اسرائیلی بربریت، غزہ میں شادی کی تقریب پر بمباری، متعدد شہید

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے ماحول نے معمر فلسطینی خاتون سالہ نعامہ طلبہ ابو قائدہ اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب کے دوران اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئیں۔ دوسری طرف دشمن کی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں شادی کی تقریب ماتم میں تبدیل ہوگئی۔

فاران: ذرائع کے مطابق بزرگ ابو قایدہ نے جارحیت کے طول پکڑنے یا ان کے خاندان کے کسی فرد کو اس کی وجہ سے کسی قسم کا نقصان پہنچنے کے خوف سے اس نے شادی تقریب مختصر وقت میں مکمل کرنے پر اصرار کیا۔

ابو قایدہ کی اپنے بیٹے، دولہا کی شادی کی گاڑی میں سوار ہوئی اپنے بچوں اور نواسوں کو تاکید کی کہ وہ لوگوں کو تنگ نہ کریں اور اسرائیلی جارحیت کے ماحول کی وجہ سے معمولی اور سادہ انداز میں خوشی کا اظہار کریں۔

“ام ولید” کے نام سے مشہور بزرگ خاتون جو شمالی غزہ کی پٹی میں بیت حانون کے ایک گاؤں میں رہتی ہے۔ وہ بارات لے کر مشکل سے اس دلہن کے گھر پہنچ سکی جو ان کا استقبال کر رہی تھی۔اس کی آمد پر “دولہے کی ماں” تقریب میں پہنچ گئی اور گاڑی ان کے گھر واپس جانے کے لیے تیزی سے چلی گئی۔ شادی کی معمولی تقریب سے دولہے کے گھر واپسی پر اسرائیلی جنگی طیاروں نے اس کار سے ملحقہ ٹارگٹ پر بمباری کی جس میں عمر رسیدہ ابو قایدہ دولہا اور دلہن کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق اور بعض زخمی ہو گئے۔

طبی ٹیموں نے شہید ابو قایدہ کی لاش کو نشانہ بنائے جانے والے مقام سے غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع انڈونیشیا کے اسپتال منتقل کیا۔