پُرتگال میں فلسطینی حق خود ارادیت کی حمایت میں قرارداد منظور

قرارداد میں اسرائیلی قابض ریاست کی غیر قانونی توسیع پسندی اور الحاق کی پالیسی کی مذمت کی گئی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

فاران: جُمعہ کے روز پرتگالی پارلیمنٹ نے 1948ء میں فلسطینی نکبہ کو تسلیم کرنے اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے قرارداد پر کثرت رائے سے منظور کرلی۔

قرارداد میں اسرائیلی قابض ریاست کی غیر قانونی توسیع پسندی اور الحاق کی پالیسی کی مذمت کی گئی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

قرارداد میں پرتگالی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ “فلسطینی عوام کے حق کے دفاع کے لیے واضح اور ٹھوس موقف اختیار کرے جیسا کہ بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی ضمانت دی گئی ہے۔”

قابل ذکر ہے کہ جن جماعتوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ان میں سوشلسٹ، کمیونسٹ اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل تھیں جب کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’اینف‘ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو فلسطینی عوام کی فتح اور پرتگال کی یکجہتی کا حقیقی اظہار قرار دیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ اس وقت فلسطینی قوم ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔ فلسطینی قوم 75 سال سے اپنے ملک میں آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پرتگالی حکومت کی جانب سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کی جانب پیش رفت کی جانب پہلا قدم بھی ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ فیصلہ “مزید فیصلوں کی طرف بین الاقوامی یکجہتی کا ذریعہ ثابت ہوگا۔

نکبہ ایک اصطلاح ہے جو فلسطینیوں کی طرف سے 1948 میں صہیونی غنڈوں کے ہاتھوں لاکھوں افراد کو بے گھر کرنے اور ان کے قتل عام کے بارے میں اختیار کیا ہے۔