چاقو حملےکے الزام میں فلسطینی نوجوان شہید

’عبرانی والا‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ہفتے کو صبح 8 بجے کے قریب ایک فلسطینی نے شمالی مغربی کنارے میں افراہیم بستی کے قریب ایک آباد کار کو چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی اور "حملہ آور کو فوری طور پر قتل کردیاگیا"۔

فاران: فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مارکر شہید کر دیا۔ غاصب یہودی آباد کاروں نے الزام عاید کیا ہے کہ فلسطینی نوجوان نے یہودی شرپسندوں پر چاقو سے حملہ کرکے انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

ایک فلسطینی نوجوان کو ہفتے کی صبح ایک صہیونی آباد کار نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسے چھرا گھونپنے کی کوشش کر رہا تھا، براہ راست گولی مار کر شہید کر دیا۔

’عبرانی والا‘ کی ویب سائٹ کے مطابق ہفتے کو صبح 8 بجے کے قریب ایک فلسطینی نے شمالی مغربی کنارے میں افراہیم بستی کے قریب ایک آباد کار کو چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی اور “حملہ آور کو فوری طور پر قتل کردیاگیا”۔

اسرائیلی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق ایک آباد کار نے نوجوان کو گولی مار دی۔ اس نےگولی مارنے کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ شہید ہونے والے فلسطینی نے اپنی شہادت سے قبل اس پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔ تاہم آزاد ذرائع سے یہودی آباد کاروں کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ اس نوعیت کے واقعات آئے روز فلسطینی علاقوں میں پیش آتےہیں جہاں یہودی آباد کار فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان پر چاقو سے وار کیا گیا تھا۔

بعد میں عبرانی میڈیا نے فلسطینی نوجوان کی گولی لگنے کے بعد اس کی “شہادت” کی تصدیق کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر رام اللہ کے مغرب میں ایک آباد کار کو اسکریو ڈرائیور سے چھرا گھونپنے کی کوشش کی۔

فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسے شہری امور کی اتھارٹی نے شہری طارق عودہ یوسف معالی جن کی عمر بیالیس سال بتائی جاتی ہے کو رام اللہ کے شمال مغرب میں کفر نیما کے قریب جبل الرئیسان پر گولی مار کر شہید کردیا گیا۔