یہودیوں کو “فلیگ مارچ” کی اجازت دینا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: حماس

برہوم نے قابض حکومت کو سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ یہودیوں کو بیت المقدس شہر میں پرچم بردار ریلیاں نکالنے کی اجازت دینا خطرناک اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

فاران: اسلامی مزاحمتی تحریک “حماس” نے کہا ہے کہ قابض قیادت کی جانب سے انتہا پسندوں کو مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی اجازت دینا اور انتیس مئی کو نام نہاد فلیگ ریلیوں کا اعلان کرنا سرخ لکیر عبور کرنے اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اسرائیل کو اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے بدھ کو ایک پریس بیان میں کہا کہ قابض حکومت کو فلسطینی مزاحمت کے پیغامات کو اچھی طرح سمجھنا چاہئیں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی اس ذہنیت سے دور رہنا چاہیے جس کی وہ عادی ہو چکی ہے۔

برہوم نے قابض حکومت کو سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ یہودیوں کو بیت المقدس شہر میں پرچم بردار ریلیاں نکالنے کی اجازت دینا خطرناک اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وطن عزیز کے چپے چپے میں فلسطینی عوام قابض ریاست کے تمام منصوبوں کا پوری طاقت سے مقابلہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مزاحمت ہمارے عوام  اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے فرض ہے اور ہم اپنے اس فرض سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

حماس کے ترجمان نے فلسطینی شہریوں پر زور دیا کہ وہ قبلہ اول کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائیں اور مسجد اقصیٰ کو آباد رکھیں تاکہ غاصب ناپاک صہیونیوں کے پنجوں سے قبلہ اول کو بچایا جا سکے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے انتہا پسند یہودی مذہبی تنظیموں کو 29 مئی کو مقبوضہ بیت المقدس میں ’فلیگ مارچ‘ کی اجازت دی ہے۔ دوسری طرف فلسطینی قوتوں نے اس اقدام کو اشتعال انگیزی اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت کی کھلی علامت قرار دیتے ہوئے اس کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔