فلسطینی مجاہدین کی کارروائیوں سے غاصب صیہونی فوجی خوف و ہراس میں مبتلا

فلسطین کی تحریک مزاحمت کے مجاہدین نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران غرب اردن کے مختلف علاقوں میں غاصب صیہونیوں کے خلاف ستّائیس کارروائیاں انجام دی ہیں۔

فاران: فلسطین کی تحریک مزاحمت کے مجاہدین نے صیہونی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کے جواب میں غرب اردن کے مختلف علاقوں منجملہ جنین، طولکرم، نابلس اور الخلیل میں غاصب صیہونیوں کو نشانہ بنایا اور ان کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔
غرب اردن کےعلاقے طولکرم میں نور شمس کیمپ میں صیہونی فوجیوں اور فلسطینی مجاہدین کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں ایک صیہونی فوجی زخمی ہو گیا۔
جنین میں بھی فلسطین کی تحریک مزاحمت کے مجاہدین نے الجلمہ چیک پوسٹ اور شاکید صیہونی بستی کے قریب صیہونی فوجیوں کے خلاف تین کارروائیاں انجام دیں۔
نابلس میں فلسطین کی تحریک مزاحمت کے مجاہدین نے صیہونی فوجیوں کی جارحیت کے جواب میں چار کارروائیاں انجام دیں۔
فلسطین کی تحریک مزاحمت کے مجاہدین نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مقبوصہ بیت المقدس اور غرب اردن کے مختلف علاقوں میں غاصب صیہونیوں کے خلاف تقویبا ڈھائی سو کارروائیاں انجام دیں۔
فلسطینیوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے صیہونی جارحیت کے جواب میں ہتھیار اٹھا کر جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے، صیہونی فوج اور مسلح صیہونی انتہا پسندوں کی جانب سے بڑھتی جارحیت اور فلسطینی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں، اپنی جوابی اور انتقامی کارروائیاں تیز کر دی ہیں جس کے نتیجے میں غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں طاقت کا توازن اب فلسطینی مجاہدین کے حق میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ چند ماہ میں غاصب صیہونیوں پر فلسطینیوں کے حملوں میں مغربی کنارے اور دریائے اردن کے علاقوں میں اتنی شدت آگئی ہے کہ صیہونی فوجی اورسیاسی ذرائع ان حملوں کا مقابلہ کرنے سے اپنے ناتوانی کا اظہار کرچکے ہیں اور ان حملوں میں مزید شدت اور پھیلاؤ کے خطرے کی وارننگ دے چکے ہیں۔
رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ غرب اردن میں فلسطینیوں کی تحریک استقامت کے مجاہد سپاہی، اپنی جان فشانی اور موثر و جرآتمندانہ منھ توڑجوابی کارروائیاں انجام دے کر غاصب صیہونی حکومت کی جارح فوج کے خوف و ہراس اور ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے صرف غزہ اورمقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقوں میں صیہونیوں کو فلسطینی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن اب مغربی کنارے اورمشرقی فلسطینی علاقوں کے مختلف علاقے فلسطینی جوانوں کے لئے صیہونیوں کے شکارکرنے کا اہم علاقہ بن گئے ہیں۔
دریں اثنا جہاد اسلامی فلسطین کے ایک رہنما نے خبردار کیا ہے کہ صیہونی حکومت نے اگر اپنی جارحیت کا سلسلہ بند نہیں کیا تو اسے سخت ہزیمت اٹھانا پڑے گی۔
جہاد اسلامی فلسطین کے ترجمان طارق سلمی نے بھی زور دے کرکہا ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہ صرف فلسطینیوں بلکہ مسلمانان عالم کے لئے ناقابل برداشت ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ مسجدالاقصی میں یہودیوں کی مذہبی رسومات کی انجام دہی بھی جارحیت شمار ہوتی ہے اور یہ سلسلہ اگر جاری رہتا ہے تو ایک بڑی جنگ پر منتج ہو سکتا ہے۔
جہاد اسلامی کے رہنما نے کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت اور صیہونی فوجیوں کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں تمام فلسطینی گروہ متحد ہیں اور وہ مسجد الاقصی اور بیت المقدس کے دفاع سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
جہاد اسلامی فلسطین کے ایک اور رہنما داؤد شہاب نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ مسجد الاقصی کے دفاع کی جنگ صرف فلسطینیوں کی جنگ نہیں ہے اور یہ جنگ علاقے تک محدود بھی نہیں رہ سکتی اور صیہونی دشمن کو اس حقیقت کو بخوبی سمجھنا ہوگا۔