کیا امریکہ سے نجات کا وقت آ گیا؟؟

روس نے اسے امریکہ کی جانب سے آزاد ریاست کے اندرونی معاملات میں خود غرض مقاصد کی خاطر شرمناک مداخلت کی کوشش قرار دیا۔ جب دنیا اس بات کا ادراک کرچکی ہے اور پاکستانی عوام بھی بیدار ہوچکے ہیں، تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ امریکہ کے مشرق وسطیٰ سے انخلا کی صدی ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان کی حکومت کی رخصتی کیخلاف ملک بھر میں بڑی تعداد میں باہر نکلنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’’امریکی رجیم چینج کیخلاف نکلنے پر میں پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میر جعفر وہ مقامی ٹھگ ہیں، جو کہ ضمانت پر رہا ہیں۔ پاکستانی ملک میں ہوں یا اوورسیز، سب نے اس حکومت کی تبدیلی کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں کبھی بھی لوگ اتنی بڑی تعداد میں امپورٹڈ حکومت کو مسترد کرنے کیلئے نہیں نکلے۔‘‘ یہ پاکستانی عوام کا ردعمل دراصل امریکہ کیخلاف تھا۔ پاکستانی عوام ہمیشہ سے امریکہ کیخلاف رہے ہیں، جبکہ اس کے برعکس ہمارے حکمران امریکی غلام رہے ہیں، ان کے مفادات تھے، حکمرانوں کی اخلاقی خامیاں تھیں، جن کی بدولت امریکہ نے ہمیشہ انہیں اپنے حق میں استعمال کیا، مگر اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

عمران خان نے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے سے انکار کر دیا۔ جس پر امریکہ کی جانب سے پاکستان میں ’’رجیم چینج‘‘ کا پلان بنایا گیا۔ بعض ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان کو پہلے امریکہ دوست دکھائی دیتا تھا، اب اِس کا اقتدار خطرے میں آیا ہے تو امریکہ دشمن نظر آنے لگا ہے۔ عمران خان نے تو کبھی نہیں کہا کہ امریکہ کے ہم دشمن ہیں۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کیساتھ ہم برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ مگر امریکہ ہمیں اپنا غلام سمجھتا ہے، ایسا اب نہیں ہوگا۔ پاکستان اب خود دار بنے گا اور اسی خودداری کے دعوے کی سزا کے طور پر عمران خان کو اقتدار سے الگ کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ قوتیں اقتدار میں لائی جا رہی ہیں، جن کیخلاف درجنوں مقدمات عدالتوں میں ہیں۔ پھر وہ اپنے منہ سے اعتراف کرچکے ہیں کہ ’’بھکاریوں کی کوئی چوائس نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی انہوں نے پوری پاکستانی قوم کو بھکاری قرار دیدیا۔ جس کے ردعمل میں عوامی حلقوں نے شہباز شریف کو آڑے ہاتھوں لیا۔

سوشل میڈیا پر شہباز شریف کی وہ درگت بنائی گئی کہ وہ اسے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ عوام نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ شہباز شریف صاحب، بھکاری آپ ہوں گے، ہم نہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ آپ اپنی لوٹ مار بچانے کیلئے امریکہ کی غلامی اختیار کئے ہوئے ہو۔ کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ کیساتھ تعلقات ختم کر لیں گے تو ہمیں معاشی نقصان ہوگا، ہمارے بہت سے منصوبے یو ایس ایڈ سے چل رہے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ جو حلقے امریکہ کو اپنی بقاء کیلئے لازمی اور امریکہ کو پاکستان کی لائف لائن سمجھتے ہیں، ان کیلئے ایران، چین، روس اور وینزویلا سمیت دیگر ممالک کی مثال سامنے ہے۔ ایران نے انقلاب اسلامی کے بعد امریکہ کو نکال باہر پھینکا۔ انقلاب سے قبل امریکہ ایران میں بہت زیادہ فعال تھا۔ تمام معاملات امریکیوں کے ہاتھ میں تھے۔ اگر ایرانی قوم بھی یہی سوچتی کہ امریکہ نکل گیا تو ہم تو مر جائیں گے۔ ہم تو برباد ہو جائیں گے، تو کبھی بھی انقلاب نہ آتا۔

امام خمینیؒ نے عوام کو یہ باور کروایا کہ امریکہ ان کی مشکلات کا ذمہ دار ہے، امریکہ کی موجودگی صرف اشرافیہ کو فائدہ دے رہی ہے، عوام کو نہیں۔ عوام نے بھی اس صورتحال کا ادراک کیا اور شاہ کیخلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پاکستانی عوام کیساتھ بھی وہی صورتحال ہے۔ اشرافیہ امریکہ کی دستِ نگر ہے۔ وہ اسی بنیاد پر عوام کو امریکی غلامی میں رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ پاکستانی عوام کو جاگنا ہوگا۔ گذشتہ رات پورے ملک میں عوام سڑکوں پر نکلے۔ یہ اظہار لاتعلقی دراصل امریکہ کیخلاف تھا۔ پاکستانی عوام امریکی مداخلت کیخلاف نکلے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پوری قوم نے بحیثیت مجموعی امریکہ کو مسترد کر دیا ہے۔ اب امریکہ اس صورتحال سے پریشان ہے کہ اس کی ساری سرمایہ کاری ڈوبتی دکھائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو دیئے گئے ڈالرز ضائع ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں، جبکہ اداروں پر کی گئی انویسٹمنٹ بھی ڈوب رہی ہے۔ عوام نے کسی چور اور امریکی آلہ کار کو مکمل مسترد کر دیا ہے۔

اب اگر عمران خان الیکشن میں آتا ہے تو اسے صرف امریکی مخالفت کرنے پر ہی ووٹ پڑیں گے۔ لبرٹی لاہور میں ہونیوالے مظاہرے میں عوام کی اکثریت یہی کہہ رہی تھی کہ ہم امریکی مخالفت میں آئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک بھی کہا کہ اگر امریکہ نواز شریف کی حکومت بھی گرانے کی سازش کر رہا ہوتا تو وہ نواز شریف کی سپورٹ کر رہے ہوتے، مگر پھر بولے نواز شریف میں اتنا دم نہیں کہ وہ امریکہ کیخلاف بولے، یہ دم صرف عمران خان میں ہے، جو پہلے دن سے امریکہ کی مخالفت میں سیاست کرتا آیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکہ کو کوئی حق نہیں کہ ایک ایٹمی قوت کے حامل ملک کے معاملات میں مداخلت کرے۔ امریکی مداخلت سے پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ التواء میں پڑا ہے۔ اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا تو آج پاکستان میں توانائی بحران نہ ہوتا، لیکن صرف امریکی خوشنودی میں ماضی کے حکمرانوں نے اس منصوبے کو مکمل نہیں ہونے دیا۔

عوام اب توقع کر رہے ہیں کہ عمران خان اپنی انتخابی مہم میں اس منصوبے کی تکمیل کا اعلان کریں۔ اسی طرح اگر عمران خان اپنی انتخابی مہم کو صرف امریکی مخالفت پر ہی فوکس رکھتا ہے، تو بلا تفریق پارٹی تمام پاکستانی عمران خان کو سپورٹ کریں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے حامی بھی امریکہ دشمنی میں عمران خان کو ہی سپورٹ کریں گے۔ پاکستان کے عوام یہ ادراک رکھتے ہیں کہ پاکستان میں حالیہ بحرانوں کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ پاکستان کی عوام کی مشکلات کا ذمہ دار امریکہ ہے، مہنگائی، بے روز گاری، توانائی بحران سمیت دیگر مسائل بھی امریکہ کی وجہ سے ہی ہیں۔ سی پیک کا منصوبہ ہو یا گوادر بندرگاہ، امریکہ کی وجہ سے ان دونوں منصوبوں کا مستقبل میں امریکہ کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ اس لئے اب عوام مکمل فارم میں ہیں۔ اب وہی حکومت میں آئے گا، جو امریکہ کو پاکستان سے مائنس کرے گا۔

ایسے لگتا ہے کہ عمران خان پاکستانی عوام کے مزاج کو سمجھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امریکہ کی مخالفت میں نکلے اور ایک تاریخ رقم کر دی۔ امریکہ خود اپنے ملک میں مشکلات کا ذمہ دار ہے۔ امریکہ میں گذشتہ ماہ ایک سروے کروایا گیا۔ اس سروے میں 65 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ اگر انہیں زیادہ آزادی میسر ہو اور اس میں حکومت کی مداخلت کم ہو تو امریکہ اس سے کہیں بہتر ہوتا۔ سکاٹ راسموسن کے ایک قومی سروے سے پتہ چلا ہے کہ 26 فیصد رائے دہندگان اس سے متفق نہیں ہیں اور 9 فیصد ووٹروں کو یقین نہیں۔ سکاٹ راسموسن کی جانب سے 10 سے 12 مارچ کے دوران آن لائن کرائے گئے اس سروے میں 12 سو رجسٹرڈ ووٹرز نے حصہ لیا، جبکہ سروے کیلئے فیلڈ ورک “آر ایم جی ریسرچ ان کارپوریٹڈ نامی فرم نے کیا تھا۔ جب خود امریکہ کے عوام مطمئن نہیں تو ہم کیسے اس امریکہ پر اعتبار کر لیں کہ وہ ہمیں مشکلات سے نجات دلا دے گا؟ امریکہ مشکلات سے نجات نہیں دلاتا بلکہ مشکلات میں پھنساتا ہے۔

امریکی تعلقات کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ دوست بنا کر ڈسا ہے، نقصان پہنچایا ہے اور ذلیل و رسوا کروایا ہے۔ ماضی میں جتنے مسلم حکمران امریکہ کے آلہ کار بنے، اپنے عوام کو امریکی غلامی میں دھکیلا، ان کا انجام خود امریکہ کے ہاتھوں عبرتناک ہوا۔ نجانے کیوں ہماری اشرافیہ اس بات کا ادراک نہیں کر پاتی، آج اگر عمران خان کو اس کی سمجھ آگئی ہے تو قوم کو اس کا ساتھ دینا چاہیئے۔ روس نے بھی واضح انداز میں کہہ دیا کہ عمران خان کو ’’نافرمانی‘‘ کی سزا دی جا رہی ہے۔ ترجمان روسی وزارت خارجہ ماریہ زخارووا کے مطابق پہلے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے عمران خان پر دباؤ ڈالا کہ وہ روس نہ جائیں، دباؤ قبول نہ کرنے پر نائب امریکی وزیرِ خارجہ ڈونلڈ لیو نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر پر اسی مقصد کیلئے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی نہ مانی گئی تو امریکہ نے نافرمان عمران کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ اچانک حکمراں پارٹی کا ایک گروپ اپوزیشن میں چلا گیا اور اچانک سے عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد آگئی۔

روس نے اسے امریکہ کی جانب سے آزاد ریاست کے اندرونی معاملات میں خود غرض مقاصد کی خاطر شرمناک مداخلت کی کوشش قرار دیا۔ جب دنیا اس بات کا ادراک کرچکی ہے اور پاکستانی عوام بھی بیدار ہوچکے ہیں، تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ امریکہ کے مشرق وسطیٰ سے انخلا کی صدی ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ ہمارا خطہ بہت جلد امریکہ سے نجات پا لے گا۔ ان شاء اللہ۔