کل 1963 آج 4
  • مطابق با: Monday - 15 - August - 2022
  • تازہ ترین مضامین

    غزہ میں ایک اور نوجوان کی شہادت/ شہداء کی تعداد 49 ہوگئی

    غزہ میں ایک اور نوجوان کی شہادت/ شہداء کی تعداد 49 ہوگئی

    فلسطینی ذرائع نے غزہ کی حالیہ جنگ میں چوٹ کی شدت کے نتیجے میں ایک نوجوان کی شہادت کی خبر دی ہے۔

    جنگ بندی کے کئی روز بعد بھی غزہ کے ہسپتالوں کے راستے بند، مریض ہسپتالوں میں پہنچنے سے محروم

    جنگ بندی کے کئی روز بعد بھی غزہ کے ہسپتالوں کے راستے بند، مریض ہسپتالوں میں پہنچنے سے محروم

    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے  سڑکوں کی اس بلاجواز جاری رکھی گئی بندش کی وجہ سے ہر روز کم از کم پچاس مریض اور زخمی فلسطینی ہسپتال پہنچنے اور علاج  سے محروم رہ رہے ہیں۔

    فرعون صفت صہیونیوں نے رواں سال کے دوران36 فلسطینی بچے شہید کیے

    فرعون صفت صہیونیوں نے رواں سال کے دوران36 فلسطینی بچے شہید کیے

    یہ اعدادوشمار 9 سالہ بچی لیان الشاعر کی شہادت کے اعلان سے قبل شائع کیے گئے جو جمعرات کی صبح مقبوضہ بیت المقدس کے المقاصد ہسپتال میں حالیہ جارحیت کے دوران سر پر چوٹ لگنے سے شہید ہو گئی تھی۔ الشاعر حال ہی میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے دوران زخمی ہوئی تھی۔

    تل زعتر قتل عام کو 46 سال، حماس کا ایک بار پھر تحقیقات کا مطالبہ

    تل زعتر قتل عام کو 46 سال، حماس کا ایک بار پھر تحقیقات کا مطالبہ

    قدس پریس نے طحہٰ کے حوالے سے کہا ہے کہ خونریزی اور ہزاروں شہیدوں اور زخمیوں کے باوجود فلسطینی عوام اپنے مکمل حقوق پر قائم ہیں جن میں سب سے آگے فلسطینی قومی سرزمین پر واپسی کا ان کا حق ہے۔ ان کا مزاحمتی منصوبہ جو انہیں آزادی اور واپسی کی طرف لائے گا۔

    جہاد اسلامی نے اسرائیل کا غرور خاک میں ملا دیا: رہبر انقلاب اسلامی

    جہاد اسلامی نے اسرائیل کا غرور خاک میں ملا دیا: رہبر انقلاب اسلامی

    رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ فلسطینیوں کی حالیہ جنگ کے دوران جہاد اسلامی تنظیم نے صیہونی سازش کو ناکام اور اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔

    اسرائیلی عدالت رام اللہ میں فلسطینی اسکول مسمار کرنے کا حکم

    اسرائیلی عدالت رام اللہ میں فلسطینی اسکول مسمار کرنے کا حکم

    بدھ کو اسرائیلی مرکزی عدالت نے وسطی مغربی کنارے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع "عین سامیہ" اسکول کو فوری طور پر منہدم کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔

    تل ابیب کی حمایت روکنے کے لیے برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے سامنے مظاہرہ

    تل ابیب کی حمایت روکنے کے لیے برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے سامنے مظاہرہ

    انگلینڈ میں مظاہرین اس ملک کے وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے جمع ہوئے اور لندن کی طرف سے صیہونی حکومت کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    غزہ پر صہیونی حملے میں زخمی ہونے والے فلسطینی بچے شہید

    غزہ پر صہیونی حملے میں زخمی ہونے والے فلسطینی بچے شہید

    مقبوضہ بیت المقدس میں واقع "المقاصد" ہسپتال نے آج جمعرات کی صبح غزہ کی پٹی پر صیہونیوں کی حالیہ جارحیت میں شدید زخمی ہونے والی فلسطینی بچی "لیان الشاعر" کی شہادت کی خبر دی۔

    بہار کی سیاسی تاریخ اور نتیش کمار

    بہار کی سیاسی تاریخ اور نتیش کمار

    بہار کی سیاست میں لالو پرساد یادو کے بعد نتیش کمار ہی ایک بڑا چہرہ بن گئے ہیں۔ جنہوں نے دبائو میں رہ کر کبھی بھی سیاست نہیں کی۔ جب بھی انہیں دباؤ محسوس ہوا وہ اپنے اتحادی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

    انٹرویو

    یہود و نصاریٰ کے ساتھ سیاسی تعلقات قرآن کریم کی رو سے

    یہود و نصاریٰ کے ساتھ سیاسی تعلقات قرآن کریم کی رو سے

    آیت نے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناو یعنی ان کے ساتھ معاملات میں خود کو کمزور مت سمجھو، البتہ آیت یہ نہیں کہتی کہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ گفتگو اور مذاکرات نہ کرو، ان کے ساتھ بالکل تعلقات نہ رکھو، بلکہ آیت میں تاکید اس بات پر ہے کہ ان کے مقابلے میں خود کو ضعیف مت سمجھو ۔

    ایران اور سعودی عرب تعلقات کی کیا اہمیت ہے؟ / ترکی اور اسرائیل کے تعلقات کیوں ناکامی کا شکار ہوں گے؟

    ایران اور سعودی عرب تعلقات کی کیا اہمیت ہے؟ / ترکی اور اسرائیل کے تعلقات کیوں ناکامی کا شکار ہوں گے؟

    صہیونی ریاست پوری دنیا پر یہودی نسلی برتری کے تصور پر استوار ہے، وہ نیل سے فرات تک کے علاقے کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے؛ اور اس صورت میں دوستی اور برابر کے تعلق کا تصور ہی ممکن نہیں چنانچہ زور زبردستی کے ذریعے آقا اور غلام کا تعلق ہی قائم ہو سکتا ہے

    ناجائز اسرائیلی ریاست خطے کے ممالک کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے سے عاجز کیوں؟

    ناجائز اسرائیلی ریاست خطے کے ممالک کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے سے عاجز کیوں؟

    حالیہ مہینوں میں مغربی ایشیا میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ایک طرف سے عرب ممالک ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف سے مغربی سفارتکار ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے احیاء میں حائل رکاوٹیں ہٹنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں؛ جس کی وجہ سے تل ابیب کی جعلی ریاست کو تشویش لاحق ہوئی ہے اور اس نے "ابراہیمی امن منصوبے" نامی سازش کے نفاذ کو ملتوی کر دیا ہے۔

    مغربی ایشیا کے دورے سے بائڈن کے مقاصد حاصل ہونا آسان نہیں
    ڈاکٹر فؤاد ایزدی:

    مغربی ایشیا کے دورے سے بائڈن کے مقاصد حاصل ہونا آسان نہیں

    عرب کٹھ پتلیاں اس حقیقت کے ادراک سے عاجز ہیں کہ صہیونیوں کو سنجیدہ چیلنجوں کا سامنا ہے اور اپنے امن کے تحفظ سے بھی بالکل بے بس ہیں، اسے خود بیرونی امداد کی ضرورت ہے، اور قطعی طور پر وہ کسی اور کی حمایت نہیں کر سکتا اور گرتا گرتے کا سہارا نہیں لیتا اور گرتا گرتے کی مدد نہیں کرسکتا۔

    کیا امریکہ اسرائیل کی نابودی کے اسباب فراہم کر رہا ہے؟

    کیا امریکہ اسرائیل کی نابودی کے اسباب فراہم کر رہا ہے؟

    ان تمام حالات اور مراحل کا حاصل یہ ہے کہ ایک طرف سے اسلامی مقاومت کے طاقتور ہونے کے ساتھ اسرائیل کی فیصلہ کن بیرونی مخالفت سامنے آتی ہے اور دوسری طرف سے صہیونی ریاست کے اندر بھی بہت سارے عوامل و اسباب ہیں جو اسے اندر سے منہدم کر رہے ہیں؛ خواہ بیرونی عوامل نہ بھی ہوں؛ تیسری طرف سے اسرائیل کو تقویت پہنچانے والے عناصر زوال پذیر ہوچکے ہیں۔

    تعارف شخصیات

    ڈیوڈ مِیدان کون ہے/ موساد کا سابق اہلکار اور خطے میں اسرائیلی دراندازی پر مامور (1)

    ڈیوڈ مِیدان کون ہے/ موساد کا سابق اہلکار اور خطے میں اسرائیلی دراندازی پر مامور (1)

    خطے کے ممالک میں اسرائیل کے نفوذ اور اثر و رسوخ میں ڈیوڈ مِیدان کا کردار اس قدر نمایاں تھا کہ بہت سے لوگ اسے نیتن یاہو کا اصل وزیر خارجہ کا عنوان دیتے تھے۔ بعض ذرائع نے اس کو خطے میں مصروف کار دہشت گردوں کے دادا کا لقب بھی دیا ہے۔

    ماتی کوچاوی کے پاؤں کا نشان سعودی عرب میں بھی!!!
    ماتی کوچاوی کون ہے؟ ۳

    ماتی کوچاوی کے پاؤں کا نشان سعودی عرب میں بھی!!!

    اے جی ٹی اور 4D کے ڈیزائن کردہ سسٹمز نے ٹینڈرز میں جمع کرائے گئے تین ابتدائی نمونوں میں سب سے زیادہ پوائنٹس حاصل کئے؛ لیکن اس کے باوجود یہ منصوبہ بظاہر انہيں سپرد نہیں کیا گیا۔

    ماتی کوچاوی کون ہے؟

    ماتی کوچاوی کون ہے؟

    عالمی سطح پر جدید سیکورٹی-انٹیلی جنس نظام کی تشکیل کے سالوں کے دوران ماتی کوچاوی نے اپنی توجہ ایسے شعبے پر مرکوز کرلی جس نے 11 ستمبر کے واقعے کے بعد تیزی سے فروغ پایا اور آج یہ شعبہ بڑی اور چھوٹی طاقتوں کے مقابلے کا میدان بن چکا ہے: سائبر اسپیس۔

    ماتی کوچاوی کون ہے؟ امارات کا پسندیدہ شخص اور اسرائیل کے جاسوسی آلات کا گاڈ فادر

    ماتی کوچاوی کون ہے؟ امارات کا پسندیدہ شخص اور اسرائیل کے جاسوسی آلات کا گاڈ فادر

    امارات کی طرف اشارہ اس لئے ہے کہ ابو ظہبی میں آل نہیان قبیلے کی آمرانہ بادشاہت اسرائیلی سائبر آلات اور سائبر حکمت عملیوں کی سب سے بڑی صارف ہے اور غاصب اسرائیلی ریاست میں سائبر ٹیکنالوجی کے تمام اہم افراد کا اس عربی ریاست کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    پروفیسر ڈیوڈ کول کا تعارف

    پروفیسر ڈیوڈ کول کا تعارف

    ڈیوڈ کولکا خیال ہے کہ "دہشت گرد ہماری آزادیوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ نہیں ہیں بلکہ یہ خطرہ ہماری حکومت کے رد عمل کی وجہ سے وجود میں آتا ہے"۔ ڈیوڈ کول جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر اور بائیں بازو کے جنگ مخالف دھڑے کے وکیل اور ممتاز کارکن ہیں۔

    تعارف مراکز

    لاجک اینڈ انڈسٹریز: جاسوسی ادارے کے انجنیئر اور سپائی ویئر کی تیاری

    لاجک اینڈ انڈسٹریز: جاسوسی ادارے کے انجنیئر اور سپائی ویئر کی تیاری

    ہ بتانا ضروری ہے کہ یہ تمام اقدامات امارات اور غاصب ریاست کے درمیان تعلقات کے باضابطہ اعلان سے کئی برس پہلے عمل میں لائے گئے ہیں، اور اسی بنا پر کوچاوی وہ پہلا اسرائیلی شخص سمجھا جاتا ہے جس نے خلیج فارس کے علاقے - بطور خاص متحدہ عرب امارات - میں ریشہ دوانی کی ہے اور اپنے لئے مضبوط پوزیشن کا انتظام کیا ہے۔

    حفاظتی سلوشنز کی 4D کمپنی کا قیام
    ماتی کوچاوی کون ہے؟ ۲

    حفاظتی سلوشنز کی 4D کمپنی کا قیام

    ایک سو (100) سے بھی زیادہ ڈاکٹر اور ماہر انجنیئر اس مجموعے کے مشینی امور، مصنوعی ذہانت اور اشیاء کا انٹرنیٹ میں کام کر رہے ہیں؛ اور سینسرز سے حاصل ہونے والی معلومات کے پراسیسنگ اور تجزیئے میں مصروف ہیں تا کہ فزیکی ماحولیات کو قابل فہم بنا دیں۔

    امریکی صہیونی تنظیم (ZOA) کا تعارف

    امریکی صہیونی تنظیم (ZOA) کا تعارف

    امریکی صہیونی تنظیم صرف صہیونی ریاست کے تحفظ کے لیے کام کرتی اور اس راہ میں پائے جانے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہے اس تنظیم کی ایک اہم سرگرمی اسرائیل پر حاکم نظام کی حمایت کے لیے دوسرے ممالک کے حکمرانوں میں نفوذ پیدا کرنا ہے۔

    الخلیل کی ۸ صدیاں پرانی تاریخی مسجد علی البکاء کا تعارف

    الخلیل کی ۸ صدیاں پرانی تاریخی مسجد علی البکاء کا تعارف

    مسجد علی البکاء کی تاریخ ۸ صدیاں پرانی ہے۔ اس کے اطراف میں یہودی کالونیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود آج بھی اس کے گنبد و مینار سے اذان کی صدا گونجتی سنی جا سکتی ہے۔

    یہودی تھنک ٹینک آئی این ایس ایس (INSS) کا تعارف

    یہودی تھنک ٹینک آئی این ایس ایس (INSS) کا تعارف

    ادارہ "آئی این ایس ایس" سلامتی، دہشت گردی اور عسکری امور پر متعدد مقالات اور کتابیں انگریزی اور عبرانی زبانوں میں شائع کرتا ہے۔ ان میں ہی میں سے ایک اہم تحقیقی مقالہ ایران کے میزائل سسٹم کے بارے میں ہے جس کا عنوان "ایران کا میزائل سسٹم: بنیادی تسدیدی اوزار" ہے۔

    تعارف کتب

    کتاب “22 روزہ جنگ” کا تعارف

    کتاب “22 روزہ جنگ” کا تعارف

    کتاب کا مقدمہ جنگ کے کلی پہلووں جیسے صہیونی حکومت کی جنایت و تعدی، صہیونی ظلم و جنایت کا بین الاقوامی انعکاس ،غزہ کی پائداری و مزاحمت اور مظلومیت وغیرہ کو بیان کر رہا ہے ۔

    تعارف کتاب “اسرائیل کی سوق الجیشی اہمیت اور اسکے اطراف و اکناف کا جائزہ”

    تعارف کتاب “اسرائیل کی سوق الجیشی اہمیت اور اسکے اطراف و اکناف کا جائزہ”

    یہ قیمتی کتاب، ایک مقدمہ، ایک پیش لفظ اور کلی عناوین کے تحت سات فصلوں پر مشتمل ہے، مصنف نے اسی طرح کتاب کے اختتام میں ضمیمہ کے عنوان سے ایک حصہ مخصوص کیا ہے جس میں اسرائیل کی موساد اور ایرانی شہنشاہیت کی خفیہ ایجنسی ساواک کے درمیان خفیہ اطلاعات، سیاسی اور اقتصادی مشترکہ تعاون کو بیان کیا گیا ہے ۔

    کتاب ‘یہودی قوم کیسے بنی؟’ کا تعارف

    کتاب ‘یہودی قوم کیسے بنی؟’ کا تعارف

    یہ کتاب تاریخ کے بارے میں ایک کاوش ہے، جس کا آغاز چند ذاتی داستانوں سے ہوتا ہے۔ مصنف اس کتاب کی سطور میں پہلی صدی عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی جبری جلاوطنی کے افسانے پر بطلان کی لکیر کھینچے ہیں اور کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے یہودی ان نومذہب یہودیوں کی اولاد میں سے ہیں جن کی جنم بومیاں مشرق وسطی اور مشرقی یورپ میں پھیلی ہوئی ہیں۔

    کتاب”جمہوریت کا اختتام ” تعارف و تبصرہ اور ایک مختصر تنقیدی جائزہ (دوسرا حصہ)

    کتاب”جمہوریت کا اختتام ” تعارف و تبصرہ اور ایک مختصر تنقیدی جائزہ (دوسرا حصہ)

    شاید یہی وجہ ہے کہ جان میری گیانو یہ مانتے ہیں کہ: مغربی لوگ یا بہ الفاظ دیگر مارڈرنیسم کی طرف کوچ کرنے والے بغیر کسی وقفہ کے اس راستہ پر چلتے چلتے اب تھک چکے ہیں جس نے چند صدیوں قبل ترقی و پیشرفت کی فکر کو ان کے متھے جڑ دیا تھا، چنانچہ اب ان کی یہ آرزو ہے کہ کچھ دیر وہ ٹہر کر آرام کر لیں اور پیشرفت کے لدے ہوئے اس بوجھ کو زمین پر دھر کر خود چھٹکارا پا جائیں۔

    کتاب”جمہوریت کا اختتام ” تعارف و تبصرہ اور ایک مختصر تنقیدی جائزہ (پہلا حصہ)

    کتاب”جمہوریت کا اختتام ” تعارف و تبصرہ اور ایک مختصر تنقیدی جائزہ (پہلا حصہ)

    اس بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نہ امریکہ اور نہ یورپ کوئی بھی عالمی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکیں گے ، لہذا بہتر یہی ہوگا کہ عالمی سطح پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چینلوں یا چند قطبی دنیا کی بات کی جائے اس لئے کہ جس طرح موجودہ دور کی صورت حال سامنے آ رہی ہے اس کے مطابق جمہوریت عالمی سیاست کے ایک پیکر کو وجود بخشنے کے لئے ناکار آمد ہے۔

    مسلم دنیا

    امام خمینیؒ کا فتویٰ اور متنازع کتاب شیطانی آیات کا مصنف سلمان رشدی

    امام خمینیؒ کا فتویٰ اور متنازع کتاب شیطانی آیات کا مصنف سلمان رشدی

    تاہم اس جانب امام خمینیؒ کی طرف سے شیطانی آیات کے مصنف سلمان رشدی کے خلاف قتل کا حکم آنے کے بعد 15 خرداد فاؤنڈیشن نے سلمان رشدی کو قتل کرنے والے کو دو میلین ڈالر انعام کا اعلان کیا۔

    مسئلہ فلسطین کا قابل عمل حل کیا ہے؟

    مسئلہ فلسطین کا قابل عمل حل کیا ہے؟

    مسئلہ فلسطین سے متعلق قابل عمل واحد حل ہے کہ جس پر تمام فلسطینی متفق ہیں اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ آج دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مہاجر فلسطینی کی پہلی خواہش یہی ہے کہ اس کو وطن واپسی کا حق حاصل ہو، حق خود ارادیت ہو، تاکہ وہ اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔

    نئے عالمی نظام کے لئے روس ،ترکی اور ایران کی جدوجہد

    نئے عالمی نظام کے لئے روس ،ترکی اور ایران کی جدوجہد

    جوئے بائیڈن کے دورے کے فوراً بعد روسی صدر ولادیمیر پوتین اور ترکی صدر طیب رجب اردوغان ایران پہونچ گئے ۔ایرانی صدر کے ساتھ ان کی تصویریں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ نیا ورلڈ آڈر تیار ہوچکاہے ۔یہ تصویریں ان طاقتوں کی نیندیں اُڑا دینے والی تھیں جو عالمی سطح پر ایران کو تنہا کرنا چاہتی ہیں

    ناجائز اسرائیلی ریاست خطے کے ممالک کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے سے عاجز کیوں؟

    ناجائز اسرائیلی ریاست خطے کے ممالک کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے سے عاجز کیوں؟

    حالیہ مہینوں میں مغربی ایشیا میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ایک طرف سے عرب ممالک ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف سے مغربی سفارتکار ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے احیاء میں حائل رکاوٹیں ہٹنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں؛ جس کی وجہ سے تل ابیب کی جعلی ریاست کو تشویش لاحق ہوئی ہے اور اس نے "ابراہیمی امن منصوبے" نامی سازش کے نفاذ کو ملتوی کر دیا ہے۔

    اسرائیل کے خاتمے کو بہت نزدیک دیکھ رہا ہوں، سید حسن نصر اللہ
    بائیڈن خطے میں تیل اور گیس کی تلاش میں ہے

    اسرائیل کے خاتمے کو بہت نزدیک دیکھ رہا ہوں، سید حسن نصر اللہ

    سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ حزب اللہ کے تعلقات نظریاتی مسائل پر نہیں بلکہ سیاسی مسائل کی وجہ سے ہیں۔

    باضابطہ مذاکرات کیلئے خواہش کا اظہار

    باضابطہ مذاکرات کیلئے خواہش کا اظہار

    ایران سعودی تعلقات کی بہتری اور بحالی کی راہ میں بعض رکاوٹیں موجود ہیں اور صیہونی حکومت تہران اور ریاض تعلقات کی بہتری اور بحالی کو سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ میں اس اقدام کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے۔

    زوال پذیر ہوتے امریکی اتحادوں کے مقابلے میں ابھرتا ایران روس اتحاد

    زوال پذیر ہوتے امریکی اتحادوں کے مقابلے میں ابھرتا ایران روس اتحاد

    اب تک روس اور ایران نے مل کر خطے میں داعش جیسے تکفیری دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ روسی صدر کا دورہ تہران ظاہر کرتا ہے کہ یہ تعاون جاری رہے گا اور خطے کے استحکام کیلئے یہ حکمت عملی مزید آگے بڑھائی جائے گی۔

    عالمی سامراج

    برطانیہ کا ایشیائی تجارت پر تسلط کا نقطہ آغاز

    برطانیہ کا ایشیائی تجارت پر تسلط کا نقطہ آغاز

    الزبتھ اول کا دور (۱۶۰۳-۱۵۵۸) برطانوی نوآبادی سلطنت کی شروعات تھی۔ اسی دور میں سلطنتی خاندان نے مغرب میں ’غلاموں‘ کا تجارت کا کاروبار شروع کیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب یہودیوں نے برطانوی دربار میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور ملکہ سے خود کو اتنا نزدیک کیا کہ وہ عبری زبان سیکھنے کی شوقین ہو گئی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی صیہونی وفاداری

    امریکی صدر جوبائیڈن کی صیہونی وفاداری

    فلسطین امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا دورہ کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر پایا ہے، کیونکہ فلسطینی دھڑوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وہ غاصب صیہونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔

    بحر سے نہر تک کی فلسطینی حکمت عملی، صہیونیت کا حتمی زوال

    بحر سے نہر تک کی فلسطینی حکمت عملی، صہیونیت کا حتمی زوال

    یائیر لاپیڈ نے ایسے حال میں وزارت عظمیٰ کا موقع حاصل کیا ہے کہ صہیونی ریاست کو پیچیدہ حقائق کا سامنا ہے۔ مقبوضہ سرزمینوں میں سیاسی اور معاشی کامیابیوں کو بڑھتے ہوئے آبادیاتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    خطے میں امریکی شرارت کے نئے آثار

    خطے میں امریکی شرارت کے نئے آثار

    حقیقت یہ ہے کہ جو بائیڈن خطے اور دنیا میں امن و استحکام کی خاطر سرگرم عمل نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد پراکسی جنگوں اور دہشت گردانہ اقدامات کے ذریعے سکیورٹی بحران ایجاد کر کے دنیا کے مختلف حصوں میں موجود قدرتی ذخائر کی لوٹ مار اور اپنا فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔

    براہ کرم بڈھے کو “بلا وجہ” مت ستاؤ
    بائڈن کا دورہ مغربی ایشیا؛

    براہ کرم بڈھے کو “بلا وجہ” مت ستاؤ

    جیسا کہ مغربی اہلکاروں نے اپنے پیغامات میں کہا ہے، اگر بائڈن کا دورہ مغربی ایشیا "ایران کا دورہ" ہو، تو ہم ابھی سے مسٹر پریزیڈنٹ کے مشیروں سے کہتے ہیں کہ "بڈھے کو بلا وجہ مت ستاؤ"۔

    بائڈن “عظیم تر اسرائیل” نامی خواب کے تعاقب میں
    نیل سے فرات تک کا سراب؛

    بائڈن “عظیم تر اسرائیل” نامی خواب کے تعاقب میں

    صہیونی اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے فاش کیا ہے کہ بائڈن کے سفر کے آغاز سے پہلے، پس پردہ وسیع پیمانے پر کھچڑیاں پک رہی تھیں، اور کوشش یہ ہے کہ مغربی ایشیا میں بائڈن کی آمد سے پہلے ہی سازباز کا یہ پایۂ تکمیل تک پہنچے۔

    دریائے نیل سے فرات تک کا سراب/ بائیڈن “اسرائیل” کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش میں

    دریائے نیل سے فرات تک کا سراب/ بائیڈن “اسرائیل” کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش میں

    خطے میں امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد سے جو عجیب ترین سیاسی امید بندھی ہوئی ہے اس کا تعلق بنجمن نیتن یاہو سے ہے جنہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ مکمل معاہدہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    کالم

    صہیونی رژیم اور پاکستان میں تکفیری ٹولے

    صہیونی رژیم اور پاکستان میں تکفیری ٹولے

    پاکستان میں تکفیری ٹولوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اس وقت بہتر سمجھ میں آتے ہیں جب یہ جان لیا جائے کہ ان تکفیری گروہوں کے اصلی ٹھکانے ’’پشتون قبائل‘‘ میں پائے جاتے ہیں۔

    ۱۸ سکینڈ کی نماز

    ۱۸ سکینڈ کی نماز

    کیا کوئی ایسی نماز ہے جسے ۱۸ سیکنڈ میں ادا کر دیا جائے کتنے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان  اس بات کو بھی واضح نہیں کر پا رہے ہیں کہ اس نماز کا تعلق ہم سے نہیں ہے ۔ ہم سب کو مل کر اس طرح کی چیزوں کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ایک زنجیر کے حلقوں کی صورت اس طرح کی بہت سی چیزیں سامنے آ سکتی ہیں جنکا سد باب ملک کی سالمیت و ملک میں امن و چین کے لئے ہر ایک  ہندوستانی پر فرض ہے ۔

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا برصغیر میں نقطہ آغاز

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا برصغیر میں نقطہ آغاز

    برطانوی ملکہ الزبتھ اول کی قائم کردہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۶۰۰ء میں جب برصغیر کی سرزمین پر پاؤں رکھا تھا تو کسی کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سورت اور مدراس میں مسالہ جات کے تجارتی مراکز قائم کرنے والی یہ بے ضرر سی کمپنی کسی دن پورے ہندوستان پر برطانوی راج کی راہ ہموار کر دے گی۔

    بحر سے نہر تک کی فلسطینی حکمت عملی، صہیونیت کا حتمی زوال

    بحر سے نہر تک کی فلسطینی حکمت عملی، صہیونیت کا حتمی زوال

    یائیر لاپیڈ نے ایسے حال میں وزارت عظمیٰ کا موقع حاصل کیا ہے کہ صہیونی ریاست کو پیچیدہ حقائق کا سامنا ہے۔ مقبوضہ سرزمینوں میں سیاسی اور معاشی کامیابیوں کو بڑھتے ہوئے آبادیاتی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    پاکستان اور فلسطین، جسد واحد

    پاکستان اور فلسطین، جسد واحد

    اگر ماضی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے بھی برصغیر کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں سنہ1920ء میں میڈیکل ٹیم فلسطین روانہ کی تھی، اسی طرح مختلف اوقات میں فلسطینیوں کے حق میں برصغیر میں فلسطین ڈے منائے جاتے رہے اور اسی طرح سنہ1940ء میں قرارداد پاکستان کے ساتھ ساتھ قرارداد فلسطین پیش کی گئی اور فلسطین فنڈ قائم کرکے فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت کی گئی۔

    اسرائیل نواز شیخ محمد العیسیٰ خطیب عرفات مقرر! / وفا کا تقاضا ہے اب یہی گویا!!!
    یہودیوں کی چاپلوسی کی پاداش؛

    اسرائیل نواز شیخ محمد العیسیٰ خطیب عرفات مقرر! / وفا کا تقاضا ہے اب یہی گویا!!!

    غاصب صہیونی ریاست نے العیسیٰ کی اس چاپلوسی کو خراج تحسین پیش کیا اور صہیونی وزارت خارجہ کی ویب گاہ نے ایک ویڈیو کلپ نشر کیا جس میں محمد العیسیٰ اور اس کے کچھ ہم مسلک مولویوں کو آشوٹس کیمپ کا دورہ اور یہودی مقتولین کے لئے دعا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو کلپ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کیمپ میں 11 لاکھ افراد مارے گئے تھے اور اکثر مقتولین یہودی تھے!

    مڈل ایسٹ مانیٹر: کیا اسرائیل ایران کے قائد کی پیشین گوئی سے پہلے مٹ جائے گا؟
    اسرائیلی ریاست کا ڈوبتا ہوا سراہ۔ ۸

    مڈل ایسٹ مانیٹر: کیا اسرائیل ایران کے قائد کی پیشین گوئی سے پہلے مٹ جائے گا؟

    ایران کے قائد آیت اللہ خامنہ نے سنہ 2015ع‍ میں اعلان کیا کہ "اسرائیل اگلے 25 برسوں کو نہیں دیکھ سکے گا؛ اور مسلمان مجاہدین کا دلیرانہ اور مجاہدانہ جذبہ اس عرصے کا ایک لمحہ بھی اس کو چین و سکون سے نہیں رہنے دیں گے"۔ آیت اللہ خامنہ سے پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی نے بھی اسرائیل کی نابودی کی خبر دیتے ہوئے اس کو "بہت قریب" قرار دیا تھا۔

    اسلامی مناسبتیں

    واقعہ کربلا؛ کیا امام حسین (علیہ السلام) کو شیعہ کوفیوں نے شہید کیا؟

    واقعہ کربلا؛ کیا امام حسین (علیہ السلام) کو شیعہ کوفیوں نے شہید کیا؟

    کیا کربلا کے واقعے کے اصل بانی کوفی تھے؟ کیا شیعہ امام حسین (علیہ السلام) کے قتل میں شریک تھے جیسا کہ بنی امیہ کے فکری احفاد دعویٰ کرتے ہیں؟

    عوامل و اسباب عزت اور شاہراہ حسینیت

    عوامل و اسباب عزت اور شاہراہ حسینیت

    عزت کو گوہر نایاب کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ ہر جگہ ہاتھ نہیں آتی اور وہیں ملتی ہے جہاں انسان بندگی کی حدوں کو نہیں لانگتا اور حدود بندگی کی پاسداری و نگہداشت آسان نہیں ہے چنانچہ  صاحب تفسیر المیزان علامہ طباطبائی لکھتے ہیں کہ کلمۂ عزت، نایابی کے مفہوم کو بیان کرتا ہے لہذا جب کہا جاتا ہے کہ فلاں چیز عزیز ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس تک آسانی سے رسائی ممکن نہیں ہے

    قیس بن مسہر صیداوی اسدی
    جانثاران حسین علیہ السلام۔ ۲

    قیس بن مسہر صیداوی اسدی

    ابن زیاد کے حکم کے مطابق قیس کے ہاتھوں کو پشت سے  باندھ کر دار الامارہ کی بلندی پر لے جایا گیا اور جلاد نے بلندی سے قیس کو  گرا دیا  جس سے آپ کی بدن کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور آپ نے جان جان آفریں کے سپرد کی  یقینا جناب مسلم کی طرح گرتے گرتے قیس نے آواز دی ہوگی السلام علیک یا ابا عبد اللہ الحسین ۔

    کربلا اور اسکی انقلاب آفرینیاں

    کربلا اور اسکی انقلاب آفرینیاں

    آج ہماری ایک بڑی مشکل یہ ہوگئی ہے کہ ہمارے درمیان ایسے ضمیر فروش لوگ گھس آئے ہیں جو نہ فکر حسینیت سے آشنا ہیں نہ ہی انہیں کربلا کی آفاقیت کا علم ہے اور نہ امام حسین ع کی قربانیوں کی عظمت کو وہ سمجھتے ہیں۔

    کربلا حادثہ نہیں احیائے انسانیت اور تحفظ دین ہے

    کربلا حادثہ نہیں احیائے انسانیت اور تحفظ دین ہے

    پس وقت کا تقاضا ہے کہ امت مسلمہ کربلا کے ایک ایک کردار کو اپنا رول ماڈل بنائیں ۔عزاداری کے ساتھ ساتھ ان کی سیرت کو بھی اپنائیں تاکہ آج جوعالمی طاغوت کے ساتھ جگہ جگہ پر معرکے بپا ہیں ان کو بآسانی سے سر کرلیا جائے۔جب تک کربلا کے جانبازوں کے کردار ،افکار اور نظریات کو ہم اپنے معاشرے میں نافذ نہیں کریں گے تب تک کربلا کے اصل ہدف اور مقصد کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

    حسین آئے اس لئے کہ کہیں آفتاب پرست قبلہ نما نہ بن بیٹھیں

    حسین آئے اس لئے کہ کہیں آفتاب پرست قبلہ نما نہ بن بیٹھیں

    حسین (علیہ السلام) نے آسان راستہ منتخب نہیں کیا، بلکہ مشکل ترین راستہ انتخاب کیا، اپنے لئے نہیں بلکہ آزادی، انسان کی شرافت و حقیقت، انسان ہونے، انسان رہنے اور انسان کی صورت میں ہی جانے کے لئے۔

    این این ہانی ابن عروہ
    جانثاران حسین علیہ السلام۔ ۱

    این این ہانی ابن عروہ

    جب لوگ اپنے ایمان کی بولی لگا رہے تھے تو یہ عاشق حسین آواز دے رہا تھا عشق حسین نے مجھے اتنی طاقت دے دی ہے کہ جس ظالم سے پورا کوفہ تھر تھر کانپ رہا ہے میں اسکے سامنے اسکے اشارے پر ایک پیر بھی اٹھا کر رکھنے کو تیار نہیں ہوں ، جہاں ہوں حسینت کے ساتھ ہوں اور ڈٹا رہوں گا میرا نام میرا اعتبار میری خاندانی وجاہت سب حسین پر قربان ۔

    حسینؑ، شہید انسانی

    حسینؑ، شہید انسانی

    حقیقت یہ ہے کہ یزید کو نماز روزہ اور حج سے کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اُسے اس نظام سے مسئلہ تھا، جو رسول لے کر آئے تھے اور نظامِ رسالت بنیادی طور پر ان اصولوں پر مشتمل تھا، جس کی اساس تہذیب پرستی اور افضلیت بشر تھی۔

    ایام عزا کے فانوس میں توحیدی تصور حیات کی شمع جلانے کی ضرورت

    ایام عزا کے فانوس میں توحیدی تصور حیات کی شمع جلانے کی ضرورت

    امام حسین علیہ السلام کو صرف اپنی فکر نہ تھی بلکہ سماج و معاشرے کی تڑپ آپکے دل میں تھی آ پ دیکھ رہے تھے توحیدی راستے سے ہٹ جانے والا یہ سماج کس قدر پستی کی طرف جا رہا ہے لہذا آپ نے دوبارہ اسے اپنی منزل پر لانے کے لئے قیام فرمایا یہ عزاداری اسی قیام کربلا کا تسلسل ہے ہم سب کے لئے لازم ہے کہ اسے بھرپور انداز میں زور و شور کے ساتھ منائیں اور کوشش کریں کہ اس کے سایے میں توحیدی تصور حیات واضح ہو سکے انشا ء اللہ۔

    ماہ ذی الحجہ کا آخری عشرہ اور عید مباہلہ کے تعلیمات

    ماہ ذی الحجہ کا آخری عشرہ اور عید مباہلہ کے تعلیمات

    آج اگر یہ کہا جائے کہ مباہلہ سے ہم نے کیا حاصل کیا تو مباہلہ کا ایک اہم درس یہی ہے کہ ہم سجھ لیں کل اگر پیغام نبی رحمت ص میں سچائی نہ ہوتی صرف زبانی دعوے ہوتے تو کبھی اپنی زبانی نصارائے نجران کبھی اپنی شکست کا اعلان نہ کرتے ، اگر پیغام توحید کو محض تلوار کے بل پر پھیلانے کی کوشش کی گئی ہوتی تو ہرگز مباہلہ میں کردار کی لازوال فتح نہ ہوتی

    اوپر جاؤ