یوکرائن، امریکی وعدوں پر اعتبار کا انجام

عجیب بات ہے کہ معرکہ کہیں ہے، بیانات کہیں ہیں اور اسرائیل کے اندر پریشانی چھپائے نہیں چھپتی۔ اسرائیل بظاہر یوکرائن کی موجودہ حکومت کا حامی ہے، اسرئیل کو نیٹو کی سرپرستی حاصل ہے، روس سے بھی اس کے تعلقات ہیں، لیکن یہ روس ہی تو ہے، جس نے شام میں اس کے خواب چکنا چور کر دیئے۔

فاران تجزیاتی ویب سائٹ؛ 25 فروری 2022ء کی رپورٹ کے مطابق روسی افواج یوکرائن کی پارلیمان کی عمارت کے سامنے پہنچ چکی ہیں۔ یوکرائن کے داغ دیدہ، فریاد کشیدہ صدر ولادمیر زولینسکی اپنی طرف سے کسی محفوظ مقام پر اپنے انجام کو دیکھنے کے منتظر ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ میں 27 ملکوں کے سربراہوں سے ذاتی طور پر رابطہ کرکے مدد کی اپیل کرچکا ہوں۔ سب مجھے حمایت کا یقین دلاتے ہیں، مگر زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ کوئی عملی مدد کے لیے پہنچنے کی حامی نہیں بھرتا۔ آج صبح گیارہ بیس پر بی بی سی نے ان کا یہ بیان شائع کیا ہے: ’’ولادیمیر زیلینسکی نے مغربی اتحادیوں سے ایک مرتبہ پھر یوکرین کی مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس صبح تک ہم اپنی ریاست کا اکیلے ہی دفاع کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز کی طرح آج بھی دنیا کے سب سے طاقتور ممالک دور سے بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ کیا روس کل کی پابندیوں سے متاثر ہوا ہے؟ ہم اپنے آسمانوں میں سن رہے ہیں اور اپنی زمین پر دیکھ رہے ہیں کہ یہ کافی نہیں ہے۔‘‘

امریکا نے تو جو کچھ کیا ہے، وہ اپنی تاریخ اور ماہیت کے بالکل مطابق کیا ہے۔ دنیا کی کئی قومیں امریکا کی کہہ مکرنیوں کا تماشا کرچکی ہیں۔ امریکہ اور وہ ممالک جو بہت زور و شور سے یوکرائن کی حمایت کے لیے آواز بلند کیے ہوئے تھے بلکہ گلے پھاڑ رہے تھے، آج کہہ رہے ہیں کہ ہم نیٹو کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے۔ ظاہر ہے وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہم یوکرائن کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہیں، کیونکہ وہ ابھی تک نیٹو کا حصہ نہیں ہے۔ نیٹو روس سے کیے ہوئے تزویراتی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یوکرائن کو اپنا حصہ بنانا چاہ رہا تھا، جسے روس نے قبول نہیں کیا۔ گذشتہ دس برس سے اس سلسلے میں نیٹو کی طرف سے پیشرفت اور روس کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری تھا۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اصولی طور پر نیٹو کے لیے روا، نہ تھا کہ وہ سوویت یونین کے حلیفوں کو نیٹو میں شامل کرتا۔ روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے انہی دنوں اپنے ایک خطاب میں واضح کیا کہ نیٹو اس سے پہلے بھی روس سے کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد ممالک کو اپنی رکنیت دے چکا ہے۔ ان ممالک میں اب اس کے فوجی اڈے موجود ہیں۔ انھوں نے کہا 1999ء میں پولینڈ، جمہوریہ چیک اور ہنگری، 2004ء میں بلغاریہ، ایسٹونیا، لیتھوانیا، رومانیہ، سلوواکیہ اور سلووانیہ، 2009ء میں البانیہ اور کروشیا، 2017ء میں مونٹی نیگرو اور 2020ء میں شمالی مقدونیہ کو فوجی اتحاد نیٹو میں باقاعدہ رکنیت دے دی گئی۔

اب یوکرائن جس کی سرحدیں روس کے ساتھ ملتی ہیں، اسے رکنیت دے کر نیٹو یہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے فوجی اڈے عین روس کی سرحد پر قائم کر دے۔ اس پر روس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ یہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ نیٹو کی سرحدیں اس کی سرحدوں تک آن پہنچیں۔ اس کے لیے روسی صدر نے امریکی صدر سے بات کرتے ہوئے اپنے تحفظات کو واضح طور پر بیان کیا۔ روس مختلف مواقع پر اس سلسلے میں اعتراض کرتا رہا ہے۔ نیٹو نے یہ وضاحت کی کہ ہم ابھی یوکرائن کو رکنیت نہیں دے رہے۔ روس چاہتا تھا کہ یہ یقین دہانی کروائی جائے کہ یوکرائن کو آئندہ بھی نیٹو کی رکنیت نہیں دی جائے گی۔ نیٹو نے ایسا نہ کیا اور ایسے اقدامات کرتا رہا، جس سے مسائل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے رہے۔

امریکہ اور یورپ نے ہی مداخلت کرکے یوکرائن میں روسی حمایت یافتہ حکومت کو تبدیل کیا اور اپنی پٹھو حکومت قائم کی۔ اسے ہلا شیری دی اور ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا۔ انہی کی باتوں میں آکر یوکرائنی صدر روس کو آنکھیں دکھاتے رہے اور جنگی فضا کو بڑھاوا دیتے رہے۔ ابھی کل تک وہ اپنے عوام کو یقین دلاتے رہے کہ امریکی صدر سے بات ہوئی ہے اور میری برطانوی وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، بس وہ مدد کو پہنچا ہی چاہتے ہیں، لیکن امریکا کے لیے آج بھی یہ بات سچ ہے:
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بہت جلد یہ خبر سنے گی کہ یوکرائن میں نئی حکومت قائم ہوگئی ہے اور روس نے اس کو تسلیم کر لیا ہے اور جلد اپنی افواج یوکرائن سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

پیوٹن کی نفسیاتی کیفیت بھی دنیا کے لیے اچھنبے کا باعث ہونی چاہیے۔ آج جب کہ امریکہ اور یورپی ممالک روس کے خلاف بیانات پر بیانات داغ رہے ہیں۔ ان کی دفاعی اور خارجہ وزارتیں روس کے بارے بیانات جاری کر رہی ہیں، وہ اپنے پاکستانی مہمان کے ساتھ مزے سے تین گھنٹے ملاقات کرتے ہیں اور انھیں بتاتے ہیں کہ روس میں دو ہزار مسجدیں ہیں، روس میں اتنے مسلمان بستے ہیں، ہم پیغمبر اسلام ؐ کا احترام کرتے ہیں۔ نہ جنگی نغموں کی دھن سنائی دیتی ہے اور نہ بوٹوں کی چاپ۔ عمران خان بھی بہت دلچسپ آدمی واقع ہوئے ہیں۔ وہ وہاں سے نکلتے ہیں اور مفتی اعظم سے ملاقات کرتے ہیں۔ جامع مسجد کا دورہ کرتے ہیں، اس کی خوبصورتی کو سراہتے ہیں اور مفتی اعظم کو بتاتے ہیں کہ مجھ سے روسی صدر نے کہا ہے کہ روس کے اندر کوئی اسلامو فوبیا نہیں ہے۔ عمران خان ان سے کہتے ہیں کہ کاش اہل مغرب صدر پیوٹن سے یہ بات سیکھ لیں۔ جن یورپی ممالک میں مسلمان پریشانی کا شکار ہیں، ان کی پریشانی کو دور کریں اور فضا کو نارمل کریں۔

عجیب بات ہے کہ معرکہ کہیں ہے، بیانات کہیں ہیں اور اسرائیل کے اندر پریشانی چھپائے نہیں چھپتی۔ اسرائیل بظاہر یوکرائن کی موجودہ حکومت کا حامی ہے، اسرئیل کو نیٹو کی سرپرستی حاصل ہے، روس سے بھی اس کے تعلقات ہیں، لیکن یہ روس ہی تو ہے، جس نے شام میں اس کے خواب چکنا چور کر دیئے۔ اسرائیل بظاہر ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے، کیونکہ اسرائیل کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیل کے اندر غزہ میں حماس جیسی تنظیموں کو ایران کی سرپرستی حاصل ہے اور اب ایران کے صدر نے روسی صدر کو فون کرکے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باعث نیٹو نے خواہ مخواہ علاقے میں فضا کو خراب کیا ہے اور پوری دنیا میں اس کا یہی طرز عمل ہے۔ اس صورت حال پر اسرائیل اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہا ہے اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ روس، شام اور ایران کے صدور کی مشترکہ تصاویر شائع کرکے مغرب کو خبردار کر رہے ہیں کہ اس اتحاد سے اسرائیل اور مسیحی دنیا کو خطرات لاحق ہیں۔ ان سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس پر تو ہم تبصرہ نہیں کرتے، لیکن وہ تمام ممالک اور حکمران نیز شاہی خاندان جنھیں اب بھی توقع ہے کہ امریکہ آنے والی ان دیکھی مشکلات میں ان کا ساتھ دے گا، وہ یوکرائنی صدر کے تازہ بیانات کا مطالعہ فرما لیں اور اپنے لیے ان بیانات کو سنبھال کر رکھ لیں، تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔