ملک کے موجودہ حالات میں اتحاد و ہمدلی کی ضرورت

ہم اگر مل جل کر قدم بڑھائیں گے تو ایسا نہیں ہے کہ اسکا اثر نہیں ہوگا یقینا اثر بھی ہوگا ابھی توہین رسالت کے معاملے میں ہی دیکھ لیں  کچھ ہی اسلامی ممالک نے زبان کھولی تھی اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟  اگر سارے اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر ہوتے تو یقینا اسکا اثر ہی کچھ اور ہوتا ؟

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: یقینا وطن عزیز ہندوستان میں روز بروز نفرتوں کی مسموم فضا ہے ہر طرف تیزی کی ساتھ چھاتی جا رہی ہے ، گھٹن کا  ایسا ماحول بنتا جا رہا ہے کہ جینا دوبھر ہے، ایسی فضا ہے کہ  جس میں اس وقت ہر آزاد ضمیر انسان گھٹن کا احساس کر رہا ہے ہر صاحب دل و احساس اس چیز کو لیکر بے چین و پریشان ہے کہ نئی نسل کا کیا ہوگا ؟ ان نفرتوں کے سایے میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کس طرح سے خون خرابے پر اتارو ہوگی اس کا اندازہ  آپ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز پوسٹوں کے ذریعہ لگا سکتے ہیں  جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور لاکھوں لوگ صبح اٹھتے ہی ان پوسٹوں کی صورت نفرتوں کا زہر اپنے وجود کے اندر انڈیل لیتے ہیں ، یہ ساری مسمومیت ایک طرف ہے دوسری طرف مسلسل ہم دیکھ رہے ہیں ان ماوں کی فریادوں کو جنہوں نے اپنے  معصوموں کو  کھو دیا ، ان بے گھروں کے آنسووں کو جن کے گھروں کو بغیر کسی عدالتی کاروائی کے مندہم کر دیا گیا؟ ایسے میں کیا ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ملک کی سالمیت کو یقینی بناتے ہوئے موجودہ ظلم و ستم کے خلاف اپنی پر امن آواز اٹھائیں؟ کیا تصور مہدویت ہم سے بس اتنا ہی مطالبہ کرتا ہے کہ دعائے فرج پڑھتے رہیں الہی عظم البلاء کا ورد کرتے رہیں روز دعائے عہد پڑھتے رہیں  ہر جمعہ کو دعائے ندبہ پڑھ کر اپنے امام  ع کو یاد کرتے رہیں ، یقینا یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو ہماری امام علیہ السلام سے محبت کی دلیل ہیں اور ہونا بھی چاہیے لیکن  سماج و معاشرے سے کٹ کر لاتعلق ہو کر ان دعاوں  کی پر امن وادی میں چھپ جانا یہ ہرگز عقیدہ مہدویت کا تقاضا نہیں ہے اس لئے کہ ہمارا ماننا تو یہی ہے کہ وہ مہدی دوراں عج  جسکا ہم  انتطار کر رہے ہیں جب آئے گا تو دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہوگا ، تواب ہماری زندگی میں بھی اس عقیدے اس تصور کی جھلک دکھنا چاہیے  ظلم کے خلاف خاموشی جہاں بھی ہو موت سے عبارت ہے ہم وہ لوگ ہیں جوزندہ امام پر یقین رکھتے ہیں ایسا امام جو ہمیں دیکھ رہا ہے ہم پر حاضرو ناظر ہے ۔

موجودہ حالات میں ہم کیا کریں؟

ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہر ایک سوال کرتا نظر آتا ہے  ایسے وقت میں جب ہمارا دشمن پوری طاقت سے ہمیں دبانا چاہتا ہے جب ہمارے خلاف ماحول تیار ہے کہ انہیں تباہ کر دیا جائے ایسے ماحول میں جب میڈیا ہمارے خلاف زہر اگل رہا ہے ایسے ماحول میں جب ہمارے مقدسات کی دھلڑے سے توہین ہو رہی ہے ایسے ماحول میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور اس گستاخی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ہم کیا کریں کہ خود بھی محفوظ رہیں اور دشمن کو بھی موقع نہ مل سکے کہ وہ ہمیں بدنام کرے یا اپنی گندی سیاست کو  ہمارے خلاف استعمال کرے  یہ وہ مسئلہ ہے جس پر مل بیٹھ کر گفتگو کی ضرورت ہے ،اپنے ہندو بھائیوں اور دیگر حق پسند و منصف مزاج  برادران وطن کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور اس خطرناک صورت حال میں آگے بڑھ کر ان لوگوں کی صحیح راہنمایی کی ضرورت ہے جن کے اندر جذبہ ہے کچھ کر گزرنے کا جن کے اندر حرارت ایمانی ہے اور انکے دلوں میں ایک آگ اٹھ رہی موجودہ حالات کو دیکھ  کر، لیکن صحیح ڈائریکشن نہ ہونے کی بنا پر جذبات کے دھارے میں بہہ جانے کی وجہ سے دشمن کے بچھائے جال میں پھنس جاتے ہیں ، ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کو اپنے حق میں استعمال کریں اپنی باتوں کو مضبوطی کے ساتھ وہاں رکھیں اسی طرح ہمارے پاس وکیلوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک ہونا ضروری ہے جو کہ قانونی چارہ جوئی کر سکے، اور خدا نخواستہ اگر کسی بے گناہ کو پھنسانے کی کوشش کی جائے تو اسے بر وقت  قانونی مدد پہنچائی جا سکے ، یہ سب کچھ اسی عقیدہ انتظار کا تقاضا ہے جو ہماری شناخت ہے اسی عقیدہ مہدویت کا تقاضا ہے  جس کے بغیر ہمارا  پہچان  نامکمل ہے۔

بعض مسائل وہ ہوتے ہیں جن کا حل فوری ہوتا ہے بعض وہ ہوتے ہیں جنکے حل کے لئے وقت درکار ہوتا ہے  ہمیں فوری مسائل کے حل کے لئَے بھی سوچنا ہوگا دیر پا  منصوبہ بندی بھی ضروری ہے ، ہم اگر مل جل کر قدم بڑھائیں گے تو ایسا نہیں ہے کہ اسکا اثر نہیں ہوگا یقینا اثر بھی ہوگا ابھی توہین رسالت کے معاملے میں ہی دیکھ لیں  کچھ ہی اسلامی ممالک نے زبان کھولی تھی اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟  اگر سارے اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر ہوتے تو یقینا اسکا اثر ہی کچھ اور ہوتا ؟  یہ تو بیرونی دنیا کا اثر تھا کاش ہم سب اپنی طاقت کو پہچانیں اور من و تو کے جھگڑوں سے باہر نکل کر متحد ہو کر منصوبہ بندی کریں متحد ہو کر سوچ سمجھ کر کی گئی منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھیں تو یقینا فاشستی طاقتوں کو لگام دینے میں ایک دن ضرور کامیاب ہوں گے لیکن یہ تبھی ہوگا جب ہم حرکت کریں  گے آگے بڑھیں گے اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں گے  ایک دوسرے پر انگلی اٹھانے کے بجائے ایک دوسرے کی انگلی تھامیں گے یقینا اسی دن ہمارے دشمن کے پسینے چھوٹ جائیں گے  ہم جانیں  نہ جانیں لیکن  دشمن خوب جانتا ہے کہ اتحاد کی طاقت کیا ہے ۔