فلسطینیوں کے ڈرون طیارے نے صیہونیوں کی نیندیں اڑا دیں

صہیونیوں نے غزہ سے ملحقہ بستیوں میں ایک فلسطینی ڈرون طیار ے کی پروازوں کا اعتراف کیا ہے۔

فاران: صیہونی ذرائع نے پیر کے روز غزہ سے ملحقہ علاقوں میں اس اہم سیکورٹی پیشرفت کی خبر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ شب فلسطینی تحریک مزاحمت کا ڈرون طیارہ صیہونی بستیوں پر پرواز کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
صیہونی ذرائع نے فلسطینییوں کی اس اہم سیکورٹی پیشرفت کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
تین ماہ پہلے بھی جہاد اسلامی فلسطین کی فوجی بازو القدس بریگیڈ نے جنگ سیف القدس کے دوران اپنے ڈرون طیارے کے ذریعے حاصل ہونے والی فوٹیج جاری کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ہمارے ڈرون طیاروں نے مقبوضہ علاقوں میں داخل ہونے کے بعد یہ فوٹیج بنائی تھیں اور پھر کامیابی کے ساتھ اپنے اڈے پر واپس آگئے تھے۔
القدس بریگیڈ نے اس سال عالمی یوم القدس کے موقع پر جنین کے نام سے ایک جدید ترین ڈرون طیارے کی رونمائی بھی کی تھی۔ القدس بریگیڈ کے ترجمان ابوحمزہ نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ماہرین اس ڈرون طیارے کو جدید ترین بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ہم عہد کرتے ہیں کہ پوری سرزمین فلسطین کی آزادی تک ہم مزاحمت کے وعدے پر قائم رہیں گے۔
دوسری جانب ایک صیہونی فوجی جنرل نے اپنے فضائی اڈوں میں پائی جانے والی بے سرو سامانی کے بارے میں سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ فضائی جنگ کی صورت میں ہماری فضائیہ نابود ہوکے رہ جائے گی۔
روزنامہ ھاآرٹس کے مطابق جنرل اسحاق بریک کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ مختلف محاذوں پر جنگ کرنے کی توانائی نہیں رکھتی اور جنگ کی صورت میں اپنے فضائی اڈوں کا دفاع بھی اس کے لیے مشکل ہوجائے گا۔
مذکورہ جنرل کا کہنا تھا کہ ہمارے فضائی اڈے اسٹریٹجک ہدف شمار ہوتے ہیں اور ہرروز گائیڈڈ میزائیل، راکٹ اور ڈرون طیارے ہمارے اڈوں کی جانب چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اعلی افسران اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔
صیہونی جنرل اسحاق بریک نے مزید کہا کہ ہمارے ہر اڈے میں صرف ایک اضافی بریگیڈ ہے جس کا کام تباہ شدہ جہازوں کا ملبہ صاف کرنا، اہداف پر لگی آگ بجھانا، زخمیوں کو منتقل کرنا اور اڈے کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانا ہے اور یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔