مسجد الاقصیٰ پر حملوں کے پیچھے عرب ممالک کا ہاتھ: مجتہد کا انکشاف

سوشل میڈیا پر سرگرم سعودی شہری اور انکشاف کرنے والے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا کہ مسجد اقصیٰ کا واقعہ تل ابیب اور بعض عرب ممالک کی ہماہنگی کا نتیجہ ہے۔

فاران: سعودی عرب کے ایک انکشاف کرنے والے کا کہنا ہے کہ مسجد الاقصی میں جو واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ تل ابیب کی عرب ممالک کے ساتھ ہماہنگی کا نتیجہ ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم سعودی شہری اور انکشاف کرنے والے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا کہ مسجد اقصیٰ کا واقعہ تل ابیب اور بعض عرب ممالک کی ہماہنگی کا نتیجہ ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے سوشل میڈیا کے انکشاف کنندہ اور سرگرم کارکن “مجتہد” نے مسجد الاقصی کے حالیہ واقعات میں بعض عرب ممالک کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ خلیج فارس، سعودی عرب، فلسطین اور اردن کے بعض ذرائع کے مطابق، مسجد اقصیٰ کا واقعہ اسرائیل اور اردن نیز مصر سمیت متعدد عرب ممالک کے درمیان پیشگی ہم آہنگی کے بعد رونما ہوا ہے جس میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، فلسطینی انتظامیہ اور کچھ عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ امریکہ نے عرب ممالک کو اسرائیل کے موقف کی حمایت کرنے پر مجبور کیا ہے۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد الاقصی اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی جارحیت میں شدت آئی ہے۔

بیت المقدس اور مسجد الاقصی کے مختلف صحنوں میں غیر قانونی طریقے سے بسائے گئے صہیونیوں اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان، جمعے کو شدید جھڑپیں ہوئی تھیں جن کی کم سے کم پچھلے ایک سال کے دوران کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ان جھڑپوں میں تین سو سے زائد فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

رمضان المبارک کے آغاز سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سلامتی کی صورتحال انتہائی مخدوش چلی آرہی ہے اور صیہونی حکومت رائے عامہ کے دباؤ سے بچنے اور اپنی جعلی طاقت کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خبروں کو شدید طور پر سینسر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔