بسلسلۂ اربعین حسینی(ع)؛

ہم امام حسین علیہ السلام کی ملت ہیں

رہبر انقلاب اسلامی نے حال ہی میں پوری دنیا سے آئے ہوئے عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کی مجلس عمومی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "پیروان اہل بیت(ع) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے استکبار کے سات سروں والے اژدہے کو پیچھے دھکیل دیا اور ان منصوبوں کو خاک میں ملا دیا"۔

فاران تجزیاتی وب سائٹ: پانچ براعظموں کے تمام ابرار و اخیار اربعین کی عظیم تاریخی ریلی میں شرکت کے لئے بے چین ہیں۔ یہ لوگ تمام اسلامی مذاہب اور ابراہیمی ادیان سے ہی تعلق نہیں رکھتے، بلکہ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کسی دین و مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔
شہید الحاج قاسم سلیمانی نے فرمایا تھا: “ما ملت امام حسینیم = ہم امام حسین (علیہ السلام) کی ملت ہیں”۔
کہتے ہیں کہ جمہوریت “ہم” ہیں؛ وہ بھی ایسے معاشرے میں جن میں انفرادی تسلط عروج پر ہے، اور جہاں انفرادیت ہو وہاں جمہوریت کا نعرہ ایک وہم سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
مغربی سیاسی فلاسفہ نے جو کچھ جمہوریت کے عنوان کے سائے میں فرض کیا گیا وہ ایک “ہم = We” کا معرض وجود میں لانا تھا جس پر وہ اپنی تہذیب کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے۔ آج مغرب میں پارسنزی اور گڈینزی “ہم” (Now a Parsonsian and Giddensian “we”) کی حکمرانی ہے، جس کے نٹ بولٹ سیاستدانوں میں مسابقت کے میدان میں سست کر دیئے ہیں۔ یہ “ہم” اس وقت بڑھاپے اور ضعیفی سے دوچار ہے۔
مغرب “آزادی” اور “جمہوریت” کی گفتگو کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا۔
چین میں ایک کنفیوشن (Confucian) “ہم” ہے جس کی جڑی ہزاروں سال سے چینی عوام کے وجدان میں، پیوست ہیں۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے کنفیوشس کی تعلیمات سے فائدہ اٹھا کر ایک جدید چینی “ہم” پیش کر دیا ہے۔ چین نے اسی “ہم” پر اقتصادی ترتیب، پیداواری مشین اور کارگزاری کی بنیادی استوار کی ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے اور آج چینی عوام ایک نئی طاقت بنا رہے ہیں جو عنقریب امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑے گی۔
اسلامی انقلاب کا “ہم”
اسلامی انقلاب نے ایران میں دینی جمہوریت کی بنیاد رکھ کر دنیا والوں کو عالمی سیاست کے آسمان پر ایک نئی طاقت کے ظہور کی خبر دی۔ دنیا بھر کے مفکرین اور سیاسی فلاسفہ اس مفہوم کی تلاش میں تھے کہ ہم انقلابیوں کا “ہم” کن مفاہیم اور تصورات پر استوار ہے۔
وہ ابتداء میں “جمہوریت” اور “دین” کی یکجائی کو محال قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ دو ایک حکومت کی چھت تلے جمع نہیں ہوسکتے۔ اس لئے بھی اس نظام کو اندر سے بھی اور باہر سے بھی حلفیہ دشمنوں کا سامنا ہے؛ لیکن اس وقت حیرت زدہ ہوئے جب انھوں نے دیکھا کہ یہ دو نہ صرف جمع ہو سکتے ہیں بلکہ یہ تو لازم و ملزوم ہیں۔ اور انقلاب نے چار دہائیوں سے اپنی سیاسی حیات طیبہ کو اسی پر استوار رکھا ہے اور کفار و منافقین کے سوا، زمین اور زمانہ بھی اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔
آج دین سماجی میدان میں سیاسی فلاسفہ کے ہاں زیر غور و بحث ہے۔
وہ مزید دین کو حکومتوں، ریاستوں اور معاشروں اور انسانوں کے لئے افیون نہیں سمجھتے۔
آج کے عالمی متفکرین اور معاشروں کی علمی شخصیات سماجی سرمائے کا از سر نو مطالعہ کرنے کے درپے ہیں، جو دینی متون میں ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔
دین سماجی سرمائے کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ سماجی سرمائے کی دوسری اقسام، دین سے جنم لینے والے سماجی سرمائے کی طاقت سے قابل قیاس نہیں ہیں۔
مؤمنانہ حیات، دینی معاشرے میں سماجی سرمائے کے اظہار کا مناسب میدان ہے۔
“خاندان” کے ادارے کی اصلیت، صلۂ رحم، دینی اخوت، محبت، قومی اتحاد و یکجہتی، شوریٰ (اور مشاورت)، تعاون، دینی مرجعیت، الٰہی شعائر – جیسے جمعہ و جماعت، حج وغیرہ، ایک دینی-اسلامی معاشرے کے دینی سرمائے کے کچھ اجزاء ہیں۔
اللہ کی رحمت ہو شہید الحاج قاسم سلیمانی پر، جنہوں نے ایک دفعہ ٹرمپ کی طرف کی جنگ کی دھمکی کے جواب میں اپنی ایک تاریخی رجز پڑھی جس میں انھوں نے حسینیوں کے “ہم” کو خوش اسلوبی سے بیان کیا؛ اور فرمایا:
“ہم ملتِ امام حسین ہیں ۔ ہم ملتِ شہادت ہیں ۔ پوچھ لو ۔ ہم بہت دشوار حادثات کو عبور کرکے آئے ہیں ـ آؤ ہم انتظار کر رہے ہیں ـ اس میدان کے مرد ہم ہیں ـ تم جانتے ہو کہ یہ جنگ تمہارے تمام تر وسائل کی تباہی پر منتج ہوگی ـ ہم ملتِ امام حسین ہیں”۔
یہ رجزخوانی ایسے جرنیل کی ہے جو 40 سال تک دشت و صحرا میں دشمن کے مقابلے جمے رہے اور ہزاروں مجاہدین کے سپہ سالار تھے۔ یہ رجز خوانی اس ہستی کی ہے جو عراق، شام، لبنان، پاکستان اور افغانستان کی قوموں میں سے اصحاب امام حسین (علیہ السلام) کی عظیم فوج کے بانی و مؤسس تھے۔
انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ کا “ہم” اسی رجز میں بیان ہؤا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے حال ہی میں پوری دنیا سے آئے ہوئے عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کی مجلس عمومی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: “پیروان اہل بیت(ع) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے استکبار کے سات سروں والے اژدہے کو پیچھے دھکیل دیا اور ان منصوبوں کو خاک میں ملا دیا”۔
جو طاقت آج عالمی استبداد کے مقابلے میں سینہ سپر کرکے کھڑی ہے، پوری دنیا میں اہل بیت (علیہم السلام) کا “ہم” ہے۔
چنانچہ رہبر انقلاب نے مذہبی، قومی، فرقہ وارانہ اور نسلی لکیروں کو حقیقی قرار نہیں دیا اور فرمایا: “دنیائے اسلام اور عالمی کفر و استکبار کے درمیانی سرحد کے سوا کوئی بھی لکیر، وجود نہیں رکھتی”۔
یہ بیان ایک تاریخی تزویراتی حکمت عملی ہے۔ اس حکمت عملی پر عمل درآمد اور اس سے متعلقہ مشقوں کو نجف سے کربلا تک کی اربعین ریلی میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔
پانچ براعظموں کے تمام ابرار و اخیار اربعین کی عظیم تاریخی ریلی میں شرکت کے لئے بے چین ہیں۔ یہ لوگ تمام اسلامی مذاہب اور ابراہیمی ادیان سے ہی تعلق نہیں رکھتے، بلکہ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کسی دین و مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔
شیعیان عالم اربعین کو یکجہتی، اتحاد بین المسلمین، شیعیان اہل بیت(ع) کا باہمی اتحاد، صالحین کی تربیت، طرز زندگی کی تبدیلی، حیات طیبہ کو عملی جامہ پہنانے، معنویت و روحانیت کی عالمگیریت کی تمرین، طبقاتی فاصلے مٹانے اور بالآخر انسانی اور الٰہی بحرِ بے کراں میں ایک قطرہ بننے کا موقع سمجھتے ہیں۔
نجف سے کربلا کی طرف اس حضور اور حرکت کا فلسفہ “عدالت” کے بارے میں تفکر ہے جس کے علمبردار دنیا میں حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) ہیں؛ نیز “آزادی” اور حریت کو مطمع نظر قرار دینا، جس کے علمبردار دنیا بھر میں، امام حسین (علیہ السلام) ہیں۔
آج، انسانیت کو حقیقی “آزادی” اور حقیقی “عدالت” (انصاف) کے ادراک کے لئے تزویراتی غور و فکر کی ضرورت ہے۔
دنیا کے باسی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عدل و انصاف کے قیام اور آزادی کے حصول کے لئے ایک “معنوی” اور “پر امن” فضا کی ضرورت ہے۔ ایسی ثقافت جو ایک فضا اور ماحول کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اہل بیت (علیہم السلام) کی ثقافت ہے۔ دنیا میں کوئی بھی جگہ اس عالمی مطالبے کا جوابگو نہیں ہو سکتی اربعین کے سوا اور نجف سے کربلا تک کے راستے کے سوا۔
یہ راستہ جسے عراق میں، دنیا کے کروڑوں انسان طے کرتے ہیں، “امام نار” سے فاصلہ اختیار کرکے “امام نور” کے پاس جانے کا راستہ ہے۔ یہ ہمارے اس عصر کے انسان کا موقف ہے۔ کوئی بھی طاقت اس تاریخی موقف اور تاریخی فیصلے کا راستہ بند نہیں کر سکتی۔
………
اربعین، عاشورا کی فاتحانہ تعظیم و تکریم ہے / اربعین عاشورا اور امام حسین (علیہ السلام) کا عاشقانہ تعارف ہے / امام حسین (علیہ السلام) کا تعارف کرانا ظہور کی تمہید ہے / اربعین کی عظیم اور منفرد ریلی یوم ظہور کے لئے منتظرین کی مشق ہے؛ نجف سے کربلا پہنچ کر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ سفر جاری ہے اور قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے۔
………
بقلم: محمد کاظم انبار لوئی