فلسطینی مزاحمت، یوم القدس اور خائن مسلمان

یوم القدس، جسے امام خمینی نے یوم اللہ، یوم الاسلام قرار دیا اور فرمایا کہ اس روز ہر مسلمان اسرائیل کے غاصب قبضہ کے خلاف میدان میں آئے، اس روز کو منائے، ہم اس فرمان اور حکم کی تعمیل میں مظلوم فلسطینیوں کی آواز بن کر ان کے حقوق کی بازیابی، اسرائیل کی نابودی اور قبلہ اول کی آزادی کیلئے پوری شدت اور قوت سے میدان میں نکلیں گے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: بیت المقدس قبلہ اول پر غاصب اسرائیلی قبضہ کی طویل تاریخ مہذب کہلائی جانے والی دنیا کے منہ پر کالک نما داغ ہے، جس میں بے گناہ معصوم فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے غصب، ان کے آبائی وطن اور ان کی جائیدادیں و جاگیریں غاصبانہ طور پر ان سے چھین کر دوسرے ممالک سے لائے گئے آبادکار یہودیوں کو دینے، ان کے مکانات اور گھروں کو تاراج کرنے، انہیں ظالمانہ انداز میں شہید اور زخمی کرنے، ان کے مال و اسباب پر قبضہ کرنے انہیں بدترین شکنجوں میں کسنے اور بلا توقف ان پر آگ و بارود برسانے سے عبارت ہے، دنیا جو خود کو مہذب اور انسانی حقوق کی پاسدار و نگران کہتی ہے، اس کی منافقت اور جانبداری کا یہ عالم ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اسرائیل کے خلاف کسی بھی اٹھنے والی آواز کو زبردستی دبا دیا جاتا ہے۔ گویا اہل فلسطین انسان نہ ہوئے، کوئی بھیڑ بکریاں ہوگئے، جن کے کچھ حقوق ہی نہیں بلکہ ان سے بھی بدتر کہ اہل مغرب جانوروں کے حقوق کے بارے میں بھی خود کو بہت ہی مہذب بنا کر پیش کرتے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے بھی عالمی سطح پر قوانین اور فورمز بنا رکھے ہیں، فلسطینی مسلمانوں کی اپنے حقوق کی بازیابی، سفاک و وحشی اسرائیل کے مظالم کو بے نقاب کرنے اور دنیا کو اپنا درد اور نوحہ سنانے کیلئے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کرنا پڑ رہی ہیں۔ اس کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے، جب سے غاصب اسرائیل ان کے آبائی وطن پر زبردستی قابض ہوا ہے۔ مزاحمت کی یہ تاریخ، قربانیوں کی یہ داستانیں، شہداء کے یہ کارنامے، دنیا بھر کے آزادی و حریت خواہ لوگوں کیلئے حوصلوں کا باعث ہیں تو انسانی حقوق اور دنیا کو ضابطوں اور قوانین کا پابند بنانے کے عالمی فورمز کیلئے سوچ و بچار کرنے اور اہل فلسطین کو ان کے جائز حقوق دینے کا مطالبہ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ آج جب ہم یہ تحریر لکھ رہے ہیں تو ان مظلوم و مقاوم فلسطینیوں کیساتھ مسلمان عرب ممالک کی غداری اور ان سے لاتعلقی جبکہ اسرائیل کیساتھ تعلقات، تجارت اور رشتے قائم کرنے کے عنوان سے بہت ہی مایوس کن کردار کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

گذشتہ چند برس میں عرب ممالک جن میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، مراکش نے اپنے سفارتی تعلقات بحال کئے، اسرائیل کے سفارخانے جو دراصل امت مسلمہ میں ظلم و سفاکیت کی علامت ہیں، قائم کئے۔ گویا فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں مقبوضہ فلسطین کے ایک علاقے ’’النقب‘‘ میں چھ ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا گیا۔ اسرائیل، امریکہ، مصر، متحدہ عرب امارات، مراکش اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی میزبانی میں ’’النقب‘‘ سربراہی اجلاس کے دائرہ کار میں دو طرفہ مذاکرات منعقد کئے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ سربراہی اجلاس جو ملک کے جنوب میں صحرائے ’’النقب‘‘ میں صدِ بوقر بستی کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوا، اس میں اسرائیلی وزیر خارجہ Yair Lapid سمیت ان کے ہم منصب امریکہ سے انتھونی بلنکن، مصر سے سمیع شکری، متحدہ عرب امارات سے عبداللہ بن زاید، مراکش سے ناصر بوریطہ اور بحرین سے عبداللطیف بن راشد الزیانی شامل تھے۔

امت سے غداری اور صیہونیت پرستی کا یہ عالم ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے ’’النقب‘‘ علاقے میں چھے فریقی عرب امریکی اور صیہونی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو اے ای کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ لمحہ نشست میں حاضر سبھی کے لئے ایک تاریخی لمحہ ہے اور ہم دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو الگ طریقے سے روایت کرنے اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لئے کوشاں رہیں گے۔ اماراتی وزیر نے مزید کہا کہ ہم لوگوں کا ایک ساتھ کھڑے ہونا اور ہماری اقوام اور کمپنیوں کے آپسی تعلقات دہشتگردی اور انتہاء پسندی سے مقابلے کے طریقوں میں سے ایک ہے، ہم النقب اجلاس کے تاریخی ہونے پر زور دیتے ہیں اور ہمیں ان برسوں پر افسوس ہے، جو صلح کے حصول (صیہونی حکومت سے تعلقات کی بحالی) کے بغیر گزر گئے۔ عبداللہ بن زائد کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک الگ مستقبل کی تعمیر کی جائے اور دہشتگردی کو شکست دینے کے لئے آپس میں تعاون کیا جائے۔

اس کانفرنس میں بحرین کے وزیر خارجہ عبد اللطیف الزیانی نے بھی روزانہ کی بنیادوں پر فلسطینی عوام کے خلاف انجام پانے والی صیہونی دہشتگردی اور ان کے جرائم کو نظرانداز کرتے ہوئے انہی دنوں مقبوضہ فلسطین کے علاقے الخضیرہ میں ہوئی شہادت پسندانہ کارروائی کی مذمت کی اور کہا صلح و آشتی پر مبنی پرامن بقائے باہمی کے لئے ماحول کی فراہمی دوطرفہ احترام کی متقاضی ہے اور ہم فلسطین کے لئے ایک مستقل اور دائمی ملک کے خواہاں ہیں۔ نشست میں حاضر مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ نے بھی صیہونی جرائم کی جانب کوئی اشارہ کئے بغیر الخضیرہ میں فلسطینی نوجوان کی شہادت پسندانہ کارروائی کی مذمت کی اور فلسطین کے لئے دو ریاستی راہ حل کی حمایت کی۔ صیہونی حکومت سے قریب سمجھے جانے والے ملک مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے بھی کانفرنس کے اختتام پر کہا کہ ہماری گفتگو عمیق اور تعمیری رہی، جس میں خطے کو لاحق مختلف چیلنجوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے فلسطین کے لئے ایسے دو ریاستی راہ کی حمایت کی، جس میں بیت المقدس کو مرکزیت حاصل ہو اور ساتھ ہی صیہونی ٹولے اسرائیل کو بھی یقینی طور پر تحفظ حاصل ہوسکے۔

خیال رہے کہ مصر، عرب امارات، بحرین اور مراکش کے وزرائے خارجہ غاصب صیہونی حکومت کی سرکردگی میں ہونے والے اس اجلاس میں اکٹھا ہوئے تھے۔ ایران نے امریکی و صیہونی حکام کے ساتھ بعض عرب ممالک کے اس اجلاس کو شرارت اور فلسطینی کاز کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔ یہ اجلاس ان دنوں میں منعقد ہوا، جب فلسطینیوں نے مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کی ہے۔ مزاحمت کی اس نئی تاریخ میں فلسطینی نوجوان غاصب اور اپنی زمینوں پر آباد ہونے والے اسرائیلوں کو شہادت طلبانہ حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں اور غاصبوں کو ایسے خوف میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے ایک طرف خوف بڑھا ہے تو دوسری طرف فلسطینی نوجوانوں میں جوش و جذبہ اور خوشی و مسرت کے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجہ میں موت سے ڈر کر بھاگنے والوں اور اپنے ہدف و مقصد کیلئے موت کو گلے لگانے والوں کے مناظر بہت ہی دلکش ہیں۔

یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے ہر دور اور زمانے میں اپنے اس دیرینہ مسئلہ کو اپنی قربانیوں، مزاحمت پسندانہ کارروائیوں اور شہادت طلبانہ آپریشنز سے زندہ رکھا ہے۔ اس مزاحمتی تحریک اور کارروائیوں سے عرب ممالک ہوں یا غیر عرب، جن میں ترکی بھی شامل ہے، جس نے ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ اصل میں ان کے چہروں سے نقاب الٹے ہیں اور دنیا پر واضح ہوا ہے کہ کون ان مظلوموں اور کمزوروں، مستضعفین کا ہمدرد اور پشتبان ہے۔ جمہوری اسلامی ایران اور اس کی قیادت و رہبری نے اپنے اوپر سخت پابندیاں برداشت کی ہیں، مگر فلسطینیوں کی پشتبانی سے ہاتھ نہیں کھینچا، وگرنہ ترکی سمیت دیگر کتنے ہی مسلم ممالک نے اپنے تعلقات کو ترجیح دی ہے۔

جمہوری اسلامی ایران کے بانی انقلاب حضرت امام خمینی نے بیت المقدس کی آزادی اور مظلوم فلسطینیوں کی مدد و حمایت اور ان کی آواز بننے کیلئے جمعۃ الوداع جو امت مسلمہ میں ایک خاص دن کے طور پہ اہمیت رکھتا ہے، بعنوان یوم القدس منانے کا حکم صادر فرمایا تھا۔ یہ ہر سال پوری دنیا میں نہایت ہی عقیدت، شان و شوکت اور تزک و احتشام کیساتھ منایا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں مسلمان اور آزادی پسند اس دن سڑکوں پہ آکر اسرائیل کی غاصب و صیہونی تسلط پسند ناجائز حکومت کے خلاف اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین بھی اس روز امام راحل کے فرمان اور رہبر معظم کے اقوال کی روشنی میں قریہ قریہ، شہر شہر میدان سجاتے ہیں اور پاکستان کی فضائوں میں بھی امریکہ مردہ باد، اسرائیل نامنظور کا نعرہ پورے زور و شور سے گونجتا ہے۔

اس سال چونکہ ملکی سیاسی فضا اور مجموعی ماحول میں امریکہ کے بعض اقدامات کے باعث فضا بہت سازگار ہے تو یوم القدس کے جلسے، ریلیز، جلوسوں اور دیگر پروگرامز میں یہ نعرہ زیادہ بلند آہنگ سے سنائی دیگا۔ اگر ملکی فضا کو دیکھا جائے تو امریکہ کے خلاف اس فضا کو بنانے کیلئے ہم نے بے بہا قربانیاں دی ہیں۔ ہم تمام تر سختیوں اور مشکلات کے باوجود اپنے اس شعار سے پیچھے نہیں ہٹے اور آگے بڑھتے رہے ہیں۔ لہذا ہمیں ملک کی اس ٖفضا میں جب ہمارے اعلیٰ ایوان بھی اس نعرے سے گونج رہے ہیں تو یوم القدس کی ریلیوں میں لگاتے ہوئے اطمینان حاصل ہوگا کہ یہی وہ نعرہ ہے، جس کو بچے بچے کی زبان پر جاری کرنے کیلئے ہم ایک طویل جدوجہد رکھتے ہیں۔

یوم القدس، جسے امام خمینی نے یوم اللہ، یوم الاسلام قرار دیا اور فرمایا کہ اس روز ہر مسلمان اسرائیل کے غاصب قبضہ کے خلاف میدان میں آئے، اس روز کو منائے، ہم اس فرمان اور حکم کی تعمیل میں مظلوم فلسطینیوں کی آواز بن کر ان کے حقوق کی بازیابی، اسرائیل کی نابودی اور قبلہ اول کی آزادی کیلئے پوری شدت اور قوت سے میدان میں نکلیں گے۔ ہمارا یہ شعار ہے کہ قدس کی آزادی تک جنگ رہیگی، جنگ رہیگی۔ ہم بیت المقدس کی آزادی کیلئے اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑنے والے فلسطینی بھائیوں کیساتھ ساتھ ہیں۔ ہمارا تعلق نام نہاد عرب حکمرانوں سے نہیں بلکہ فلسطین کی مظلوم و باغیرت، شجاع و حریت پسند عوام سے ہے، جنہوں ان عرب خائنوں سے ہٹ کر مزاحمت کا راستہ منتخب کر رکھا ہے اور مزاحمت کے پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔