کل 1941 آج 0
  • مطابق با: Friday - 12 - August - 2022
  • بایگانی‌های برصغیر - فاران

    بہار کی سیاسی تاریخ اور نتیش کمار

    بہار کی سیاسی تاریخ اور نتیش کمار

    بہار کی سیاست میں لالو پرساد یادو کے بعد نتیش کمار ہی ایک بڑا چہرہ بن گئے ہیں۔ جنہوں نے دبائو میں رہ کر کبھی بھی سیاست نہیں کی۔ جب بھی انہیں دباؤ محسوس ہوا وہ اپنے اتحادی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

    ملک کے موجودہ مسائل اور تصور مہدویت کے تقاضے

    ملک کے موجودہ مسائل اور تصور مہدویت کے تقاضے

    شک نہیں کہ موجودہ ملک کے حالات میں ہم سب کو اپنی صفوں کو منظم کر کے ایک متعین ہدف کی طرف آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ، جہاں ہم نے امید کا دامن چھوڑا وہی سے ہماری تباہی کی بھیانک داستان رقم ہونا شروع ہو جائے گی  جس کے لئے تمام اسباب مہیا ہیں قلم و قرطاس و خون کی روشنائی سبھی کچھ مہیا ہے بس ایک امید ہے جس کے سہارے ہم جی رہے ہیں

    برطانیہ کا ایشیائی تجارت پر تسلط کا نقطہ آغاز

    برطانیہ کا ایشیائی تجارت پر تسلط کا نقطہ آغاز

    الزبتھ اول کا دور (۱۶۰۳-۱۵۵۸) برطانوی نوآبادی سلطنت کی شروعات تھی۔ اسی دور میں سلطنتی خاندان نے مغرب میں ’غلاموں‘ کا تجارت کا کاروبار شروع کیا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب یہودیوں نے برطانوی دربار میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور ملکہ سے خود کو اتنا نزدیک کیا کہ وہ عبری زبان سیکھنے کی شوقین ہو گئی۔

    ملک کے موجودہ حالات میں اتحاد و ہمدلی کی ضرورت

    ملک کے موجودہ حالات میں اتحاد و ہمدلی کی ضرورت

    ہم اگر مل جل کر قدم بڑھائیں گے تو ایسا نہیں ہے کہ اسکا اثر نہیں ہوگا یقینا اثر بھی ہوگا ابھی توہین رسالت کے معاملے میں ہی دیکھ لیں  کچھ ہی اسلامی ممالک نے زبان کھولی تھی اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟  اگر سارے اسلامی ممالک ایک پلیٹ فارم پر ہوتے تو یقینا اسکا اثر ہی کچھ اور ہوتا ؟

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا برصغیر میں نقطہ آغاز

    برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا برصغیر میں نقطہ آغاز

    برطانوی ملکہ الزبتھ اول کی قائم کردہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ۱۶۰۰ء میں جب برصغیر کی سرزمین پر پاؤں رکھا تھا تو کسی کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سورت اور مدراس میں مسالہ جات کے تجارتی مراکز قائم کرنے والی یہ بے ضرر سی کمپنی کسی دن پورے ہندوستان پر برطانوی راج کی راہ ہموار کر دے گی۔

    اتحاد اسلامی کے قیام کے لئے ضروری باتیں

    اتحاد اسلامی کے قیام کے لئے ضروری باتیں

    آج دنیا عالم اسلام کے نمائندہ چہروں کی طرف نگراں ہے کہ وہ کس طرح جدید چیلینج کو قبول کرتے ہیں اور حقیقی اسلام کی تبلیغ کے لئے کیا مناسب اقدام کرتے ہیں ۔اس راہ میں پیش رفت کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہندوستان میں ہمارا موثر اتحاد قائم ہوسکے۔

    کبھی راویانِ خبرزدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے

    کبھی راویانِ خبرزدہ پسِ واقعہ بھی تو دیکھتے

    اس بہیمانہ قتل کی واردات سے ٹھیک پہلے اور بعد کے سیاسی منظرنامے کی تفہیم بھی نہایت ضروری ہے ۔سرکار کی ’اگنی پتھ ‘اسکیم کے خلاف پورے ملک کے نوجوانوں کے دلوں میں غم و غصے کا لاوا دہک رہا تھا ۔مشتعل نوجوان سرکار کے اس منصوبے کے خلاف سڑکوں پر تھے اور قانون کی پرواہ کئے بغیرمظاہروں میں تشدد کو راہ دی جارہی تھی

    ہندوستانی نوجوان فکری و سیاسی استحصال کا شکار

    ہندوستانی نوجوان فکری و سیاسی استحصال کا شکار

    افسوس یہ ہے کہ گذشتہ ستّر سالوں میں مسلمانوں نے حکومتی شعبوں میں نفوذ کی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ان کے سیاسی آقائوں نے انہیں سیاسی غلامی اور دلالی پر مجبور کردیا ۔آج صورتحال یہ ہے کہ مسلمان سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک بھی نہیں رہا اور اس کے سیاسی آقائوں نے بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی

    اسرائیل، بے نظیر بھٹو اور بلاول

    اسرائیل، بے نظیر بھٹو اور بلاول

    کس نے سوچا ہوگا کہ جب عرب ممالک حکمرانوں میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی دوڑ لگی ہوگی اور سعودی عرب جیسا عرب دنیا کا قائد بھی یہود نوازی کے اس کھیل میں اپنی عزت، سلامتی اور وقار کو دائو پر لگائے کھڑا ہوگا تو پاکستان میں محترمہ بے نظیر کا جواں سال بیٹا بلاول حکومت کا حصہ ہوگا اور وہ بھی بطور وزیر خارجہ۔

    اوپر جاؤ