندگی  میں اثراانداز ہوتی ہے ۔ لیکن مطلق طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہی چیزیں اولاد کی روش حیات میں کارگر ہیں بلکہ یہ ایک ایسا محرک ہے جو انسانی طرز حیات میں موثر کردار ادا کرنے والے عوامل میں شمار ہوتا ہے ۔

یہ وہ عامل ہے جو جنٹیکل طور پر  ماں حتی باپ سے اولاد کے اندر منتقل ہوتا ہے لہذا والدین کے طرز حیات کو اولاد کی روش حیات میں ایک موثر عامل و محرک کی صورت دیکھنا چاہیے نہ کہ مطلق طور پر یہ کہا جائے کہ جیسے والدین کی زندگی ہوگی اولاد کی روش زندگی بھی ویسی ہی ہوگی ، تربیت وہ بنیادی مرحلہ ہے جو انسان کے نہائی مقصد حیات تک پہنچنے کے لئے بہت ضروری ہے ۔

قرآن کی نظر میں دنیاوی زندگی یا مادی ہو نچلی سطح کی زندگی کی چنداں اہمیت نہیں ہے اسے قرآن نے کھیل کود سے تعبیر کیا ہے یہ بہت ہی مختصر و ناپائدار ہے [9] لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ قرآن نے دنیاوی زندگی کو بالکل نظر انداز کر دیا ہو اور اس کے لئے کوئی نظام زندگی نہ دیا ہو کوئی منصوبہ اس وقتی و گزر جانے والی زندگی کے لئے نہ بنایا ہو ۔قرآن کی نظر میں یہ کائنات بے ہودہ اور بلا وجہ خلق نہیں ہوئی ہے بلکہ کائنات کی خلقت حق ہے اور یہ معین ہدف کی طرف آگے بڑھ رہی ہے [10] دوسری طرف خداوند متعال نے جو کچھ بھی زمین و آسمانوں میں ہے اسے اس لئے خلق کیا ہے کہ سب کچھ انسانی زندگی کی خدمت  میں ہواور اس کی کمال کی راہ میں معاون ہو [11]۔   یہ ایک وسیع موضوع ہے جس پر انشاء اللہ پھر کبھی گفتگو ہوگی فی الحال اتنا ہی کہ اگر حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی حیات طیبہ کو ہم اٹھا کر دیکھتے جائیں تو جا بجا قرآن کی آیات کی تفسیر ہی نظر آئے گی  امید کہ بی  بی ولادت کی خوشی میں ہم اپنی طرز زندگی کو بھی ویسا بنانے کے لئے کچھ قدم اٹھائیں گے یہاں پر ہماری روح کی خوشی دوبالا ہو جائے  اور ہم دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہم کنار ہو سکیں  انشاء اللہ ۔

حواشی

[1]  ۔ حبَّبَ إِلَیَّ مِنْ دُنْیاکُمْ ثلاثُ: تلاوة کِتابُ اللهِ وَ النَّظَرُ فی وَجْه رَسُولِ اللهِ وَ الإنفاقُ فی سبیل الله، نهج الحیاه، محمد دشتی، مؤسسه تحقیقات امیرالمؤمنین7، قم، 1373، ص271، وقایع الایّام، خیابانی، ج صیام، ص295.

[2]  ۔ وَ أَجْلِسْ عِنْدَ رَأسی قِبَالَةَ وَجْهی فَأَکْثَر مِن تَلاوةِ القُرآنِ وَ الدُّعاءِ فَإنَّها سَاعَةٌ یُحْتاجُ اْلَمیِّتُ فیِها إلیِ أُنسِ الأحیاءِ ۔ کنزالاعمال، ج1، ص582.

[3]  اِذَا التَبَسَت عَلَیکُمُ الفِتَنُ، کَقِطَعِ الیلِ المُظلِمِ فَعَلَیکُم بِالقُرآنِ ۔ کلینی، 1407، 2: 459)

[4]  ۔ نهج‌البلاغه، خطبه 176

[5]  ۔ طباطبايى، محمدحسين (1374 ق) الميزان فى تفسير القرآن، بيروت، مؤسسه الاعلمى للمطبوعات. 1417، جلد 12: ص 491

[6]  ۔ فاضل قانع، حمید (1392) سبک زندگی بر اساس آموزه‌های اسلامی (با رویکرد رسانه‌ای)، قم، مرکز پژوهش‌های اسلامی صدا و سیما. ص ۵۱

[7]  ۔ پور‌امینی، محمدباقر (1392) سبک زندگی؛ منشور زندگی در منظر امام رضا علیه السلام ، مشهد، انتشارات: قدس رضوی ، ص: 17-18).

[8]  ۔ «نحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فىِ الْحَيَوةِ الدنْيَا وَ فىِ الاَخِرَةِ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَدعُونَ» (فصلت: ۳۱).

[9]  ۔ « وَ مَا الْحَيَوةُ الدنْيَا إِلا لَعِبٌ وَ لَهْوٌ وَ لَلدارُ الاْخِرَةُ خَيرْ للذِينَ يَتقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» (انعام: ۳۲)

[10]  ۔ ص: 27، روم: 8، آل‌عمران: 191، عنکبوت: 44، جاثیه: 22، تغابن: 3، انعام: 73، یونس: 5، ابراهیم: 19، نحل: 3، انبیاء: 16، زمر: 5)

[11]  ۔ جاثیه: 13، حج: 65، لقمان: 20، بقره: 29) (مدرسی، 1419، 13: 80)