مشترکہ اور غیر متوقع آپریشن سے اسرائیل کی نیند ہوئی حرام

استقامتی محاذ کے مشترکہ اور غیر متوقع آپریشن نے اسرائیل کی نیند حرام کر دی۔

فاران: شمالی محاذ پر حزب اللہ لبنان کے حملوں میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ جمعرات کو یمن کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف پہلا مشترکہ ڈرون آپریشن کر کے عراقی مزاحمت نے ایک نئے مرحلے کا آغاز کردیا۔

استقامتی محاذ کے اس مشترکہ آپریشن کا مقصد، صیہونی حملہ آوروں سے جنگ کے دائرے کو مزید مضبوط اور تنگ کرنا ہے۔

عراق کی اسلامی مزاحمت کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے تناظر میں مزاحمت کے محور کی دیگر جماعتوں بالخصوص یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کی شمولیت سے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک نیا محاذ کھول دیا گیا ہے۔

لبنان کے اخبار الاخبار نے ہفتے کے روز ایک مقالے میں لکھا کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی قبضے کے خلاف یمن کی کارروائی کے چوتھے مرحلے کے تحت، دشمن کے اہم اہداف کے خلاف مزاحمت کے دیگر محاذوں کے ساتھ غیر متوقع اور مشترکہ کارروائیاں” شامل ہوں گی۔

اس سلسلے میں، عراقی استقامت نے گزشتہ جمعرات کو بتایا تھا کہ اس نے مقبوضہ فلسطین کی بندرگاہ حیفا میں یمنی مسلح افواج کے ساتھ دو مشترکہ ڈرون آپریشن انجام دیئے اور زیادہ شدت کے ساتھ اسرائیلی ٹھکانوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رہے گا۔

بریگیڈیئر جنرل یحییٰ السریع نے بھی ان مشترکہ ڈرون کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پہلے آپریشن میں فوجی سامان لے جانے والے دو بحری جہازوں” کو نشانہ بنایا گیا اور دوسری کارروائی میں “مقبوضہ علاق حیفا کی بندرگاہ کی طرف جانے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز” کو نشانہ بنایا گیا۔