کتے کو سات دریاؤں میں مت دھونا کہ جو بھیگ جائے تو پلیدتر ہوگا

مغربی ایشیا میں ایک مغربی چھاؤنی اور بڑے مغربی سرمایہ داروں کا اڈہ قائم کیا جس کو اسرائیل کہتے ہیں، دو ملکی حل جیسے منصوبے صہیونی جرائم کا ساتھ دینے کے مترادف نہ بھی ہوں تو غفت اور حماقت ضرور ہیں۔

فاران: مغربی ایشیا میں ایک مغربی چھاؤنی اور بڑے مغربی سرمایہ داروں کا اڈہ قائم کیا جس کو اسرائیل کہتے ہیں، دو ملکی حل جیسے منصوبے صہیونی جرائم کا ساتھ دینے کے مترادف نہ بھی ہوں تو غفت اور حماقت ضرور ہیں۔
ہم نے اس سے پہلے ایک مضمون میں اشارہ کیا تھا کہ اسرائیل مغربی ایشیا میں مغربی استکبار کی فوجی چھاؤنی ہے اور امریکہ اور اس کے پیرو ممالک اس کا انتظام چلاتے ہیں۔ اس چھاؤنی میں وحشی ترین، پست ترین، رذیل ترین، نجس ترین موجودات یعنی “صہیونیوں” کا بسیرا ہے، جنہیں مغرب نے اس خطے کے لئے منتخب کیا ہے۔ یہ چناؤ صہیونیوں کے پس منظر اور تاریخ میں ان کے تمام سیاہ کارناموں کی رو سے عمل میں لایا گیا ہے۔
ہم یہاں اپنے اس مدعا کے اثبات کے لئے صرف کچھ تاریخی ثبوت فراہم کرتے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست کی تاسیس کا مقصد صرف فلسطین پر قبضہ کرنا نہیں تھا اور نہیں ہے بلکہ یہ منصوبہ عالم اسلام پر تسلط جمانا ہے اور اس سازش نے تمام اسلامی ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔
1۔ بیسویں صدی کے آغاز میں سامراجیوں پر یہ تشویش طاری تھی کہ مغربی ایشیا کی اقوام کی بیداری اس تزویراتی اہمیت کے حامل خطے ان کی موجودگی جاری رکھنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ کی شائع شدہ دستاویزات کی رو سے، بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں کا برطانوی وزیر اعظم ہینر کیمپبل بنینرمین (Henry Campbel BannerMan) کہتا ہے: “اہم ترین آبراہیں اور زیر زمین ذخائر مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک میں واقع ہوئے ہیں۔ ہمیں اس خطے میں ایک دائمی اور اطمینان بخش جائے پا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ مغرب کی قوت اور بالادستی کا تحفظ صرف یہی جائے پا حاصل کرنے پر منحصر ہے”۔
2- برطانوی سیاستدان اور بینرمین کا ہم عصر سیسل رہوڈس (Cecil Rhodes)، بھی کہتا ہے کہ “مغربی ایشیا میں تزویراتی اہمیت کی حامل آبراہوں اور عظیم زیر زمین ذخائر تک رسائی کے لئے، اس خطے کے قلب میں ایک ریاست قائم کرنا چاہئے جو ایک طرف سے مغرب کے مفادات کی تکمیل کرے اور دوسری طرف سے اس خطے کے دائمی بحران میں رکھے!” رہوڈز وہی شخص ہے جس نے 1965ع‍ میں جنوبی افریقہ کی اپارتھائیڈ ریاست رہوڈیشیا (Rhodesia) (موجودہ زمبابوے) کی بنیاد رکھی تھی جو 1979ع‍ تک قائم رہی لیکن دنیا نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ یہ جعلی ریاست سیاہ فام اکثریت پر سفید فام اقلیت کی حکمرانی کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔
3- امریکہ کے بہت سارے اعلیٰ عہدیداروں نے مختلف مواقع پر بارہا، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تزویراتی پیوند پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس خطے میں مغرب کی ترجمانی کرتا ہے۔
بطور مثال، موجودہ امریکی صدر بائیڈن نے ۔ جو طوفان الاقصیٰ کے بعد سراسیمگی کی کیفیت میں مقبوضہ تل ابیب پہنچا تھا ۔ کہا: “اگر اسرائیل نہ ہوتا تو امریکہ کو اس خطے میں اسرائیل قائم کرنا چاہئے تھا” [جو اسرائیل کے جعلی پن کا اعتراف بھی ہے]۔ البتہ بائیڈن نے سینیٹ کی رکنیت کے زمانے میں بھی اور اوباما دور میں اپنی نائب صدارت کے دوران بھی کئی بار یہ الفاظ دہرائے تھے [اور انتخابی مہم کے دوران بھی کہا تھا کہ “میں ایک صہیونی ہوں اور صہیونی ہونے کے لئے یہودی ہونا ضروری نہیں ہے”]۔ اس طرح کی دلیلیں اور دستاویزات بے شمار ہیں۔
4- موجودہ دستاویزات و اسناد کا سرسری جائزہ لیا جائے اور اگر اس حقیقت کو دیکھا جائے کہ فلسطینیوں پر صہیونی یہودیوں کے مظالم کا سلسلہ اس جعلی ریاست کے قیام (1948ع‍) سے بھی پہلے کئی عشروں جاری رہا تھا، تو اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا ہے کہ صہیونیوں کی موجودگی کی حدود فلسطین تک محدود نہيں ہے بلکہ مغرب کی یہ فوجی چھاؤنی عالم اسلام پر تسلط جمانے کے لئے قائم ہوئی ہے؛ چنانچہ وضوح کے ساتھ نتیجہ لیا جا سکتا ہے کہ اگر غاصب ریاست مغربی استکبار کی نمائندگی کرتی ہے تو فلسطینی قوم پوری اسلامی امت اور تمام اسلامی ممالک کی نمائندگی میں اس پلید ریاست کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور ان کا جہاد درحقیقت امت اور اسلامی دنیا کی سلامتی اور تحفظ کے لئے بھی ہے اور فلسطینی میدان میں امت کے دشمنوں کے خلاف نبردآزما ہیں، اور اگر اس اثناء میں اسلامی ممالک جان و مال کا نذرانہ دے دیں تو یہ درحقیقت ان کے اپنے تحفظ اور سلامتی کی قیمت ہوگی۔ لیکن افسوس کہ اسلامی ممالک کے بہت سارے حکمران اس ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہیں!!!
5- مغربی ایشیا میں ایک مغربی چھاؤنی اور بڑے مغربی سرمایہ داروں کا اڈہ قائم کیا جس کو اسرائیل کہتے ہیں، دو ملکی حل جیسے منصوبے اگر خیانت و غداری اور صہیونی جرائم میں شراکت کے مترادف نہ بھی ہوں ـ جو کہ کچھ نہ کچھ ہیں بھی ـ تو انتہائی شدید غفلت و حماقت کے زمرے میں ضرور آتے ہیں اور اس طرح کے منصوبے پیش کرنے والوں کی حقائق سے عدم واقفیت کا ثبوت ضرور ہیں۔ کیونکہ اس کا واحد حل صرف اور صرف وہی ہے جو امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) اور رہبر معظم امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے پیش کیا ہے اور وہ یہ کہ جعلی اسرائیل عالمی نقشے سے مٹ جائے۔
ایک سوال: آج پوری دنیا نے دیکھا کہ اس جعلی ریاست نے غزہ میں کس قسم کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے، حرث و نسل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، 6000 بچوں اور 4000 خواتین سمیت تقریبا 15000 نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کیا ہے، مغرب نے معلومات فراہم کیں اور اس ریاست نے اسپتالوں پر بمباریاں کیں، تو کیا یہ بہیمانہ جرائم دیکھنے کے باوجود اس خونخوار اور غاصب ریاست کا وجود روئے زمین سے مٹانے کے سوا کوئی اور راستہ بھی ہے؟ فلسطین ميں صہیونیوں کی موجودگی کا کیا فلسطینیوں کے قتل عام اور ان کی جبری نقل مکانی کے مترادف نہیں ہے؟ تو کیا اس مقدس سرزمین ـ جو کہ مسلمانوں کے قبلۂ اول کی سرزمین ہے ـ کو اس خباثت و نحوست سے پاک کرنے کے سوا کوئی بھی اور راستہ ہے؟
6۔ گلستان سعدی میں ایک وزیر کی حکایت مندرج ہے، جس نے اپنے کندذہن بیٹے کو تعلیم و تربیت کے لئے ایک عالم و دانشور کے پاس بھیجا، اس امید سے کہ وہ عاقل و ہوشیار بنے۔ عالم نے کچھ عرصے تک اسے تعلیم دی مگر دیکھا کہ کوئی فائدہ نہیں ہے، چنانچہ اس نے وزیر کو پیغام بھیجا، کہ “یہ دیوانہ نہ صرف خود عاقل نہیں بن رہا ہے، بلکہ مجھے بھی دیوانہ کر چکا ہے”۔
چون بُوَد اصل گوهری قابل
تربیت را در او اثر باشد
هیچ صیقل نکو نداند کرد
آهنی را که بد گهر باشد
سگ به دریای هفتگانه مشوی
که چو ‌تر شد پلیدتر باشد
خر عیسی گرش به مکه برند
چون بیاید هنوز خر باشد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کسی کا جوہر (اصل) قابل و مستعد ہو
تربیت اس پر اثر کرتی ہے
کوئی بھی قلعی چمکا نہیں سکتی
اس لوہے کو جس کا جوہر (اصل) خراب ہو
کتے کو سات دریاؤں میں مت دھونا
کہ جو بھیگ جائے تو پلیدتر ہوگا
عیسیٰ کے گدھے کو مکہ بھی لے جایا جائے
تو جب واپس آئے پھر بھی گدھا ہی ہوگا
………..
بقلم: حسین شریعتمداری، ایڈیٹر انچیف روزنامہ کیہان