یورپ کی 77 ویں خانہ جنگی

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں اس چیز کو اہم انسانی سرمایہ قرار دیا جاتا ہے جو "نظام"، "بین الاقوامی نظام" اور "فخر آمیز عالمی معاہدوں" کے طور پر یورپی حلقوں اور ان کے ذریعے رائج عالمی حلقوں میں پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ یورپ میں مختلف طاقتوں کے درمیان خونریز جنگوں، لاکھوں انسانوں کے مارے جانے اور بعض اوقات 8 کروڑ فوجیوں کے قتل عام کے نتیجے میں حاصل ہونے والا سرمایہ ہے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ: یوکرین کی موجودہ جنگ اور بحران، درحقیقت “مغربی نظام کا آئینہ” ہے۔ یہ جنگ مکمل طور پر یورپی جنگ ہے اور انہی “اتحادیوں” میں انجام پا رہی ہے جو یورپ کی عالمی جنگ کے فاتح قرار پائے تھے۔ دنیا کی اکثر یونیورسٹیوں میں گذشتہ ستر برس سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ آج کے دور میں جنگ صرف غیر تہذیب یافتہ معاشروں، یعنی غیر مغربی معاشروں سے مخصوص ہے اور پسماندگی کی علامت ہے۔ یہ محققین بظاہر علمی اور نظریاتی انداز میں مشرق وسطی یا مغربی ایشیا خطے کو نہ ختم ہونے والی جنگوں اور کشمکش کا مرکز قرار دیتے تھے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ مشرق وسطی میں جنگ ہر گز ختم نہیں ہو گی اور ایک بادل کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہے گی۔ وہ اس حقیقت کی جانب اشارہ تک نہیں کرتے کہ مشرق وسطی کی بدامنی کے حقیقی محرکات اور اسباب عالمی سیاست میں پوشیدہ ہیں۔

ممکن ہے ہماری تاریخی یادداشت کمزور ہو لیکن تاریخ تو کسی چیز کو فراموش نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تعداد کے لحاظ سے بھی اور وسعت کے اعتبار سے بھی، یورپ یا مغربی دنیا میں دنیا کے دیگر حصوں سے کہیں زیادہ جنگیں رونما ہوئی ہیں۔ یورپ 1618ء سے 1648ء تک مسلسل تیس برس تک شدید جنگوں کی لپیٹ میں رہا۔ اس دور سے آج تک یورپ میں 76 جنگیں رونما ہو چکی ہیں۔ یعنی ان 373 سالوں میں اوسطاً ہر پانچ سال میں ایک جنگ ہوئی ہے۔ یہ بات صنعتی دور سے متعلق ہے اور اگر ہم قرون وسطائی (Dark Ages) کو بھی مدنظر قرار دیں تو تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہاں اس نکتے پر بھی توجہ رہے کہ دنیا کے دیگر براعظموں کی نسبت براعظم یورپ کم ترین رقبے، کم ترین وسعت اور کم ترین ممالک کی تعداد پر مشتمل ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں اس چیز کو اہم انسانی سرمایہ قرار دیا جاتا ہے جو “نظام”، “بین الاقوامی نظام” اور “فخر آمیز عالمی معاہدوں” کے طور پر یورپی حلقوں اور ان کے ذریعے رائج عالمی حلقوں میں پایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ یورپ میں مختلف طاقتوں کے درمیان خونریز جنگوں، لاکھوں انسانوں کے مارے جانے اور بعض اوقات 8 کروڑ فوجیوں کے قتل عام کے نتیجے میں حاصل ہونے والا سرمایہ ہے۔ ہمارے ماہرین ویسٹ فالیا معاہدہ جسے “ویسٹ فالیا نظام” بھی کہا جاتا ہے، کو تنازعات کے پرامن حل کا آغاز قرار دیتے ہیں۔ مرکزی یورپ یعنی ایک طرف آسٹریا اور اسپین جبکہ دوسری طرف فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک اور سویڈن کے درمیان تیس سال تک جاری رہنے والی جنگوں کے بعد 1648ء میں یہ معاہدہ انجام پایا۔ اس معاہدے کا مقصد یورپی حکومتوں کا اقتدار مضبوط بنانا اور مرکزی یورپ کی حق خود ارادیت کو منوانا تھا۔

پس یہ نیا نظام خود یورپ سے مخصوص تھا اور یورپی ممالک کے درمیان جنگیں روکنا مقصود تھا اور اس کا دنیا کے دیگر ممالک سے کوئی تعلق نہیں تھا لہذا اسے “انسانی سرمایہ” قرار دینا درست نہیں۔ البتہ بعد میں جب ان چھ یورپی ممالک نے لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں کالونیاں بنانا شروع کیں تو ان قوانین کو اپنی کالونیوں میں بھی لاگو کیا۔ لیکن یہاں بھی ان کا مقصد اسپین کی کالونیوں کا احترام اور آسٹریا اور دیگر یورپی طاقتوں کی کالونیوں پر جارحیت روکنا تھا اور خود افریقی یا ایشیائی ممالک کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ جیسا کہ آج تک مغربی طاقتیں ان ممالک کی خودمختاری کی دھجیاں اڑاتے چلے آئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حتی ویسٹ فالیا معاہدہ بھی مغربی طاقتوں کے درمیان نئی جنگیں رونما ہونے میں رکاوٹ نہ بن سکا۔ جیسا کہ بیان ہوا، ویسٹ فالیا معاہدے کے بعد اب تک 76 بڑی اور چھوٹی جنگیں رونما ہو چکی ہیں۔

یورپ کنسرٹ نامی ملٹی پولر سسٹم جس میں شروع میں روس، پروس، آسٹریا اور برطانیہ شامل تھے، بھی یورپ میں نیپولین کی جنگوں کے بعد 1815ء میں منعقد ہوا۔ ہماری یونیورسٹیوں میں اس معاہدے کو ایک اہم عالمی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ نظام 1914ء میں پہلی عالمی جنگ تک دنیا پر حکمفرما رہا۔ یہ معاہدہ بھی خود یورپی طاقتوں کیلئے تھا اور دنیا کے دیگر ممالک کو اس سے ذرہ برابر فائدہ نہیں پہنچا۔ پہلی عالمی جنگ کی فاتح قوتوں نے “ورسائے معاہدہ” انجام دیا۔ یہ معاہدہ بھی ناکام رہا اور دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہو گیا جس نے 8 کروڑ 50 لاکھ انسانوں کی جان لے لی۔ ان میں سے صرف 2 کروڑ روسی فوجی تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں دو قطبی نظام تشکیل پایا جس کا ایک قطب سوویت یونین اور دوسرا مغربی طاقتیں تھیں۔

لیکن دو سال بعد ہی یعنی 1947ء میں امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف “سرد جنگ” کا آغاز کر دیا۔ یہ جنگ سیاسی، اقتصادی، پروپیگنڈا، جاسوسی اور پراکسی وارز کے شعبوں میں جاری رہی۔ مغربی ممالک نے 1949ء میں نیٹو نامی فوجی اتحاد تشکیل دیا جبکہ 1955ء میں مشرقی بلاک نے وارشو پیکٹ منعقد کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یورپ میں تنازعات کے حل کا واحد راستہ جنگ رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ یورپی ممالک نے نہ صرف یورپ بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں رونما ہونے والی جنگوں میں بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ یوکرین جنگ بھی خالصتاً یورپی جنگ ہے۔ ایسی جنگ جس کے فریقین ویسٹ فالیا، ورسائے، ویانا اور نیویارک کے وارث ہیں۔ یہ جنگیں ہر گز ختم نہیں ہوں گی جیسا کہ ماضی میں ختم نہیں ہوئیں تھیں۔ دنیا پر حقیقی انسانی اصول حکمفرما ہونے چاہئیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دنیا کے تمام ممالک عالمی نظام میں مساوات پر مبنی کردار کے حامل ہوں گے۔