فلسطین۔اسرائیل اقتصادی سربراہ اجلاس ہتھیار ڈالنے کے مترادف: حماس

"حماس" کا کہنا ہے کہ اس راستے کو قبول کرنا نام نہاد معاشی امن کے عنوان سے قابض ریاست کے مشکوک منصوبوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور تسلیم کرنا ہے۔

فاران: اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان اقتصادی سربراہ اجلاس کے انعقاد کی تیاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اس کے نتائج پرخبردار کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا اسرائیل کے ساتھ سربراہ اجلاس منعقد کرنا دشمن کےسامنے ہتھیار ڈالنے اور گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے۔

ایک بیان میں حماس نے زور دے کر کہا ہے کہ اقتصادی سربراہ اجلاس کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب قابض ریاست ہماری سرزمین، ہمارے عوام اور ہمارے مقدس مقامات کے خلاف یہودیت اور آباد کاری کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

“حماس” کا کہنا ہے کہ اس راستے کو قبول کرنا نام نہاد معاشی امن کے عنوان سے قابض ریاست کے مشکوک منصوبوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور تسلیم کرنا ہے۔

حماس نے وضاحت کی کہ یہ قابض ریاست کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے تاکہ دشمن کو فلسطینیوں پر مزید غیرمنصفانہ اقدامات کو مسلط کرنے کا موقع ملے اور اسے اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے مدد فراہم کی جائے۔

منگل کو اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 2009 کے بعد پہلی بار اسرائیل- فلسطینی اقتصادی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔