قائد اعظم کے اصولوں کے مطابق پاکستان اسرائیل کو ناجائز اور غاصب ریاست ہی تصور کرتا ہے: فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے طے کردہ اصولوں کے مطابق پاکستان اسرائیل کو ناجائز اور غاصب ریاست ہی تصور کرتا ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے طے کردہ اصولوں کے مطابق پاکستان اسرائیل کو ناجائز اور غاصب ریاست ہی تصور کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تیئس مارچ یوم پاکستان کے موقع پر کراچی پریس کلب میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے سرپرست اراکین نے کہا کہ یوم پاکستان و یکجہتی فلسطین قائداعظم محمد علی جناح سمیت بانیان پاکستان سے تجدید عہد ہے۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سرپرست اراکین نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے طے کردہ اصولوں کے مطابق پاکستان اسرائیل کو ناجائز اور غاصب ریاست ہی تصور کرتا ہے، قائداعظم نے اسرائیل کو ناجائز ریاست قرار دے کر دنیا پر واضح کیا کہ اسرائیل فلسطین پر قائم ایک غاصب اور ناجائز صہیونی ریاست ہے۔

مقررین میں سابق اراکین سندھ اسمبلی محفوظ یار خان، میجر (ر) قمر عباس رضوی، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صدر علامہ باقر عباس زیدی، جمعیت علماء پاکستان سندھ کے صدر علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید ارشد نقوی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسرار عباسی، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری یونس بونیری، پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما پیرزادہ ازہر علی ہمدانی، پاکستان مسلم لیگ ق کے صادق شیخ، کشمیری رہنما بشیر سدو زئی، پائیلر کے چیئرمین کرامت علی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم سمیت عرم بٹ اور دیگر نے خطاب کیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ بانیان پاکستان اور بالخصوص قائداعظم محمد علی جناح نے سنہ 1917ء میں بالفور اعلامیہ کے بعد ہی فلسطین پر صہیونی غاصبانہ تسلط کی سخت مذمت کی تھی اور وقتا فوقتا برطانوی حکومت کو اپنے غم و غصہ سے آگاہ کیا تھا، علامہ اقبال نے سفر فلسطین کے دوران فلسطین میں کانفرنس میں شرکت کی اور بعد ازاں بر صغیر میں فلسطین کی حمایت کے لئے تاریخی اشعار کے ساتھ ساتھ فلسطین پر صہیونی تسلط کے خلاف جدوجہد میں شامل رہے اور کہا کہ اگر اس کے عوض مجھے جیل میں بھی ڈال دیا جائے تو میں تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں سنہ 1933ء سے 1946ء تک فلسطین کی حمایت میں اٹھارہ قراردادیں پیش کیں۔

23رہنماؤں نے کہا کہ مارچ سنہ 1940ء کو تاریخی موقع پر بھی قائداعظم نے فلسطین کی حمایت میں قرارداد منظور کی، اس سے قبل قائداعظم محمد علی جناح نے سنہ 1939ء میں برطانوی وائٹ پیپر کی شدید مخالفت کی کہ جس میں یہودیوں کی فلسطین میں محدود ہجرت کی بات کی گئی تھی، اسی طرح انہوں نے سپریم عرب کونسل کی حمایت کی اور قرارداد پاکستان کے تاریخی موقع پر یکجہتی فلسطین کی قرارداد منظور کرتے ہوئے فلسطین فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ قائداعظم کی یکجہتی فلسطین سے متعلق سیرت ہمارے لئے نمونہ عمل ہے، دور حاضر میں چند عرب اور غیر عرب ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرکے فلسطین کی مظلوم عوام اور امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ کر بہت بڑی خیانت کی ہے اور کچھ عرب اور غیر عرب حکومتیں پاکستان پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لئے دباؤ ڈال رہی ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ ان تمام حکومتوں کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے اور قائداعظم محمد علی جناح کے طے کردہ اصولوں کے مطابق پاکستان اسرائیل کو ناجائز اور غاصب ریاست ہی تصور کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند کالی بھیڑیں پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی طرف لے جاکر اپنی تجوریاں بھرنے کے خواب دیکھ رہی ہیں تاہم پاکستان کے عوام اس خواب کو کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مسئلہ فلسطین اور کشمیر کو سرفہرست رکھا جائے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والی عرب اور غیر عرب مسلم ریاستوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور اس عمل کو روکا جائے۔