فلسطینی وزارت خارجہ کا یہودی آبادی کے خلاف بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ

بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے مقبوضہ شامی گولان میں بستیوں کو گہرا کرنے اور وسعت دینے کے منصوبوں کی بھی مذمت کی۔

فاران: فلسطینی وزارت خارجہ اور سمندر پار امور نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین اور مقبوضہ شامی گولان میں یہودی آباد کاروں کے لیے نئی بستیوں کی تعمیر روکنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات پر زور دیا ہے۔

ہفتے کو ایک بیان میں وزارت خارجہ نے وادی اردن میں فارس چشمہ کے پانی کے مقام پر آباد کاروں اور ان کی دہشت گرد تنظیموں کے کنٹرول اور بستیوں کی تعمیر کی کارروائیوں کے آغاز، وادی اردن پر کھلی جنگ  قرار دیتے ہوئے یہودی آباد کاری اور قبضے کی تمام کوششوں کو مسترد کردیا۔

بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے مقبوضہ شامی گولان میں بستیوں کو گہرا کرنے اور وسعت دینے کے منصوبوں کی بھی مذمت کی۔ اس میں دو نئی بستیوں کی تعمیر اور وہاں چوکیوں کو وسعت دینے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کی ایک ایسے وقت میں جب قابض حکام نے قلندیہ ہوائی اڈے پر ہزاروں سیٹلمنٹ یونٹس کی تعمیر کی منظوری کو ملتوی کر دیا تو دوسری طرف انہوں نے ایک نئی بستی کی تعمیر کے لیے ایک نئے سیٹلمنٹ پلان پر کام شروع کیا ہے۔ یہ اسرائیلی حکام کی دوغلی پالیسی ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی مجرمانہ کوشش ہے۔