کبھی راویانِ خبرزدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے

اس بہیمانہ قتل کی واردات سے ٹھیک پہلے اور بعد کے سیاسی منظرنامے کی تفہیم بھی نہایت ضروری ہے ۔سرکار کی ’اگنی پتھ ‘اسکیم کے خلاف پورے ملک کے نوجوانوں کے دلوں میں غم و غصے کا لاوا دہک رہا تھا ۔مشتعل نوجوان سرکار کے اس منصوبے کے خلاف سڑکوں پر تھے اور قانون کی پرواہ کئے بغیرمظاہروں میں تشدد کو راہ دی جارہی تھی

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: اُدئے پور کا روح فرسا واقعہ انسانیت کے دامن پر بدنما داغ ہے ۔اسلام میں تشدد کی قطعاً گنجائش نہیں ہے،چہ جائیکہ کسی انسان کو بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا جائے ۔اگر کنہیا لال نے گستاخ رسول نپور شرما کے بیان کی حمایت بھی کی تھی ،تب بھی اس کے بہیمانہ قتل کو صحیح نہیں ٹہرایا جاسکتا ۔کیونکہ مجرم کو سزا دینے کا کام قانون کاہے فرد اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہے ۔اس طرح کے اقدامات قانون کی بالادستی کے زوال اور فرد کی بے لگام آزادی کو ظاہر کرتے ہیں ۔یہ الگ موضوع ہے کہ قانونی ایجنسیاں ریاست کے دبائو سے آزاد نہیں ہوتیں ۔یہی وجہ ہے کہ نپور شرما کے خلاف کوئی ٹھوس کاروائی نہیں ہوئی ۔عدالت عظمیٰ نے بھی ملک کی موجودہ تشویش ناک صورتحال کے لئے نپور شرما کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے دہلی پولیس کے رویّے پر بھی سوال کھڑے کئے اور پھٹکار لگائی ۔مہاراشٹر پولیس نپور شرما کا مواخذہ کرنا چاہتی تھی مگر اسے دہلی پولیس کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملا ۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دہلی پولیس کس قدر جانبدار اور زعفرانی ہوچکی ہے ۔دہلی فسادات میں بھی دہلی پولیس کا کردار مشکوک رہاہے جس پر متعدد قانونی تبصرے سامنے آچکے ہیں ۔اگر نپور شرما کے خلاف بروقت قانونی کاروائی کی گئی ہوتی تو ملک اس صورتحال سے دوچار نہیں ہوتا ۔شدت پسند اور دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں کو اکسانے کے لئے ایسی ہی غفلتوں ،کوتاہیوں اور ناانصافیوں کا سہارا لیتی ہیں ۔ہر زمانے میں نوجوانوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنا آسان عمل رہاہے ۔مذہبی جذبات کو مشتعل کرکے سیاست مدار اپنے مفادات حاصل کرتے آئے ہیں ۔آج شدت پسند تنظیمیں اسی راہ پر گامزن ہیں اور نوجوانوں کا جذباتی و فکری استحصال کررہی ہیں ۔اگر ریاست مذہب زدہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہو،تو مذہب کو ہمیشہ ہتھیار کے طورپر استعمال کیا جاتاہے،جیساکہ ماضی کی حکومتوں میں بھی دیکھا گیا۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر حکومت کے لئے سیکولر اور جمہوری اقدار کو لازم تصور کیا گیاہے تاکہ ریاست میں ہر مذہب کے پیروکاروں کو اپنے عقائد کی صحیح آزادی حاصل ہوسکے ۔لیکن جب ریاست جمہوری اقدار کے بجائے ایک مخصوص مذہبی آئین و اقدار کی ترجمان بن جاتی ہے تو اس ریاست کو فاشزم کی راہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا ۔
اس بہیمانہ قتل کی واردات سے ٹھیک پہلے اور بعد کے سیاسی منظرنامے کی تفہیم بھی نہایت ضروری ہے ۔سرکار کی ’اگنی پتھ ‘اسکیم کے خلاف پورے ملک کے نوجوانوں کے دلوں میں غم و غصے کا لاوا دہک رہا تھا ۔مشتعل نوجوان سرکار کے اس منصوبے کے خلاف سڑکوں پر تھے اور قانون کی پرواہ کئے بغیرمظاہروں میں تشدد کو راہ دی جارہی تھی ۔سرکار نے اس منصوبے کے اعلان اور نفاذ کے لئے فوج کے تینوں سربراہوں کو پریس کانفرنس کرنے کے لئے مجبورکردیاتھا ۔ورنہ اس سے پہلے ہر منصوبے اور اسکیم کا اعلان سرکار کے ذریعہ ہی کیا جاتا تھا ۔اس بار ایسا نہیں ہوا بلکہ فوج کے تینوں سربراہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعہ ’اگنی پتھ ‘ اسکیم کا اعلان کیا ۔اس کے باوجود ملک کا نوجوان اور حزب اختلاف سرکار کے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج رہا ۔سرکار ’اگنی پتھ ‘ اسکیم کے مشمولات پر چوطرفہ گھری ہوئی تھی مگر اُدے پور واقعہ کے بعد ’اگنی پتھ اسکیم ‘ کی مخالفت ماند پڑگئی۔
اگنی پتھ اسکیم کے نفاذ سے ٹھیک پہلے احسان جعفری قتل کیس میںسپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔توقع کے مطابق ذکیہ جعفری انصاف سے محروم رہیں ۔عدالت اور سرکاروں کو یہ کہہ دینا چاہیے کہ ہاشم پورہ اور گجرات جیسے فسادت رونما ہی نہیں ہوئے ،تاکہ مسلمان اپنی نسل کشی اور غیر منصفانہ سماجی و سیاسی رویوں کو بخوشی قبول کرلیں۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے فوراًبعد سماجی کارکن اور گجرات فسادات کے لئے نریندر مودی سرکار کو ذمہ دار ٹہرانے والی خاتون تیستا سیتلواڈ کو گرفتار کرلیا گیا۔اس گرفتاری کو سیاسی انتقامی کاروائی سے الگ نہیں کیا جاسکتا ،جیساکہ سیاسی مبصرین کا بھی خیال ہے ۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد میڈیا اور سیاسی دلالوں نے ذکیہ جعفری کو جی بھر کے کوسا ۔گجرات فساد کی ذمہ داری سے اس وقت کی مودی سرکار کو بالکل بری کردیا گیا ۔تو پھر گجرات فساد کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟اس منظم نسل کشی کا ذمہ دار کون ہے ؟اُدئے پور واقعہ کے بعد یہ گرم مسئلہ بھی ٹھنڈا پڑ چکاہے ۔خاص طورپر تیستا سیتلواڈ کی گرفتاری اب زیر سوال نہیں رہی بلکہ سب کی توجہ اُدئے پور واقعہ پر مرکوز ہے۔
دوسری طرف مہاراشٹر میں سیاسی بحران شروع ہوچکا تھا ۔بی جے پی نے شیوسینا کے خیمے میں سیندھ لگائی اور ایکناتھ شندے باغی لیڈروں کے ساتھ مہاراشٹر سے فرار کرگئے ۔شیوسینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے بی جے پی کی اس سیاسی چال کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے کیونکہ جس تیرانداز کے پاس کمان میں تیر ہی نہ ہوں وہ دشمن کا مقابلہ کیسے کرسکتاہے ؟اودھو ٹھاکرے کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔وہ صورتحال کواچھی طرح بھانپ چکے تھے اس لئے بروقت وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کو چھوڑ کر اپنے گھر منتقل ہوگئے ۔سنجے رائوت اور شیوسینکوں نے ایکناتھ شندے اور اس کےحامیوں کو ڈرانے دھمکانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر صورتحال ان کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل چکی تھی ۔تنہا دیویندر فڑنویس نے شیوسینا کی ہوا خرب کردی اور اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں سے چھین لی ۔اُدئےپور واقعہ کے فوراً بعد دیویندر فڑنویس ایکناتھ شندے کے ساتھ حکومت سازی کا دعویٰ لیکر گورنر ہائوس پہونچ گئے ۔حلف برداری کی تقریب سے پہلے گورنر نے دویندر فڑنویس اور ایکناتھ شندے کا منہ میٹھا کرادیا ،جس سے یہ صاف ظاہر ہورہا تھا کہ گورنر ہائوس بھی شیوسینا سرکار کی جڑیں اکھاڑنے میں اپنا کردار ادا کررہا تھا ۔حلف برداری کی تقریب سے پہلے دیویندر فڑنویس نے پریس کانفرنس کرکے ایکناتھ شندے کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے طورپر متعارف کروایا جس نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچادی ۔کیونکہ ہر سیاسی پنڈت کو یہ یقین تھا کہ دیویندر فڑنویس ایک بار پھر مہاراشٹر کےوزیر اعلیٰ کے طورپر حلف لیں گے ۔مگر بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے انہیں حاشیہ پر ڈال دیا ۔پریس کانفرنس میں فڑنویس نے کوئی بھی عہدہ لینے سے صاف انکار کردیا مگر حلف برداری کی تقریب میں انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ کے طورپر حلف لیا۔نائب وزیر اعلیٰ کے طورپر فڑنویس کی حلف برداری ان کے سیاسی قد کے زوال کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔کیونکہ اعلیٰ قیادت فڑنویس کی شکل میں دوسرا یوگی آدتیہ ناتھ نہیں چاہتی تھی ۔اس پورے منظر نامے پر میڈیا میں خوب ہنگامہ ہوا ۔بحث و مباحثے ہوئے مگر ہر مباحثے پر اُدےپور کے واقعہ کا اثر غالب رہا ۔’اگنی پتھ ‘ اسکیم کی مخالفت اور مہاراشٹر کے سیاسی بحران کی طرف کسی کی توجہ نہیں گئی ۔نتیجہ یہ ہواکہ مہاراشٹر میں سیاسی ہنگامہ آرائی کا عوامی اثر بے نتیجہ رہا ۔اسی طرح ’اگنی پتھ ‘اسکیم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی دب گئی ہیں ۔
اب واقعہ کے دوسرے رخ کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔اُدئے پور کا واقعہ نپور شرما کے مجرمانہ و گستاخانہ بیان کا نتیجہ ہے ۔بی جے پی نے نپور شرماکو عہدہ سے برطرف کرکے اس کے بیان سے اپنا تعلق ختم کرلیاتھا ۔لیکن آیا بی جے پی کا نپور شرما کو عہدہ سے برطرف کردینا کافی تھا ؟ کیا بی جے پی سرکار کو اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی نہیں کرنی چاہیے تھی؟اگر نپور شرما کےبیان سے فتنہ و فساد کا خوف لاحق نہیں تھا تو پھرمحمد زبیر کی گرفتاری پر سرکار کیا جواز پیش کرے گی؟آیا محمد زبیر کا جرم نپور شرما اور کپل مشرا سے بھی بڑاہے؟سرکار اور انتظامیہ کی یک طرفہ کاروائی سے اقلیتی طبقے میں خوف و ہراس کے بجائے اب غم و غصہ پنپ رہاہے ،کیا اس کا اندازہ سرکار اور قانونی ایجنسیوں کو نہیں ہے ؟اُدئے پور واقعہ کے مجرموں کو سخت سزا ملنی چاہیے ،یہ مطالبہ ہر مسلمان کی طرف سے کیا جارہاہے ۔لیکن مسلمان احسان جعفری ،پہلو خان ،محمداخلاق ،نجیب کی گم شدگی اور اسی طرح کے سیکڑوں واقعات کا احتساب بھی چاہتاہے۔مسلمان ہاشم پورہ ،گجرات،مظفر نگر اور دہلی فسادات جیسے دیگر درجنوں فسادات میں آج بھی انصاف کا منتظر ہے ۔مگرہاشم پورہ اور گجرات فساد کی رپورٹ مسلمانوں کی مظلومیت کی کہانی بیان کررہی ہے ۔اُدئے پور میں جو کچھ ہوا وہ انسانیت اور جمہوری قدروںپر بدنما داغ ہے ۔مگر جمہوریت کے دامن پر یہ داغ نیا نہیں ہے ۔جمہوریت تو آج تک نجیب کی ماں کی فریاد کا جواب تک نہیں دے سکی ۔
اگر جمہوری نظام میں نجیب کی گمشدگی اوراق پارینہ بن جائے تو پھرکسی بھی سوال کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے ؟کیا ہماری سرکار اور ایجنسیاں نجیب کے گناہگاروں سے واقف نہیں ہیں ؟اگر ایساہے تو پھر جمہوری نظام کا اللہ ہی حافظ ہے ۔