محترمہ افتخاری: فلسطین کا دفاع حق کا دفاع ہے

اسلامی مشاورتی اسمبلی میں تہران کی سابق نمائندہ خاتون نے کہا: قدس مسلمانوں کے اتحاد کا محور اور عالمی استکبار اور بین الاقوامی صیہونیت کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: “خواتین اور القدس” کے زیر عنوان منعقدہ بین الاقوامی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی اتحاد پارٹی کی مرکزی کونسل کی رکن لالہ افتخاری نے کہا: یوم قدس یوم فلسطین نہیں ہے بلکہ امام خمینی کے فرمان کے مطابق یوم القدس یوم اسلام، یوم اسلامی حکومت اور یوم رسول اسلام ہے۔ فلسطین اور قدس شریف اسلام کی ناموس ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: “حقیقت میں ہم یوم قدس کو فلسطینی خاندانوں کی خواتین، لڑکیوں اور مردوں کا دن اور عالم اسلام کا دن سمجھتے ہیں جو ہماری بہنیں، بھائی اور بیٹیاں ہیں۔”
افتخاری نے اس بات پر زور دیا کہ قدس مسلم اتحاد کا محور اور عالمی استکبار اور بین الاقوامی صیہونیت کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے، فلسطین کا دفاع حق کا دفاع ہے، جو فلسطینی عوام اور قوم سے کہیں زیادہ وسیع حقیقت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یوم قدس اور قدس کا مسئلہ صیہونی حکومت اور عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد ہے۔
اسلامی مشاورتی اسمبلی میں تہران کی سابق نمائندہ خاتون نے کہا: “ہم فلسطین میں اپنے تمام عزیزوں اور دنیا میں ہر جگہ مزاحمت کے محور اور خاص طور پر فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کا ساتھ دینے کے مقصد سے اکٹھے ہوئے ہیں۔”
افتخاری نے آخر میں قدس شریف بین الاقوامی کانگریس کے درج ذیل موضوعات کو بیان کیا: نوجوان نسل کی تعلیم کے لیے قرآنی حکمت عملی، فلسطینی خواتین اور بچوں کے حقوق کے احیاء میں خواتین کی تنظیموں اور فعال کمیونٹیز کا کردار، اسلامی تہذیب کے احیاء میں مزاحمتی نوجوانوں کا فعال کردار، شعر اور ادب میں فلسطینی خواتین اور نوجوانوں کا کردار، قرآن کریم کی ترویج و توسیع میں مزاحمتی خواتین کا کردار، صیہونی حکومت کی نابودی، بین الاقوامی اسناد میں فلسطینی گھرانوں اور خواتین کا کردار، قدس شریف اور مزاحمت کے دفاع میں مسلمان خواتین کا باہمی کردار، اسلامی رہنماؤں کے اثرات، فلسطینی خواتین اور بچے، تعلیمی اور سماجی چیلنج۔
واضح رہے کہ “خواتین اور قدس شریف” بین الاقوامی کانفرنس اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی اور دیگر متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایران اور دیگر ممالک کے مفکرین نے شرکت کی۔