ملک کے موجودہ مسائل اور تصور مہدویت کے تقاضے

شک نہیں کہ موجودہ ملک کے حالات میں ہم سب کو اپنی صفوں کو منظم کر کے ایک متعین ہدف کی طرف آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ، جہاں ہم نے امید کا دامن چھوڑا وہی سے ہماری تباہی کی بھیانک داستان رقم ہونا شروع ہو جائے گی  جس کے لئے تمام اسباب مہیا ہیں قلم و قرطاس و خون کی روشنائی سبھی کچھ مہیا ہے بس ایک امید ہے جس کے سہارے ہم جی رہے ہیں

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: پوری منصوبہ بندی کے ساتھ جس طرح مسلمانوں کو وطن عزیز میں حاشیے پر لا کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسی بھی صاحب فکر و شعور سے پوشیدہ نہیں ہے ، حکومتی مشینری  پوری لگن کے ساتھ جہاں ایک مذہب کو ملک سے کھدیڑنے پر جٹی ہے وہیں ایک خاص فکر کو سب کے سروں پر تھوپنے کی جو کوشش ہو رہی ہے وہ ہر ایک  فکر و نظر کے حامل فرد پر عیاں ہے۔  کیا کچھ ملک میں ہو رہا ہے  اسکے  لئے اس بات کے  بیان کرنے کی ضرورت کہ  ہم نشانے  پر ہیں اور ہمیں ہی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،  کسے نہیں معلوم کہ مسلسل ایک خاص فرقے کو نشانا  بنائے جانے کے پیچھے کیا محرکات ہیں  کون ایسا فرد ہے جو نہیں جانتا کہ  ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو مسلسل ہراساں کرنے کے پیچھے کیا عوامل ہیں آپ ذرا ایک دن کی خبروں کا جائزہ تو لیں، کہیں جھوٹے کیسز میں کمسن بچوں اور نابالغوں کا پھنسایا جا رہا ہے تو کہیں  گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں  ایسے میں ہر ایک حیران و پریشان ہے کہ آخر یہ نفرتوں کی آندھی تھمنے کا نام کیوں نہیں لے رہی ہے ، ایک طرف شاتم رسول ص کے ساتھ بعض لوگ کھلی ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری طرف  اپنے رسول ص کے خلاف  نازیبا  الفاظ  کے بیان پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو ملک کا دشمن ، امن و سلامتی کا مخالف بتایا جا رہا ہے ، ایسے میں ہم سب کے لئے بہت اہم ہے کہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھیں اور ہرگز دشمن کی چال میں نہ آئیں جو کہ عقیدہ مہدویت کے اندر انحراف پیدا کرکے اس تعمیری عقیدے  کو اپنے عزائم تک پہنچنے  میں  تخریب کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے اور یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ تم سے کوئی مطلب نہیں ہے تم بس مصلے پر بیٹھ کر دعا کرو جو ہونا ہوگا وہ ہو کر رہے گا دنیا میں ظلم و ستم کا خاتمہ تو تبھی ہوگا جب امام وقت آئیں گے ہمارے تمہارے کرنے سے کیا ہو سکتا ہے نہ ہم کسی کے گھر پر چلتا ہوا بلڈوزر روک سکتے ہیں نہ پولیس حوالات میں کسی پر پڑتی ہوئی لاٹھیوں کو روک سکتے ہیں اور نہ ہی کمسن و نابالغ بچوں کو زود کوب ہونے سے بچا سکتے ہیں ہمارا کام ہے دعاء کرنا بس ہمیں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا ہے، یہ وہ انحرافی فکرہے  جس کا تعلق توحید و مہدویت سے  رتی برابر بھی نہیں اس کے برخلاف  مہدویت وہ عقیدہ ہے جو دلوں میں امید کے زندہ رہنے کا سبب ہے انسان کی حرکت کا سبب ہے انسان کے آگے بڑھنے کا سبب ہے مشکلات کی گرہوں کے کھل جانے کا سبب ہے وہیں دشمن کی جانب سے مسلسل اس پر حملے ہو رہے ہیں اور ان حملوں سے بے خبری بہت خطرناک ہے جس کی جانب رہبر انقلاب اسلامی اشارہ کرتے ہوئے فرماتے  ہیں :

“میں نے ایک ایسی دستاویز دیکھی ہے جس میں سامراج کے بڑے بڑے اعلی عہدے داروں نے اس بات کی ہدایت کی ہے کہ ہمیں کچھ ایسا کرنا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ مہدویت کا عقیدہ لوگوں کے دلوں سے زائل ہو جائے ان سب کی سوچ یہ ہے کہ جب تک مہدویت کا عقیدہ رہے گا  ہم ان لوگوں پر مسلط نہیں ہو سکیں گے۔

آپ دیکھیں کہ مہدویت کا عقیدہ کس قدر اہم ہے  وہ لوگ کس قدر غلط کر رہے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ روشن خیالی کے نام پر تجدد پسندی کے نام پر اسلامی عقائد کے مطالعہ کے بغیر اس بات کو جانے ہوئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اسلامی عقائد کو متزلزل کر دیں یہ سب وہی چیز ہے جو دشمن ہم سے چاہتا ہے۔

آج ہر وہ آواز جو کسی کے گلے سے لوگوں کو نا امید کرنے کے لئے نکلے تو جان لینا چاہیے آواز کسی کی ہو لیکن گلا دشمن کا ہے چاہے اسے خود پتہ ہو یا نہ ہر ایک قلم جو ایک لفظ بھی لوگوں کو ناامید کرنے کے لئے لوگوں کو مایوس کرنے کے لئے کاغذ پر چلے یہ قلم دشمن سے متعلق ہے چاہے صاحب قلم کو پتہ ہو یا نہ پتہ ہو، دشمن اسے استعمال کر رہا ہے ۔

البتہ یہاں پر ایک بات قابل غور ہے کہ جب عالمی سامراج و اسکتبار نے دیکھا کہ ہم اس عقیدے کو نہیں چھین سکتے تو اب وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کے ذہن و دل و دماغ میں تخریبی کاروائیاں کریں ، اس عقیدے کی تخریب کیوں کر ہو سکتی ہے؟ اس طرح ہو سکتی ہے کہ کہا جائے مولا جب آئیں گے آقا جب آئیں گے تو سارے کام خود بخود صحیح ہو جائیں گے یہ عقیدے کے ساتھ کھلواڑ ہے یہ ایک مقوی و اثر بخش دوا کو ایک نشے کی گولی میں بدل دینا ہے کہ مولا آ کر خود ہی سب کچھ کریں گے  کیا مطلب ہے اسکا ؟ آج ہماری ذمہ داری کچھ نہیں ہے ؟ آج ہمیں کیا کرنا ہے ؟ آج آپ کو فضا فراہم کرنا ہے تاکہ وہ جو آنے والا ہے وہ آئے اور ایک سازگار ماحول میں اپنا کام کر سکے”[1] ۔

عالمی استعمار و صہیونیت کی سازش اور عقیدہ انتظار:

جمود انحطاط کو امت پر مسلط کرنے کے لئے جو منصوبہ بندی عالمی سامراج و صہیونیت نے کی ہے وہ بہت خطرناک ہے اسی لئے وہ انتظار کے مفہوم کو غلط طور پر رائج کرنا چاہتے ہیں اس طرح کہ جس میں حرکت نہ ہو جس میں جمود ہو جس میں آگے بڑھنے کی لگن نہ ہو جو جہاں ہے وہیں رہے اور انتظار کرتا ہے کہ امام آئیں گے تو کچھ کریں گے یہ استعماری سازش ہے کہ انتظار کے مفہوم کو غلط طور پر رائج کیا جائے رہبر انقلاب اسلامی اس سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

“آج عالمی استعمار و صہیونیت اس بات میں کوشاں ہے کہ جو کچھ انہوں نے اقوام کے سروں پر تھوپ دیا ہے اس کی عادت کر لیں انہیں ایک ثابت رنگ دے دیں ایسا رنگ جو ابدی ہو جس میں کوئی تبدیلی نہ لائی جا سکے ، آج استکباری طاقتیں غفلت کی نیند چاہتی ہیں انہیں پسند ہے کہ معاشروں کے اندرحرکت نہ ہو یہ ان چیزوں کو اپنے لئے جنت سمجھتی ہیں، لیکن امام زمانہ کا انتظار اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان موجودہ حالات پر قانع نہ ہو اور بہتر ہونے کے بارے میں سوچے  ان حالات تک پہنچنے کی کوشش کرے جو بہتر ہوں” [2]۔

رہبر انقلاب اسلامی کے اس بیان کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ انتظار کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا نہیں ہے بلکہ عقیدہ انتظار ہمارے وجود کے اندر حرکت کا سبب ہے اسکا تقاضا ہے کہ ہم معاشرے کی بہتری کے بارے میں سوچیں ایسے حالات بنانے کی کوشش کریں جہان لوگ امن و سکون سے جی سکیں  جبکہ استعمار یہ چاہتا ہے کہ ہمارے سامنے ہر چیز کو اس طرح سے پیش کرے کہ ہمیں مستقبل  نظر ہی نہ آئے اور  ہم سب اس راہ پر چل پڑیں جہاں دشمن نے ہمارا مقتل پہلے سے ہی تیار کر رکھا ہے بغیر مزاحمت کے وہ ہمیں نابود کرتا رہے اور ہم یہ سوچ کر خاموش رہیں کہ ہمارا تو اب کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے جو ہو رہا ہے وہ تو ہماری لکھی ہوئی تقدیر ہے ۔

شک نہیں کہ موجودہ ملک کے حالات میں ہم سب کو اپنی صفوں کو منظم کر کے ایک متعین ہدف کی طرف آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ، جہاں ہم نے امید کا دامن چھوڑا وہی سے ہماری تباہی کی بھیانک داستان رقم ہونا شروع ہو جائے گی  جس کے لئے تمام اسباب مہیا ہیں قلم و قرطاس و خون کی روشنائی سبھی کچھ مہیا ہے بس ایک امید ہے جس کے سہارے ہم جی رہے ہیں ، ایسے میں ہم سب کے لئے ضروری ہے اس عقیدے  میں ہرگز انحراف نہ پیدا ہونے دیں  جو ہماری طاقت و قوت ہے دشمن اسی طاقت کو توڑنا چاہتا ہے جب تک ہماری امید کے قلعے میں سیندھ نہ لگا لے وہ ہم پر قابض نہیں ہو سکتا لہذا ضروری ہے کہ مسائل کے صحیح و بجا تجزیے کے ساتھ ہم اپنی امیدوں کے دیوں کو روشن رکھیں کہ یہی روشنی دشمن کے عزائم کے کی تاریک کھوٹھریوں کے لئے موت کا پیغام ہے ۔

حواشی:

۱۔ رسالت 26/9/76.

[2]  ۔. کیهان 8/10/75.