اسرائیل کا ڈوبتا ہؤا سورج؛ 1

فلسطینیوں کی استشہادی کاروائیوں کے اثرات اور اسرائیل کو درپیش وجودی بحران/ صہیونی اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں

مقبوضہ فلسطین میں اشتعال زدہ ماحول اور تمام علاقوں میں مسلسل استشہادی کاروائیوں کی صورت حال میں، یوکرین کے بحران اور روس کے ساتھ صہیونی ریاست کے شدید اختلافات نے غاصب یہودیوں کے لئے حالات کو مزید ابتر کرکے ان کے اندیشوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: فلسطینیوں کے غیر متوقع استشہادی (شہادت طلبانہ) کاروائیوں کا کم از کم اثر فلسطین کی پوری سرزمین میں یہ ہے کہ اب غاصب صہیونی یہودی محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کہیں بھی – حتی اپنے مکانات میں بھی – امن و سکون حاصل نہیں ہے۔
سنہ 1948ع‍ میں عربی-اسلامی سرزمینوں پر قبضہ کرکے جب یہودی غاصبوں نے جعلی ریاست کی بنیاد رکھی تو شاید تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ انہیں 74 سال بعد آج جیسے حالات کا سامنا ہوگا۔ جعلی ریاست مقبوضہ فلسطین کی اراضی میں تمام تر جارحانہ اقدامات نیز یہودی بستیوں کی تعمیر اور عربوں کی قبائلی بادشاہتوں کو اسرائیل کی بحالی کے معاہدوں پر مجبور کرنے کے باوجود، آج ایک ایسے مرحلے پر آ کر ٹہری ہے کہ حتی خود غاصب ریاست کے تجزیہ کار اور سیکورٹی اہلکار اور فوجی راہنما بھی اگلے چند سالوں میں اس ریاست کے زوال و انحطاط کے بارے میں اظہار خیال کرنے لگے ہیں۔

صہیونیوں کو اندرونی و بیرونی چیلنجوں کا سامنا
مقبوضہ فلسطین میں اشتعال زدہ ماحول اور تمام علاقوں میں مسلسل استشہادی کاروائیوں کی صورت حال میں، یوکرین کے بحران اور روس کے ساتھ صہیونی ریاست کے شدید اختلافات نے غاصب یہودیوں کے لئے حالات کو مزید ابتر کرکے ان کے اندیشوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ادھر اندرونی سطح پر غاصب یہودی ریاست کو سیاسی عدم استحکام اور ریاستی حکام پر نوآبادکار یہودیوں کے عدم اعتماد کے ساتھ ساتھ کئی کئی دوسرے بحرانوں کا بھی سامنا ہے جس کا بنیادی سبب فلسطین سمیت پورے خطے میں اسلامی مقاومت کی نئی حکمت عملی اور فعالانہ کردار ہے۔

اسرائیل کا سورج ڈوب رہا ہے
گوکہ ترکی، بحرین، سعودی عرب اور بعض دوسرے رجعت پسند قبائلی حکومتوں نے قبلہ اول پر یہودی ایجنسی کے قبضے کی برسی (یوم النکبہ) کے موقع پر صہیونی حکمرانوں کو “اسرائیل کے یوم تاسیس” کے عنوان سے مبارکباد کے پیغامات ارسال کئے مگر صہیونیوں کے لئے سودمند نہ رہے کیونکہ ان ہی دنوں میں – جبکہ تشدد پسند یہودی آبادکار جارحانہ اقدامات کے ذریعے، جعلی ریاست کے قیام کی چوہترویں برسی کے موقع پر مسجد الاقصیٰ اور قدس شریف پر حملہ کرکے جشن منانے کا ارادہ رکھتے تھے – پوری مقبوضہ فلسطینی سرزمین صہیونیوں کے لئے خوف و دہشت کا نشان بن گئی؛ چنانچہ سابقہ رسم کے برعکس، اس بار صہیونی ماہرین اور سیکورٹی اور سیاسی حلقوں کو عسکری اور سیاسی حصول یابیوں کی داستانیں سنانے کے بجائے، اعتراف کرنا پڑ رہا ہے کہ “فلسطینیوں کے ساتھ تنازعے کے قواعد بدل گئے ہیں اور اسرائیل کو اندرونی بحرانوں کا سامنا ہے”۔
واضح رہے کہ حالیہ چند مہینوں سے استشہادی کاروائیوں کی جاری لہر نے مقبوضہ فلسطین کو صہیونیوں کے لئے جہنم میں تبدیل کیا ہے؛ ایک مہینے کے دوران 19 صہیونی غاصب مارے گئے ہیں۔ دو فلسطینی نوجوانوں کے ہاتھوں تین صہیونیوں کی ہلاکت اور مسجد الاقصی پر صہیونی یلغار کے دوران ایک استشہادی کاروائی میں ایک صہیونی کے زخمی ہوجانے کے بعد صہیونیوں کے خوف اور صہیونی حکومت اور فوج پر آبادکاروں کی بد اعتمادی میں کئی گنا اضافہ ہؤا ہے اور مقبوضہ سرزمین سے بھاگنے کے شوقین صہیونیوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عبرانی اخبار “معاریو (Maariv)” کے کالم نگار اورائیم گانور نے اس سلسلے میں لکھا: “اسرائیلی ایسے حال میں اپنی حکومت کا یوم تاسیس منا رہے ہیں کہ زمین ان کے پاؤں تلے لرز رہی ہے اور آج وہ ایک پارہ پارہ قوم اور منتشر معاشرے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کو اس صورت حال میں ایک نجات دہندہ اور ایک بڑے معجزے کی توقع ہے۔ اسرائیلی ایسے حال میں یہ جشن منا رہے ہیں، کہ نفرت کا لباس پہنے ہوئے ہیں اور یہودیوں کے مابین اس قدر شدید منافرت کے اصل بنیاد اور سبب سے حیرت زدہ ہیں”۔
گانور نے مزید لکھا: “اسرائیلی جو فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف جنگ میں، اپنے ہلاک شدگان کی قبروں پر کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں «ہم جنگ کی داستانیں سن سن کر تھک گئے ہیں، اور ہمارے سپنے چکنا چور ہو چکے ہیں، واحد چیز، جو ہم دیکھ رہے ہیں غم اور گریہ و بکاء اور اس سرزمین میں اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید اندیشے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل کا سورج ڈوب رہا ہے۔ اور پھر دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان جھگڑے، تنازعات اور منافرت بھی دھماکہ خیزی کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں”۔
صہیونیوں کے درمیان یہ ہولناک جذبات گواہی دے رہے ہیں کہ حالات جعلی ریاست کے حکمرانوں کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور فلسطینیوں کی کاروائیوں کے آگے بے بسی کے ساتھ ساتھ، وہ اسرائیلی معاشرے کے اندرونی ماحول کو سنبھالنے سے بھی قاصر ہیں۔ یہودی بستی نشین آبادکاروں کا خیال ہے کہ موجودہ صورت حال 1995ع‍ کے حالات سے مماثلت رکھتی ہے، جب غاصب ریاست کو وزیر اعظم اسحاق رابین کو ایک صہیونی نے قتل کر دیا تھا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔جاری۔۔۔۔۔۔۔