52 ممالک “عالمی عدالت ” میں اسرائیل کے خلاف بیان دیں گے

عالمی عدالت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی طرز عمل کے قانونی نتائج پر سماعت کے دوران 52 ممالک اور 3 بین الاقوامی تنظیمیں اپنی رائے کا اظہار کریں گی۔

فاران: عالمی عدالت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی طرز عمل کے قانونی نتائج پر سماعت کے دوران 52 ممالک اور 3 بین الاقوامی تنظیمیں اپنی رائے کا اظہار کریں گی۔

 

جمعہ کو شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، عدالت نے تصدیق کی کہ وہ 19 سے 26 فروری کے درمیان مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی طرز عمل کے قانونی نتائج کے بارے میں عوامی سماعت کرے گی۔

 

اس سلسلے میں ترکیہ سمیت 52 ممالک، عرب لیگ، او آْئی سی اور افریقی یونین کے علاوہ دیگر ممالک زبانی بیانات دیں گے، جن میں سے ہر ایک تیس منٹ تک جاری رہے گا۔

 

ترکیہ پیر فروری 26 کو سیشن کے فریم ورک کے اندر اپنا بیان پیش کرنے والا ہے۔

 

سیشن کا آغاز 19 فروری کو فلسطین کے بیان سے ہوگا اور 26 فروری کو مالدیپ کے بیان پر ختم ہوگا۔

 

26 جنوری کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے 1948ء کے نسل کشی کنونشن کے فریم ورک کے اندر جنوبی افریقہ کی طرف سے لائے گئے مقدمے میں اپنے ابتدائی فیصلوں کا اعلان کیا تھا۔

 

بین الاقوامی عدالت انصاف کی فلسطینیوں کے خلاف حملے بند کرنے کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل غزہ کی پٹی پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور انسانی المیے کے خاتمے کے لیے اقدامات کے بجائے جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔