’یوم القدس‘ پر دنیا کے 80 ممالک اور ایران کے 900 شہروں میں مظاہرے

گذشتہ دو سال کے دوران کرونا وبا کی وجہ سے یوم القدس کی ریلیاں متاثر رہیں مگر دو سال کے بعد دنیا بھر کے 80 ممالک اور ایران کے 900 شہروں میں یوم القدس ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔

فاران: رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع کے موقعے پر پوری دنیا میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز تسلط کے خلاف ’یوم القدس‘ مظاہرے منعقد کیے جا رہے ہیں۔

گذشتہ دو سال کے دوران کرونا وبا کی وجہ سے یوم القدس کی ریلیاں متاثر رہیں مگر دو سال کے بعد دنیا بھر کے 80 ممالک اور ایران کے 900 شہروں میں یوم القدس ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔

اس موقع کی یاد میں ایران کے 900 شہروں میں جلسے جلوس نکالے گئے۔ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ تہران میں سب سے بڑا جلوس نکالا گیا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر ’اسرائیل اور امریکا مردہ باد‘ کے نعرے درج تھے۔

تہران میں “فلسطینی انفارمیشن سینٹر” کے نامہ نگار نے بتایا کہ مارچ کے شرکاء نے “مرگ بر اسرائیل”، “مرگ بر امریکہ” اور “مرگ بر غدار حکمران ” کے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کی مذمت کی۔

ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کے پرچم بھی نذرآتش کیے۔ جلوسوں سے خطاب میں مقررین نے فلسطین کی آزادی کے لیے عالم اسلام کی فوج تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

تینوں حکام کے سربراہان، جمہوریہ کے صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ کی قیادت میں ہونے والی ریلیوں میں ایرانی حکام نے شرکت کی۔