فلسطین کا فیصلہ عرب ممالک کے سربراہوں نے نہیں بلکہ فلسطینی عوام نے کرنا ہے، حزب‌ الله

حزب‌ الله کا کہنا تھا کہ ملت فلسطین ہر روز اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس مجرم دشمن سے نہ امن کی بات ہوسکتی ہے اور نہ تعلقات معمول پر لائے جا سکتے ہیں بلکہ فلسطین کی مکمل آزادی اور فتح کے حصول تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

فاران: حزب‌ الله لبنان نے مقبوضہ فلسطین کے علاقے ”خضیرہ” میں ہونیوالے حملوں کو بعض عرب رہنماوں کی صیہونیوں سے ہونیوالی خیانت آمیز ملاقاتوں کا واضح جواب قرار دیا ہے۔ فارس نیوز کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق، لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب‌ الله نے گذشتہ شب مقبوضہ فلسطین میں ”حیفا” کے علاقے ”الخضیرہ” میں ہونے والے شہادتی آپریشن پر اپنے ردعمل میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اس آپریشن کی مبارک دی۔ ”المیادین” کی رپورٹ کے مطابق، اس بیان کے مندرجات میں آیا ہے کہ ”الخضیرہ” میں ہونے والا حملہ، ملت فلسطین کی ثابت قدمی اور تمام ممکنہ وسائل سے قابض حکومت سے مقابلہ کرنے کے عزم پر زور دیتا ہے۔ حزب‌ الله نے مزید کہا کہ حالیہ ہونے والا حملہ بعض عرب ممالک کے سربراہوں کی صیہونی رہنماوں سے ہونی والی خیانت آمیز ملاقات کا واضح اور اہم جواب ہے، جو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لا رہے ہیں۔

اسی بیان کے ذیل میں آیا ہے کہ ایسی ملاقات بے فائدہ ہے، کیونکہ اصل فیصلہ تو فلسطینی عوام نے کرنا ہے۔ حزب‌ الله کا کہنا تھا کہ ملت فلسطین ہر روز اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس مجرم دشمن سے نہ امن کی بات ہوسکتی ہے اور نہ تعلقات معمول پر لائے جا سکتے ہیں بلکہ فلسطین کی مکمل آزادی اور فتح کے حصول تک وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ یاد رہے کہ گذشتہ شب کے شہادتی حملے، ”نقب” میں عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ اجلاس کے وقت شروع انجام دیئے گئے۔ گذشتہ شب مقبوضہ فلسطین کے علاقے ”نقب” میں صیہونی وزیر خارجہ ”یائیر لاپیڈ” کی زیر صدارت ہونے والا اجلاس چار عرب ممالک مصر، امارات اور بحرین کے علاوہ آمریکا کے تعاون سے شروع ہوا تھا۔ دوسری جانب خبری ذرائع کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں دو صیہونی ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ بعض ذرائع نے ان حملوں میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے۔