قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کی سرحد پر ہائی الرٹ بڑھا دیا

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ "غزہ کی پٹی کی سرحدوں کے قریب علاقے کے ساتھ سڑکوں اور اطراف کو بند کردیا گیا ہے اور زیکیم ساحل پر بھی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہے۔

فاران: منگل کے روز قابض فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر خطرے کے پیش نظر الرٹ کا اعلان کیا ہے اور فوج کو چوکس کر دیا گیا ہے۔ یہ الرٹ غرب اردن میں اسلامی جہاد کے ایک رہنما بسام السعدی کی گرفتاری اور فلسطینیوں کی شہادتوں کے واقعات پر رد عمل کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ “غزہ کی پٹی کی سرحدوں کے قریب علاقے کے ساتھ سڑکوں اور اطراف کو بند کردیا گیا ہے اور زیکیم ساحل پر بھی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ غرب اردن میں اسلامی جہاد کے رہ نما کی گرفتاری اور علاقے میں فلسطینیوں کے قتل کے متعدد واقعات کے بعد مزاحمت کاروں کی جوابی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ عسقلان اور سدیروت کے درمیان ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی گئی ہے اور ایریز بیت حانو کراسنگ کو آمد و رفت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ الرٹ کی حالت “جنین میں بسام السعدی کی گرفتاری کے بعد، غزہ سے سنائپر فائر اور اینٹی میزائلوں کے خدشات کی وجہ سے آئی ہے۔”قابض ریاست کے اندازوں کے مطابق اسلامی جہاد راکٹ اور “کورنیٹ” میزائل فائر کرنے لانچ کرے گا، جن کی رینج پانچ کلومیٹر تک ہے اور بھاری مشین گن فائرسے غزہ کے اطراف میں گولہ باری کا خطرہ موجود ہے۔

فلسطین میں اسلامی جہاد تحریک کے عسکری ونگ “القدس بریگیڈز” نے الرٹ کا اعلان کیا تھا اور اپنے جنگجوؤں کی تیاری کی سطح بڑھا دی تھی۔