نئی امریکی سازش اور حماس کا معقول ردعمل

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حد تک وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کے ساتھ کیسے پرامن انداز میں زندگی بسر کی جا سکتی ہے؟ صیہونی حکمران امریکہ اور یورپ کی مدد سے اہل غزہ کو ختم اور نابود کرنا چاہتے ہیں۔

فاران: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں غزہ میں جنگ بندی کے بارے میں خفیہ مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکی، صیہونی، قطری اور مصری حکام شامل ہیں جبکہ قطر اور مصر فلسطین میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کیلئے ثالثی کا کردار بھی انجام دینے میں مصروف ہیں۔ ان ممالک نے غزہ میں جنگ بندی کیلئے مختلف شرائط پر مشتمل ایک مسودہ تیار کر کے حماس کو پیش کیا ہے لیکن حماس نے اب تک اس کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ یہ جنگ بندی کا معاہدہ نہ صرف حماس کے پاس موجود اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کروانے کیلئے ایک ٹریپ ہے بلکہ اس کا مقصد ایسے مقامات کے بارے میں معلومات جمع کرنا بھی ہے جہاں ان یرغمالیوں کو اب تک رکھا گیا ہے۔ مزید برآں، اس کا مقصد غزہ میں حماس کی زیر زمین سرنگوں کے بارے میں بھی مزید معلومات حاصل کرنا ہے۔

لہذا فلسطین میں اسلامی مزاحمتی گروہ حماس کی جانب سے اس پیش کردہ جنگ بندی معاہدے کا جواب نہ دینا غزہ میں حماس کے سیاسی رہنما یحیی السنوار اور حماس کے ملٹری ونگ کے سربراہ جنرل محمد الضیف کی اعلی درجہ ذہانت اور عقلمندی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہم نے ہفتے کے روز غزہ کے جنوب میں واقع علاقے رفح میں صیہونی حکمرانوں کے ایک بڑے مجرمانہ اقدام کا مشاہدہ کیا ہے جس کے بعد صیہونی رژیم کے وزیر جنگ یوآو گالانت نے کہا تھا: “ہم رفح میں موجود دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کر دیں گے۔” ہفتہ کی صبح رفح میں صیہونی مجرمانہ اقدامات کا آغاز ہو گیا تھا۔ اقوام متحدہ سے وابستہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رفح میں دو رہائشی عمارتوں پر صیہونی بمباری کے نتیجے میں 100 فلسطینی شہری شہید ہو گئے ہیں۔

غزہ کے علاقے رفح میں ایک کروڑ تین لاکھ فلسطینی بسے ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ لہذا رفح کے علاقے میں غاصب صیہونی رژیم کے حالیہ مجرمانہ اقدام کا اہم ترین مقصد ان ایک کروڑ تین لاکھ فلسطینی شہریوں کو وہ علاقہ چھوڑ دینے پر مجبور کرنا ہے۔ رفح غزہ کا جنوبی ترین علاقہ ہے اور اب تک جنگ کے دوران شمالی علاقے سے جتنے فلسطینیوں نے نقل مکانی کی ہے وہ اسی علاقے میں آ کر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اب اگر انہیں مزید نقل مکانی پر مجبور کیا جائے تو ان کے پاس پناہ لینے کیلئے واحد جگہ صحرائے سینا ہے۔ غاصب صیہونی حکمران بھی درحقیقت یہی چاہتے ہیں کہ اہل غزہ کو یہ علاقہ چھوڑ کر صحرائے سینا چلے جانے پر مجبور کر دیں۔

غزہ کے ایک جوان نے رویٹرز نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: “ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ یہیں رک جائیں اور شہید ہو جائیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ سرحد پر بنی دیوار عبور کر کے مصر چلے جائیں۔” غزہ میں موجود اقوام متحدہ کے دفتر کے ذمہ دار نے کہا: “رفح اس وقت ایک پریشر ککر کی مانند ہے اور اگر گالانت نے اپنی دھمکیوں پر عمل کیا تو رفح دھماکے سے پھٹ جائے گا اور ہزاروں بیگناہ فلسطینی شہید ہو جائیں گے۔” میرے ایک عزیز نے غزہ سے ٹیلی فون پر مجھے بتایا ہے کہ غزہ کے تمام فلسطینی شدید قحطی کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ ایک تو انسانی امداد کی قلت ہے جبکہ دوسری طرف یو این مہاجرین ایجنسی کا بجٹ بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ موسم سرما میں شدید بارشیں اور طوفان جاری ہیں جبکہ فلسطینیوں کے پاس سخت سردی سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

صیہونی رژیم کے سیاسی اور فوجی رہنماوں کی اصلی ترین خصوصیت فریب کاری ہے۔ انہوں نے غزہ میں مقیم فلسطینیوں پر زور دیا تھا کہ وہ شمالی علاقے چھوڑ کر جنوبی علاقوں خان یونس اور رفح چلے جائیں۔ صیہونی حکمرانوں نے خود ہی غزہ کے جنوبی علاقوں کو محفوظ قرار دیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حد تک وحشی اور درندہ صفت حکمرانوں کے ساتھ کیسے پرامن انداز میں زندگی بسر کی جا سکتی ہے؟ صیہونی حکمران امریکہ اور یورپ کی مدد سے اہل غزہ کو ختم اور نابود کرنا چاہتے ہیں۔ غزہ میں فلسطینیوں کے بے رحمانہ قتل عام میں غاصب صیہونی رژیم کی مدد کرنے والے تمام ممالک ایسے ہیں جو ہمیں امن، انسانی اقدار، عدل و انصاف، انسانی حقوق اور پرامن انداز میں ایک ساتھ رہنے کے لیکچر دیا کرتے تھے۔ فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم ہر گز صیہونی حکمرانوں کے ظلم و ستم اور بربریت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔

حماس کے رہنما کسی صورت میں جنگ بندی کے حالیہ معاہدے کو قبول نہیں کریں گے کیونکہ وہ زہر آلود اور فریب کاری پر مبنی ہے۔ یہ ایسا معاہدہ ہے جو غزہ پر اگلے حملے کا مقدمہ بنے گا۔ حماس کی جانب سے پیرس معاہدے کو مسترد کر دینا امریکی حکومت اور انٹونی بلینکن کے چہرے پر زوردار طمانچہ ثابت ہو گا۔ اس بارے میں امریکہ کے واضح ترین جھوٹوں میں سے ایک اس کا وہ دعوی ہے جس میں اس نے آزادی فلسطینی ریاست کی تشکیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس کا یہ جھوٹا دعوی تاریخ میں باقی رہ جائے گا۔ ممکن ہے اس کی یہ ڈرامہ بازی سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کا باعث بن جائے جو اسرائیل کیلئے امریکہ کا بڑا تحفہ ہو گا۔ آخر میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ غزہ کے فلسطینی عوام ہر گز رفح کو ترک کر کے صحرائے سینا کا رخ نہیں کریں گے اور وہ اپنی سرزمین پر شہید ہو کر وہیں دفن ہو جانے کو ترجیح دیں گے۔