مسجد الاقصیٰ میں فلسطینی روزہ داروں پر صہیونی فوجیوں کا حملہ، 19 فلسطینی زخمی

صیہونی فوجیوں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ کے قریب ماہ رمضان کی دعائیہ رسومات پر دھاوے کے بعد متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

فاران:  فارس نیوز کے مطابق، فلسطینی ذرائع ابلاغ نے پیر کی صبح کو ”باب العمود” اور ”مسجد اقصیٰ” کے صحن میں ماہ رمضان اور مسلمان روزہ داروں کی تقریبات پر غاصب صیہونی فوجیوں کے حملے اور ان سے جھڑپوں کی خبر دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، خفیہ پولیس اور گھوڑ سوار دستوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجیوں نے تمام جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر نہتے فلسطینیوں پر حملہ کیا اور رمضان کی تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ فلسطینی الیکٹرانک میڈیا ”قدس” نے رپورٹ دی ہے کہ ”بیت المقدس” کے علاقے ”باب العمود” میں صہیونیوں کے وحشیانہ حملے کے دوران ایک نوجوان زخمی ہوگیا ہے۔ فلسطینی ہلال احمر نے بھی خبر دی ہے کہ فلسطینی نوجوانوں پر صہیونی عسکریت پسندوں کی جانب سے چلائی گئی پلاسٹک کی گولیوں سے ابھی تک کم از کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ الجزیرہ نے مقامی ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ”باب العمود” کے علاقے میں فلسطینیوں پر حملے کے دوران ایک صیہونی خاتون پولیس اہلکار زخمی ہوگئی ہے۔

فلسطین کی وزارت صحت نے ابھی کچھ ہی دیر قبل مسجد اقصیٰ پر صیہونیوں کے حملے کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد بڑھ کر گیارہ ہونے کی خبر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں متعدد فلسطینی جوان گرفتار کر لئے گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی خفیہ فورسز اور اسرائیل کی پولیس کے گھوڑ سوار دستے ”باب العمود” کے علاقے میں فلسطینی نوجوانوں کو حراست میں لے رہے ہیں اور انہیں رمضان کی تقریبات منعقد کرنے سے روک رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ واقعات ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں، جب گذشتہ شب ”جہاد اسلامی” فلسطین کے سیکرٹری جنرل ”زیاد النخالہ” نے صیہونی حکومت کو فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ”بیت المقدس” کی آزادی تک مزاحمت کا راستہ جاری رکھیں گے۔