پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خلاف ہے: قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صیہونی حکومت کے ساتھ روابط برقرار کرنے کے خلاف اپنے ملک کے موقف کو دہرانے کے ساتھ ہی اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں فلسطینی قوم کی حمایت کرنے کی خبر دی۔

فاران: ارنا کے مطابق، منگل کے روز ایک تقریب میں وزیر خارجہ پاکستان محمود قریشی نے اسلام آباد کی میزبانی میں اسلامی تعاون تنظیم کے اڑتالیسویں اجلاس کا نعرہ ”اتحاد، عدالت اور ترقی میں شراکت“ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے حالات پر توجہ، اسلاموفوبیا سے مقابلہ، کشمیر سمیت مسلمان قوموں کے حقوق کا دفاع اس تنظیم کے آئندہ اجلاس کے اہم اہداف ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ کا اڑتالیسواں اجلاس بہت ہی حساس وقت میں ہونے جا رہا ہے کیونکہ ہم دنیا کے مختلف علاقوں میں اسلاموفوبیا کے دائرہ کے پھیلنے، مسلمانوں کی اہانت بالخصوص حجاب کی توہین، افغانستان کے عوام کی مشکلات، فلسطین سمیت خطے میں ناجائز قبضے اور کووڈ-19 کے چیلنجوں جیسے مسائل سے روبرو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلمانوں کے حقوق کے دفاع، ظلم و جبر اور ناجائز قبضے کے خلاف جد وجہد، مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں سکیورٹی میں استحکام کے لئے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کو ہم خیال بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے اس سوال پر کہ کیا صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے متعلق قرارداد کے مسودے کے تیار کرنے کا احتمال ہے، کہا کہ کسی نے پاکستان کے سامنے اسرائیل کے بارے میں قرارداد جیسا کوئی معاملہ پیش نہیں کیا ہے، البتہ اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اس طرح کی قرارداد پیش کرنے میں آزاد ہیں لیکن اس کا پاس ہونا سبھی ممالک کے اتفاق رائے پر منحصر ہے۔