فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے ایران کا کیا شکریہ ادا

فلسطین کی تحریک حماس کے نائب سربراہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، فلسطین اور استقامت کی مدد اور حمایت کی بھاری قیمت ادا کررہا ہے

فاران: فلسطین الیوم کی رپورٹ کے مطابق بیروت میں یوم اسرائے فلسطین کی مناسبت سے منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری نے بیت المقدس پر قابض غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فلسطین کی مدد و حمایت کی قدردانی کی اورشکریہ ادا کیا۔

صالح العاروری نے کہا کہ ایران نے فلسطین اور استقامتی تنظیموں کی حمایت پر مبنی اپنے موقف کی بھاری قیمت چکائی ہے۔

انھوں نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں بیت المقدس میں فلسطینی قوم کی دلیرانہ جدوجہد اس کی حقیقی حیثیت و اہمیت کی عکاس ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم بیت المقدس اور مسجدالاقصی کے لئے اس وقت تک لڑتے رہیں گے جب تک ان مقدس مقامات کا حقیقی اسلامی، عربی اور فلسطینی تشخص بحال نہیں ہوجاتا۔

اس اجلاس میں تحریک جہاد اسلامی فلسطین کے رہنما محمد الھندی نے بھی زوردے کر کہا کہ فلسطینی عوام متحد ہو کر تمام محاذوں پر تحریک استقامت کے پرچم تلے ڈٹے ہوئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک غاصب صیہونی حکومت کو شکست نہیں ہوجاتی۔

محمد الھندی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم دشمن سے کہنا چاہتے ہیں کہ جنین پر اس کے حملے اور غزہ میں سہولیات ختم کرنے کی دھمکی ہمیشہ ایک غلطی ثابت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک میں فلسطینیوں اور مسجدالاقصی کے خلاف صیہونیوں کی جارحیتیں تیزہوگئی ہیں اور گذشتہ چند دنوں سے مسجدالاقصی صیہونیوں کی یلغارکا مرکز اور میدان جنگ بنی ہوئی ہے۔

بیت المقدس اور مسجدالاقصی پندرہ اپریل سے صیہونیوں کی یلغار کی زد پر ہے اوراس دوران روزہ دارنمازیوں پرصیہونیوں کے حملے گذشتہ ایک برس کے دوران سخت ترین حملے ثابت ہوئے ہیں ۔

درایں اثنا تل ابیب میں فلسطینیون کی کارروائیاں بڑھنے سے صیہونی حکام اور انتہاپسند صیہونیوں کے درمیان تشویش اورخوف پھیل گیا ہے اور صیہونیوں نے استقامتی کارروائیوں کی بنا پر فلسطینیوں کے خلاف اپنے حملے تیز کردیئے ہیں۔