یمن کے بھگوڑے-مستعفی صدر منصور ہادی کا سیاسی دم نکل گیا!

یمن کے بھگوڑے-مستعفی صدر منصور ہادی نے محمد بن سلمان کے حکم پر [مبینہ] اقتدار سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے تمام تر اختیارات "صدارتی قیادت کونسل" کو تفویض کئے ہیں۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: یمن کے بھگوڑے-مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے صدارتی قیادت کونسل قائم کرکے اپنے تمام تر اختیارات اس کونسل کو تفویض کئے ہیں۔ قیادت کونسل کے سربراہ رشاد محمد العلیمی ہونگے۔ منصور ہادی نے اپنے نائب اور نہایت درندہ صفت سعودی نواز جرنیل علی محسن الاحمر کو بھی برطرف کردیا ہے۔
موصولہ رپورٹوں کے مطابق، سات رکنی قیادت کونسل یمن کی [دوسری بار] مستعفی حکومت کے تمام سیاسی، فوجی اور سیکورٹی کے معاملات کے ذمہ دار ہوگی اور سلطان علی العرادہ، طارق محمد صالح، عبدالرحمن ابو زرعہ، عبداللہ العلیمی باوزیر، عثمان مجلی و عیدروس الزبیدی اس کونسل کے ارکان ہونگے۔
اطلاعات کے مطابق، قیادت کونسل تحریک انصار اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے سلسلے میں مذاکرات کرے گی۔
قبل ازیں خطے کے ذرائع ابلاغ نے – خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں کی دعوت پر منعقدہ مشاورتی اجلاس میں منصور ہادی کی عدم موجودگی کی رو سے – پیش گوئی کی تھی کہ گویا سعودی خاندان نے طویل عرصے سے سعودی دارالحکومت ریاض میں مقیم یمن کے بھگوڑے-مستعفی صدر منصور ہادی کی برطرفی کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر اعلی سیاسی کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے اپنے باضابطہ ٹویٹر پیج پر لکھا: عبد ربہ منصور ہادی کے اختیارات کا دور بہت پہلے اختتام پذیر ہوچکا ہے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا اختیار نہیں تھا جسے وہ کسی فرد یا کونسل کے سپرد کر سکیں!
سعودی حکومت نے بھی – جو خود ہی منصور ہادی کو برطرف کر چکی ہے – مبینہ طور پر یمن کے سابق صدر کے استعفے اور ان کے اختیارات کی صدارتی قیادت کونسل کو سپردگی کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی حکمرانوں نے – عالمی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یمن کے معاملات میں پھر بھی مداخلت کی اور – مذکورہ کونسل کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں انصار اللہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے۔
ادھر سعودی قبیلے کے ولی عہد محمد بن سلمان نے یمن کی نام نہاد قیادت کونسل کے اراکین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ سعودی عرب یمن میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔
یاد رہے کہ یمن کو گذشتہ سات سالہ عرصے کے دوران سعودی عرب اور اس کے بعض علاقائی اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور سعودی جکومت حال ہی میں آرامکو تیل کمپنی اور بعض فوجی اور تزویراتی مراکز پر یمنی مجاہدین کے وسیع حملوں کے بعد جنگ بندی پر آمادہ ہوئی ہے۔
بہرحال، محمد بن سلمان نے کونسل کے اراکین کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت یمن کی صدارتی قیادت کونسل کی حمایت کرتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کونسل کا قیام یمن میں ایک نیا باب کھولنے میں مدد کرے گا اور اس کو جنگ سے امن اور ترقی کی طرف گامزن کرے گا۔